امریکی دھمکیوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ہندوستانی شہریوں کو ایران خالی کرنے کی سفارت خانے کی ہدایت

ایران میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ہندوستانی سفارت خانے نے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ امریکی اقدامات کے بعد حالات غیر یقینی اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ایران پر اسرائیل کا حملہ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں تہران میں قائم ہندوستانی سفارت خانے نے 23 اپریل 2026 کو ایک اہم اور سخت سفری ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں ایران میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سفارت خانے نے واضح طور پر کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کا سفر کرنا نہایت خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے شہری کسی بھی صورت میں وہاں جانے سے گریز کریں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، جس کے باعث فضائی حدود پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور بین الاقوامی پروازوں کے معمولات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں نہ صرف سفر مشکل ہو گیا ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورت میں انخلا بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ سفارت خانے نے ایران میں موجود ہندوستانیوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر دستیاب محفوظ ذرائع سے ملک سے باہر نکلنے کی کوشش کریں اور ہر ممکن حد تک سفارت خانے کے رابطے میں رہیں۔


سفارت خانے نے شہریوں کی مدد کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز اور ای میل بھی جاری کیے ہیں تاکہ کسی بھی مشکل یا رہنمائی کی ضرورت کے وقت فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور مقامی حالات پر گہری نظر رکھیں۔

یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ کشتی کو، جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے میں ملوث ہو، فوری طور پر تباہ کر دے۔ اس حکم کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سمندری راستوں کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل جاری ہے اور اس حساس آبی گزرگاہ پر مکمل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کے اندرونی سیاسی حالات کو بھی غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور تجارتی راستے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر مختلف ممالک اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ طور پر خطرناک علاقوں سے نکلنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔