ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکہ کے 53ویں ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ قشم کے آسمان میں امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام سے مار گرایا گیا اور یہ اس نوعیت کا تباہ ہونے والا 53واں امریکی ڈرون ہے

تہران: ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم کے آسمان میں امریکی فوج کے ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حالیہ ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف امریکی ڈرونز کو نشانہ بنائے جانے کے سلسلے کا تازہ واقعہ ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی ڈرون کو جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 12 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔ سپاہ کا کہنا ہے کہ ڈرون کی شناخت اور تباہی کے لیے سپاہ کی ایرو اسپیس فورس کے زیرِ استعمال ایک ’جدید فضائی دفاعی نظام‘ کا استعمال کیا گیا، جو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
ایرانی بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ قشم میں مار گرایا جانے والا ڈرون امریکی فوج کا ایم کیو-9 تھا اور یہ اس نوعیت کا 53واں امریکی ڈرون ہے جسے ایرانی فورسز نے تباہ کیا ہے۔
تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ بی بی سی ہندی کے مطابق، امریکی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے ڈرون کی تباہی، اس کی جگہ اور واقعے کی مکمل تفصیلات کے بارے میں فی الحال ایرانی بیان ہی بنیادی ذریعہ ہے۔
جزیرہ قشم آبنائے ہرمز کے قریب ایک انتہائی اہم تزویراتی مقام پر واقع ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے دوران یہاں کسی بھی فوجی واقعے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ 15 ستمبر کو بھی ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے جزیرہ قشم کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی تھی، تاہم اس وقت دھماکوں کی وجہ واضح نہیں کی گئی تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے پس منظر میں ڈرونز کی کارروائیاں بھی اہم بن گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں خطے میں ایران سے منسلک گروہوں اور امریکی و علاقائی فورسز کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ خطے میں تیل کی ترسیل اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات موجود ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
