چینی فوج سے وابستہ ہیکرز نے گزشتہ سال کے دوران تقریباً بیس اہم اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں نقب لگائی: امریکہ

امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ چینی فوج توانائی اور پانی کی سہولیات کے ساتھ ساتھ مواصلات اور نقل و حمل کے نظام سمیت اہم امریکی بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ چینی فوج توانائی اور پانی کی سہولیات کے ساتھ ساتھ مواصلات اور نقل و حمل کے نظام سمیت اہم امریکی بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان حساس سیکٹرز کے حوالے سے امریکی حکام اور سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ چینی فوج سے وابستہ ہیکرز نے گزشتہ سال کے دوران تقریباً بیس اہم اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز میں نقب لگائی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دراندازی کی کارروائیاں بحرالکاہل میں امریکہ اور چین کے درمیان تنازع کی صورت میں خوف و ہراس اور افراتفری پھیلانے یا رسد میں خلل ڈالنے کے طریقے تیار کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔

واقعات سے آگاہ افراد نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ متاثرہ املاک میں ہوائی میں پانی کا ایک ذخیرہ اور کم از کم ایک تیل اور گیس کی پائپ لائن شامل ہے۔ ہیکرز نے ٹیکساس پاور گرڈ کو چلانے والی کمپنی میں بھی گھسنے کی کوشش کی۔ یہ پاور گرڈ ملک کے باقی حصوں میں بجلی کے نظام سے آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔


امریکی حکام نے کہا کہ کسی بھی مداخلت سے پمپ، پسٹن یا کسی بھی اہم کام کو چلانے والے صنعتی کنٹرول سسٹم میں خلل نہیں پڑا۔ تاہم امریکی حکام نے کہا کہ ہوائی، بحرالکاہل کے بحری بیڑے اور کم از کم ایک بندرگاہ کے ساتھ ساتھ لاجسٹک ہب میں دلچسپی یہ بتاتی ہے کہ چینی فوج اس قابل ہونا چاہتی ہے کہ اگر تائیوان پر تنازع شروع ہو جائے تو اس خطے میں فوجیوں اور سازوسامان کو بھیجنے کی امریکی کوششوں کو پیچیدہ کر سکے۔

اطلاعات کے مطابق یہ تفصیلات حکومتی نظام میں چینی دراندازی کی واضح تصویر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا پتہ امریکی حکومت نے تقریباً ایک سال قبل پہلی مرتبہ دریافت کیا تھا۔ ایک سال سے زیادہ عرصے سے چینی فوجی رہنماؤں نے اپنے امریکی ہم منصبوں سے بات کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ یہاں تک چینی لڑاکا طیارے مغربی بحرالکاہل میں امریکی جاسوس طیاروں کو تیزی سے روک رہے ہیں۔ یاد رہے امریکی صدر بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ماہ مواصلاتی چینلز کو بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔