ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایس جے شنکر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور ہرمز بحران پر گفتگو کی گئی، جبکہ مسلسل رابطے پر اتفاق کیا گیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان بدھ کی شام ٹیلیفون پر اہم بات چیت ہوئی، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی رابطے میں رہتے ہوئے حالات پر نظر رکھی جائے گی۔

ایس جے شنکر نے اس گفتگو کی تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا فون موصول ہوا، جس کے دوران موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ گفتگو ہوئی اور باہمی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق پایا گیا۔ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔


عباس عراقچی حالیہ دنوں میں متعدد ممالک کے دورے پر بھی رہے ہیں، جہاں انہوں نے علاقائی صورتحال اور خاص طور پر آبنائے ہرمز سے جڑے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اپنے دورۂ عمان کے دوران انہوں نے سلطان ہیثم بن طارق اور وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سمندری گزرگاہوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام پر گفتگو کی گئی۔

عراقچی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کے طور پر یہ ضروری ہے کہ محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں، تاکہ نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی برادری کو بھی فائدہ پہنچے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمسایہ ممالک ایران کی اولین ترجیح ہیں۔

اپنے دورے کے آخری مرحلے میں ایرانی وزیر خارجہ روس بھی گئے، جہاں انہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی مسائل اور عالمی سطح پر جاری کشیدگی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تناؤ کے تناظر میں روس سے حمایت کی بھی درخواست کی۔

روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ولادیمیر پوتن نے اس موقع پر کہا کہ روس خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا اور ایسے اقدامات کی حمایت کرے گا جو عوام کے مفاد میں ہوں۔ انہوں نے ایرانی عوام کی ثابت قدمی کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ موجودہ مشکل حالات جلد ختم ہوں گے اور خطے میں استحکام قائم ہوگا۔