’اگر وہ مسلمانوں اور انتہا پسندوں میں فرق نہیں کر سکتے تو میں سفید فام اور نسل پرستوں میں کیوں کروں‘ ٹوئٹر کے نئے سی ای او کا پرانا ٹوئٹ

سوشل ویب سائٹ ٹوئٹر کے نئے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) پراگ اگروال کو اپنی ایک پرانی ٹوئٹ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نیویارک: سوشل ویب سائٹ ٹوئٹر کے نئے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) پراگ اگروال کو اپنی ایک پرانی ٹوئٹ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ روز ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسی اپنے عہدے سے دستبردار ہوئے جس کے بعد ہندوستانی نژاد امریکی پراگ اگروال کو کمپنی کا نیا سی ای او منتخب کیا گیا۔

پراگ اگروال نے 2010 میں ایک ٹوئٹ کی جب وہ ٹوئٹر کے ملازم بھی نہیں تھے۔ ٹوئٹ میں انہوں نے امریکہ میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کا مذاق اڑانے والے ایک مزاح نگار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اگر وہ مسلمانوں اور انتہا پسندوں کے درمیان فرق نہیں کریں گےتو پھر میں سفید فام لوگوں اور نسل پرستوں میں فرق کیوں کروں‘‘۔


اس ٹوئٹ کو بنیاد بناکر امریکی ریاست کولوراڈو کے چوتھے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کرنے والے کین بک نے سوال اٹھایا ہے کہ صارفین ٹوئٹر کے نئے سی ای او پر کس طرح اعتماد کریں کے وہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کریں گے۔

اس کے علاوہ امریکی سینیٹر مارشا بلیک برن نے بھی پراگ اگروال کی پرانی ٹوئٹ کو بنیاد بنا کر کہا کہ یہ ہیں ٹوئٹر کے نئے سی ای او جو فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ ٹوئٹر پر کس قسم کی تقریر کی اجازت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔