ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ پر جنگی نقصانات چھپانے کا الزام، کہا- اصل نقصان 81 طیاروں سے کہیں زیادہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر ایران جنگ کے نقصانات چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں کا اصل نقصان سی آر ایس کی رپورٹ میں درج 81 سے بھی کہیں زیادہ ہے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر ایران کے خلاف جنگ میں ہونے والے فوجی نقصانات کی اصل تعداد چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی طیاروں اور دیگر عسکری اثاثوں کو پہنچنے والا نقصان سرکاری طور پر بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
عراقچی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکی کانگریس کی تحقیقی شاخ ’کانگریشنل ریسرچ سروس‘ (سی آر ایس) کی تازہ رپورٹ شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔ سی آر ایس کی 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی رپورٹ کے مطابق 28 فروری 2026 سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران کم از کم 81 فکسڈ وِنگ اور روٹری وِنگ طیارے، جن میں ڈرون بھی شامل ہیں، تباہ یا نقصان زدہ ہوئے ہیں۔
عراقچی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مئی میں کانگریشنل ریسرچ سروس نے اعتراف کیا تھا کہ ایرانی فوج نے امریکہ کے 42 فوجی طیاروں کو نشانہ بنایا تھا، لیکن اب یہ تعداد 81 تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے بقول، اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی فوجی اڈے واقعی معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں تو سینٹ کام کسی موجودہ سینیٹر کو ان اڈوں کا معائنہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہا۔
عراقچی کا یہ تبصرہ ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی کے حالیہ بیان کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مرفی نے کہا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع اور سینٹ کام نے انہیں قطر میں واقع ’العدید ایئر بیس‘ کا معائنہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ مرفی کے مطابق انہوں نے اپنے دورۂ مشرقِ وسطیٰ کے دوران اس اڈے تک رسائی کی درخواست کی تھی، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔
عراقچی نے امریکی حکام کو طنزیہ انداز میں یاد دلایا کہ ’’آپ کچھ وقت کے لیے تمام لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں‘‘ اور اسی تناظر میں سینٹ کام کی جانب سے فوجی اڈوں کے معائنے کی اجازت نہ دینے کو نقصان چھپانے کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔
تاہم کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں 81 طیاروں کی تعداد کو مستقل طور پر تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد قرار نہیں دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں وہ طیارے بھی شامل ہیں جنہیں نقصان پہنچا اور ممکن ہے کہ بعض دوبارہ فعال کر دیے گئے ہوں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار میں مستقبل میں تبدیلی ممکن ہے، کیونکہ معلومات مختلف سرکاری اور عوامی ذرائع سے مرتب کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں ایف-15 ای، ایف-35 اے، اے-10، کے سی-135 ٹینکرز، ای-3 سینٹری اور مختلف ڈرونز سمیت کئی امریکی فضائی اثاثوں کے نقصان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کے نقصان کا بھی اندراج ہے۔
یوں عراقچی کا دعویٰ ایک امریکی سرکاری تحقیقی رپورٹ میں درج 81 طیاروں کے نقصان یا تباہی کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، تاہم ان کا یہ کہنا کہ اصل نقصان اس سے بھی زیادہ ہے، ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ ہے اور سی آر ایس رپورٹ خود اس اضافی تعداد کی تصدیق نہیں کرتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
