ایران کے وزیر خارجہ کا امریکہ و اسرائیل پر نسل کشی کا الزام، کہا -’اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کو خطرہ‘

ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر ایران میں حملوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا بنیادی ڈھانچہ شدید خطرے میں ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں نسل کشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال پر خاموش نہ رہے اور کھل کر ان حملوں کی مخالفت کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ عالمی انسانی اقدار اور اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایران کے شہر میناب میں شجاریہ طیّبہ گرلز اسکول پر ہونے والے حملے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں 175 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا جس کا مقصد شہری آبادی کو خوفزدہ کرنا تھا۔


سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس وقت ایک غیر قانونی جنگ کا سامنا کر رہا ہے، جو اس پر زبردستی مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے ایسے وقت میں شروع کیے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی بات چیت جاری تھی۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں سفارتکاری کو نقصان پہنچانے اور مذاکراتی عمل کو پٹری سے اتارنے کی کوشش ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل خود کو جدید ترین فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں کا حامل قرار دیتے ہیں، اس لیے ایسے حملوں کو غلطی یا حادثہ قرار دینا قابل یقین نہیں۔ اسکولوں، اسپتالوں، ایمبولینسوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسے جنگی جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں ایران بھر میں 600 سے زائد تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا دائرہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں بلکہ طبی عملے، امدادی کارکنوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔


انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’جنگی جرم‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرم‘ جیسے الفاظ بھی ان کارروائیوں کی سنگینی کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق حملوں کا انداز اور بیانات واضح کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نسل کشی کا ارادہ کارفرما ہے۔

آخر میں سید عباس عراقچی نے دنیا کے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان حملوں کی مذمت کریں اور ذمہ دار عناصر کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی مزید بدامنی کو جنم دے گی جبکہ اجتماعی آواز ہی عالمی امن کے تحفظ کی ضمانت بن سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔