کانگو میں ایبولا کا بحران، 100 سے زائد ہلاکتیں، عالمی صحت ایمرجنسی کا اعلان

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے کم از کم 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 390 سے زائد مشتبہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اسے بین الاقوامی ایمرجنسی قرار دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلتے انفیکشن نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ افریقہ سینٹرس فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق اب تک کم از کم 100 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 390 سے زیادہ مشتبہ معاملے درج کیے گئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس وبا کو بین الاقوامی صحت ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایبولا کا موجودہ اسٹرین بنڈی بگ یو وائرس کی وجہ سے پھیل رہا ہے، جس کے لیے فی الحال نہ کوئی منظور شدہ دوا موجود ہے اور نہ ہی ویکسین دستیاب ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا مقامی اور علاقائی سطح پر بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔


امریکی نشریاتی ادارے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کانگو میں اس وبا کے دوران کم از کم چھ امریکی شہری بھی وائرس کی زد میں آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک امریکی شہری میں بیماری کی علامات پائی گئی ہیں جبکہ تین دیگر افراد وائرس سے متاثرہ افراد کے قریبی رابطے میں رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان میں سے کتنے افراد حقیقت میں متاثر ہوئے ہیں۔

امریکہ کے سینٹرس فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ امریکی شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکومت چند شہریوں کو قرنطینہ کے لیے جرمنی کے ایک فوجی اڈے منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔

ادھر یوگنڈا میں بھی ایبولا کے دو تصدیق شدہ معاملے اور ایک موت درج کی گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے کانگو اور یوگنڈا کو سرحدی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ وائرس کو دوسرے ممالک تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔ روانڈا نے احتیاطی اقدام کے طور پر کانگو سے ملحق سرحدوں پر اسکریننگ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ نائجیریا نے بھی صورت حال پر گہری نظر رکھنے کی بات کہی ہے۔

افریقہ سینٹرس فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل زاں کاسیا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جنازوں اور تدفین کے دوران صحت سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے کیونکہ ماضی میں ایسے اجتماعات وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بنے تھے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔