ہندوستان آنے والے تیل بردار جہاز نے آبنائے ہرمز کو کیا عبور، 3 جون تک وشاکھاپٹنم پہنچنے کی امید

ہندوستان کے لیے خام تیل لے کر آنے والا تیل بردار جہاز ’نیسوس کیروس‘ آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے۔ کشیدگی کے باوجود جہاز محفوظ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور 3 جون تک وشاکھاپٹنم پہنچنے کی توقع ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نیویارک: ہندوستان کے لیے پٹرولیم مصنوعات لے کر روانہ ہونے والا ایک تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کر چکا ہے۔ بحری آمدورفت پر نظر رکھنے والے مختلف پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ’نیسوس کیروس‘ نامی یہ جہاز وشاکھاپٹنم کی جانب گامزن ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 3 جون تک اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔

مارشل جزائر کے پرچم تلے رجسٹرڈ یہ جہاز 21 مئی کو شارجہ سے روانہ ہوا تھا۔ جمعہ کی صبح ہندوستانی وقت کے مطابق اسے شمالی بحیرۂ عرب میں ہندوستان کے مغربی ساحل کے قریب دیکھا گیا۔ بحری ریکارڈ کے مطابق جہاز مسلسل اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

دریں اثنا، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اطلاع دی ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔ ان میں تیل بردار جہازوں کے علاوہ مال بردار کنٹینر جہاز بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ تمام جہازوں کی نقل و حرکت اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ کے ساتھ باضابطہ رابطے اور منظوری کے بعد انجام پائی۔


تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول کی گئی یا نہیں۔ ایران پہلے ہی اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر محصولات عائد کر سکتا ہے۔ اسی ماہ ایران نے بحری آمدورفت کے انتظام اور نگرانی کے لیے ’خلیج فارس آبنائے اتھارٹی‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا تھا۔

اقوام متحدہ کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی آبی راستوں سے گزرنے پر فیس وصول کرنا بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ایران نے اس سمندری راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور بعض بحری کارروائیاں بھی کیں۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اس وقت ایران سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات کا ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ یہ بحری راستہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔