فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی مسائل کے خلاف مظاہرے پُرتشدد، 800 افراد حراست میں

فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی مسائل کے خلاف مسلسل تیسرے ہفتے مظاہرے ہوئے۔ تشدد کے واقعات میں 779 افراد گرفتار ہوئے، جبکہ جرمنی کے 30 سے زائد شہروں میں بھی احتجاج کے دوران جھڑپیں اور لوٹ مار ہوئی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

پیرس: فرانس میں مہنگائی، تعلیمی مسائل اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مسلسل تیسرے ہفتے ہونے والے بڑے پیمانے کے مظاہروں کے بعد مختلف شہروں میں تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، آتش زنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کے دوران تقریباً 800 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جرمنی کے کئی شہروں میں بھی نوجوانوں کے احتجاج کے دوران تشدد اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے ہیں۔

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ہفتہ کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً تین لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔ تاہم مظاہروں کے منتظمین نے شرکا کی تعداد پانچ لاکھ بتائی ہے۔ حکام کے مطابق مظاہروں کی اکثریت پُرامن رہی، لیکن بعض مقامات پر چھوٹے گروہوں نے تشدد، آتش زنی اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہفتہ کی رات تک فرانس میں 779 افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ اس کے مقابلے میں 17 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے بعد 2628 اور 24 اکتوبر کے احتجاج کے بعد 1314 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس بار تشدد کے واقعات میں نسبتاً کمی دیکھی گئی ہے۔

پیرس میں مظاہرے کے اختتام پر بعض افراد نے پولیس اہلکاروں پر پٹرول بم پھینکے، جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوگئے اور ایک گاڑی میں آگ لگ گئی۔ کچھ دیگر مقامات پر نقاب پوش مظاہرین نے پولیس پر آتش بازی کے سامان اور بوتلوں سے حملے کیے۔ پولیس نے جواب میں آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ کا استعمال کیا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے فرانس بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔


فرانس میں احتجاج کی شروعات گزشتہ ماہ طلبہ نے اسکولوں کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف کی تھی۔ بعد ازاں اس تحریک میں مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات، عوامی خدمات میں کمی اور صدر ایمانوئل میکرون کی قیادت کے خلاف ناراضگی رکھنے والے دیگر طبقات بھی شامل ہوگئے۔

دوسری جانب جرمنی میں بھی نوجوانوں کی تحریک ’جین زی ریگلٹ‘ کے تحت 30 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے تعلیم، صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ سرکاری سرمایہ کاری، رہائش کے مسائل کے حل اور لازمی فوجی بھرتی کی بحالی کی مخالفت میں آواز اٹھائی۔

جرمنی کے فرینکفرٹ، برلن، کولون اور ہیمبرگ میں مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فرینکفرٹ میں نقاب پوش افراد نے دکانوں کے شیشے توڑے اور سامان لوٹ لیا۔ ایک اسلحہ فروخت کرنے والی دکان سے ہتھیار بھی چوری کیے گئے، تاہم پولیس نے انہیں بعد میں برآمد کرلیا۔ برلن میں پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا، جبکہ کولون اور ہیمبرگ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

فرانس میں پولیس حکام کو خدشہ ہے کہ اسکولوں کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد احتجاج میں مزید شدت آسکتی ہے۔ طلبہ تنظیموں اور مزدور یونینوں نے آئندہ ہفتے بھی ملک گیر مظاہروں کی اپیل کی ہے۔