ٹرمپ کے ’اسٹون ایج‘ بیان پر ایران کا سخت ردعمل- ’تہذیبیں بمباری سے ختم نہیں ہوتیں‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران کو ’اسٹون ایج‘ میں دھکیلنے کے بیان پر تہران نے سخت جواب دیا۔ ایران نے کہا کہ ہزاروں سال پرانی تہذیب کو دھمکیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور یہ بیان لاعلمی کی علامت ہے

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سخت بیان کے جواب میں ایران نے اپنی قدیم تہذیب اور تاریخی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ تہذیبیں بمباری سے ختم نہیں ہوتیں اور ایسی دھمکیاں کسی طاقت نہیں بلکہ لاعلمی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کی تہذیب سات ہزار سال سے زائد قدیم ہے، جبکہ امریکہ کی تاریخ محض ڈھائی سو سال پر مشتمل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی قوم کی اصل پہچان اس کی تاریخ، ثقافت اور انسانیت کے لیے خدمات سے ہوتی ہے، اور ایران نے ہزاروں برسوں میں علم و دانش کے میدان میں جو کردار ادا کیا، دنیا آج بھی اس کی مقروض ہے۔
ایران نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ایسی مضبوط اور گہری جڑوں والی تہذیب کو بمباری کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے اور بیانات کی جنگ بھی اسی تناسب سے تیز ہو رہی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایران کو ’اسٹون ایج‘ میں واپس بھیجنے کی دھمکی دی تھی، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ جنوبی افریقہ میں قائم ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ جب دنیا کے دیگر حصے ابتدائی دور میں تھے، تب ایران انسانی حقوق جیسے تصورات کو تحریری شکل دے رہا تھا۔ بیان میں سائرس سلنڈر کا حوالہ دیتے ہوئے ایران نے اپنی تاریخی برتری کو اجاگر کیا۔
ایرانی حکام نے مزید کہا کہ ایران نے سکندر اعظم اور منگولوں جیسے بڑے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور اس کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھی، کیونکہ ایران محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک مستقل تہذیب ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر سید ماجد موسوی نے بھی امریکی بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنی محدود تاریخ کے باوجود ایک قدیم تہذیب کو دھمکانے کی کوشش کر رہا ہے، جو اس کی کمزور سوچ کی علامت ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے قریب ہے اور آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کو اس کی موجودہ حالت سے بھی پیچھے دھکیل سکتا ہے، جسے انہوں نے ’اسٹون ایج‘ سے تعبیر کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے سخت بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ لفظی جنگ عملی تصادم میں تبدیل ہوتی ہے یا سفارتی سطح پر کوئی راستہ نکلتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔