ایران کے خلاف جنگ میں’ ناکامی‘ پر واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان ’تصادم‘، الزام تراشی کا سلسلہ شروع!
ایران کے خلاف جنگ پر واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان الزام تراشی شروع ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بنجمن نیتن یاہو کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے اپنے معتمد خاص کو ان کے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ خواہ دنیا کے سامنے ایران کے خلاف جیت کا دعویٰ کرتے نہ تھک رہے ہوں لیکن وہ خود بھی یہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نہ تو ایران کے جوہری مقاصد کو پٹری سے اتار سکے اور نہ ہی اسے حکومت تبدیلی کرنے پر مجبور کر سکے۔ اپنے سپریم لیڈر سے لے کر سیکورٹی چیف تک کو کھونے کے باوجود ایران کے حوصلے بلند ہیں اور وہ مسلسل جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کی مختلف رائے کے درمیان ’نیوز 18‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال صدر ٹرمپ کے لیے بڑی شکست ثابت ہو رہی ہے۔ اس دوران امریکی صدر اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اپنی ’شکست‘ کا ذمہ دار کسے ٹھہرائیں اور جنگ سے باہر نکل جائیں۔ رپورٹ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے سب سے وفادار اور سخت مزاج رکھنے والے اپنے نائب جے ڈی وینس کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر بات ہوئی جس میں خوب الزام تراشی ہوئی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ ایک انتہائی سخت فون کال میں وینس نے مبینہ طور پر نیتن یاہو کی سرزنش کی۔ وینس نے براہ راست الزام لگایا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ کے بارے میں جو گلابی خواب دکھائے تھے وہ پوری طرح جھوٹے اور کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہ نیتن یاہو نے ہی ٹرمپ کو بہلا پھسلا کرجنگ میں گھسیٹا۔
’ایکسس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پہلے ان کی ایک بھی پیشین گوئی زمین پر سچ نہیں ہوئی۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا خاتمہ ایران میں بغاوت کا باعث بنے گا لیکن اس کے برعکس وہاں کے قوم پرست عناصر کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوگئی۔
اسی دوران وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ’بی بی‘ نے صدر ٹرمپ کو یہ کہہ کر اکسایا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی قریب ہے اور جنگ آسان ہو جائے گی لیکن جے ڈی وینس شروع سے ہی اس نظریے کے مخالف تھے۔ اب جب کہ جنگ زور پکڑ رہی ہے اور امریکی معیشت کے لیے بھاری نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فون کال نے واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان تعلقات کو اس حد تک خراب کر دیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
اس تنازعہ کے دوران ایک اور دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب ایک اسرائیلی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جے ڈی وینس نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے حوالے سے فون پر نیتن یاہو کو پھٹکار لگائی اور چلائے۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر جعلی‘ بتایا ہے۔ امریکی افسران کو شبہ ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر یہ خبر جے ڈی وینس کو ’اسرائیل مخالف‘ کے طور پر پیش کرکے ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے پھیلائی تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔