افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 73 ہزار سے زائد افراد متاثر: اقوام متحدہ
افغانستان میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس سے 73 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، ہزاروں مکانات تباہ اور زرعی زمین کو بھاری نقصان پہنچا ہے

کابل: افغانستان میں ہونے والی شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے ملک کے مختلف حصوں میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اقوام متحدہ کے حوالے سے جاری اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس قدرتی آفت سے 73 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 26 مارچ سے 6 اپریل کے درمیان ہونے والی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں کئی صوبوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ گئے۔ اس آفت کے باعث 9 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے کئی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
زرعی شعبہ بھی اس تباہی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 15 ہزار 500 ایکڑ سے زائد زرعی زمین برباد ہو گئی، جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مزید برآں 500 سے زائد مویشیوں کی ہلاکت نے دیہی معیشت پر منفی اثر ڈالا ہے، کیونکہ وہاں کے بیشتر خاندان کھیتی باڑی اور مویشی پالنے پر انحصار کرتے ہیں۔
اس دوران مختلف حادثات میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خوست صوبے میں ایک مکان کی دیوار گرنے سے تین خواتین جان کی بازی ہار گئیں، جبکہ دو بچے زخمی ہوئے۔ اسی طرح ننگرہار صوبے میں چھت گرنے کے واقعے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
مقامی حکام کے مطابق گزشتہ بارہ دنوں کے دوران سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات میں کم از کم 110 افراد ہلاک اور 160 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ سات افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
انفراسٹرکچر کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ تقریباً 325 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ آبپاشی کے نظام، پینے کے پانی کے کنویں اور دیگر بنیادی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔
ادھر محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ حکام اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، تاہم ہزاروں خاندانوں کو فوری طور پر رہائش، خوراک اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔