’ہندوستان خود فیصلہ کرے گا تیل کس ملک سے اور کس قیمت پر خریدے‘، امریکی دباؤ پر روسی وزیر خارجہ کا رد عمل

روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقصد توانائی کی عالمی منڈی کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف/تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ہندوستان پر روسی تیل نہ خریدنے کے لیے دباؤ بڑھانے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اپنی شرائط دوسرے ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ طریقہ نوآبادیاتی سوچ کے مترادف ہے۔

’آر ٹی انڈیا‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں لاوروف نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقصد توانائی کی عالمی منڈی کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ لاوروف نے یہ بیان برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل دیا۔ انٹرویو کے دوران لاوروف نے کہا کہ مغربی ممالک مسلسل دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ روس سے تیل نہ خریدیں۔ انہوں نے یہ ایک ’غلط کھیل‘ ہے۔ لاوروف کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ممالک سستا روسی تیل خریدنے کے بجائے امریکہ سے مہنگا ایل این جی خریدیں۔


لاوروف نے کہا کہ یہ طریقہ نوآبادیاتی اور نوآبادیاتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے فائدے کے لیے دیگر ممالک پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ لاوروف نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک ایسے دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے ہندوستان کے موقف کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور مارکیٹ کی ضروریات کی بنیاد پر توانائی خریدتا ہے۔ ہندوستانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان یہ فیصلہ خود کرے گا کہ تیل کس ملک سے خریدنا ہے اور کس قیمت پر خریدنا ہے۔

غور طلب ہے کہ ہندوستان کا شمار دنیا کے خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں ہوتا ہے۔ ملک اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بیرون ملک سے حاصل کرتا ہے۔ سال 2022 کے بعد ہندوستان نے روس سے تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا تھا کیونکہ روس رعایتی قیمتوں پر تیل دے رہا تھا۔ روسی تیل کی خریداری میں اضافے کے بعد ہندوستان کو امریکہ اور مغربی ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ برس امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا حالانکہ ہندوستان نے اپنے توانائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے روسی تیل کی خریداری جاری رکھی۔


امریکہ نے روس کی بڑی تیل کمپنیوں روزنیفٹ اور لوکوئیل پر اکتوبر 2025 تک پابندی عائد کردی تھی۔ اس کے بعد کچھ وقت کے لیے ہندوستان کے روسی تیل درآمد میں کمی آئی تھی لیکن ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی میں بڑا اتھل پتھل مچایا ۔ توانائی بحران کے مد نظر ٹرمپ انتظامیہ نے کچھ پابندیوں میں چھوٹ دی تھی۔ یہ چھوٹ اب 16 مئی تک بڑھا دی گئی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ اس سے ہندوستان سمیت کئی ممالک کو روسی تیل خریدنے میں راحت مل سکتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔