روس میں پوتن سے عباس عراقچی کی ملاقات، امریکہ پر سخت تنقید، مذاکرات کے امکان کا اشارہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے مذاکرات کے امکان کا عندیہ بھی دیا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس کے دورے کے دوران سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سامنے ڈٹا ہوا ہے اور امریکہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے خود بات چیت کی درخواست کی ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عراقچی نے اس موقع پر روس کو ایران کا اہم دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کریملن کا شکریہ بھی ادا کیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی اس ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے اسے مفید قرار دیا، جبکہ روسی میڈیا کے مطابق یہ گفتگو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس سے قبل روس نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا تھا کہ روس امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عباس عراقچی مختلف ممالک کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں وہ مختصر عرصے میں دوسری بار اسلام آباد پہنچے اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایک اہم دستاویز بھی پیش کی، جس میں ایران کی شرائط اور تجاویز شامل تھیں، خاص طور پر جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز سے متعلق نکات پر زور دیا گیا تھا۔
پاکستان کے بعد عراقچی عمان گئے، جہاں انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایران نے اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کو عالمی مفاد قرار دیتے ہوئے علاقائی تعاون پر زور دیا۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ ہرمز پر کنٹرول ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ان حالات میں روس کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ایران کا قریبی اتحادی ہے بلکہ ممکنہ ثالث کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے۔ عباس عراقچی کے حالیہ بیانات سے یہ اشارہ ضرور ملا ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، تاہم آگے کا راستہ اب بھی غیر یقینی نظر آتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔