ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی کا دعویٰ، شدید گولہ باری کے درمیان ریسکیو آپریشن

اس پورے واقعہ پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت ہے اور اس طرح کے خطرناک ریسکیو آپریشنز خطے میں صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 ایران میں شدید گولہ باری کے درمیان امریکی فوج نےایک خفیہ آپریشن انجام دے کر ایران میں گرائے گئے ایف۔15  جنگی جہاز کے لاپتہ عملے کے ایک رکن کو بچا لیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس درجنوں طیارے انہیں واپس لانے کے لیے بھیجے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے اپنے غیر معمولی عملے کے ارکان میں سے ایک کے لیے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی تلاش اور بچاؤ آپریشن میں سے ایک کو انجام دیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ فوجی ایف۔ 15 ایگل طیارہ گرنے کے بعد ایران میں لاپتا ہو گیا تھا اور تقریباً دو دن تک ایرانی حکام سے بچتے ہوئے روپوش رہا۔ بعد ازاں امریکی فورسز نے ایک خفیہ اور انتہائی خطرناک آپریشن کے ذریعے اسے نکال لیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق یہ ریسکیو آپریشن رات کی تاریکی میں کیا گیا، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ اطلاعات ہیں کہ ایرانی حکام کو بھی اس اہلکار کی ممکنہ لوکیشن کا اندازہ تھا، جس کے باعث آپریشن مزید خطرناک ہو گیا تھا۔


اگرچہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ اس کارروائی میں کون سی فورسز شامل تھیں، تاہم اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن امریکی اسپیشل فورسز نے انجام دیا۔ امریکی حکام کے مطابق بازیاب ہونے والا اہلکار اب ایران سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے اور مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت ہے اور اس طرح کے خطرناک ریسکیو آپریشنز خطے میں صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔

ریسکیو آپریشن کی معلومات دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرے پیارے امریکی شہریوں، پچھلے کچھ گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ہمارے ایک غیر معمولی عملے کے ممبر جو ایک کرنل بھی ہے، اس کے لیے امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ جرات مندانہ تلاش اور بچاؤ آپریشن کو انجام دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ وہ اب محفوظ ہے۔ یہ بہادر سپاہی ایران کے ناہموار پہاڑوں میں تھا، جس کا ہمارے دشمن تعاقب کررہے تھے اور ہر گھنٹے قریب آتے جارہے تھےلیکن وہ کبھی بھی مکمل طور پر اکیلا نہیں تھا کیونکہ اس کے کمانڈر انچیف، سیکرٹری دفاع، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور ساتھی سپاہی 24 گھنٹے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے اور بچاؤ کے لیے کام کر رہے تھے۔


معلوم ہوکہ جمعہ (3 اپریل) کو کویت کے اوپر پرواز کررہے امریکی ایئر کرافٹ کو ایران نے مارگرایا تھا جوپوری طرح تباہ ہوگیا۔ اگرچہ اس کا پائلٹ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا پائلٹ لاپتہ ہو گیا تھا اور اسے ایران میں گرنے کی اطلاع ملی تھی۔ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں لاپتہ امریکی پائلٹ کو نہ صرف امریکی فوج تلاش کر رہی تھی بلکہ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی پورے علاقے کا محاصرہ کرکے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا تھا۔ آئی آر جی سی نے پائلٹ کو تلاش کرنے کے لیے فوجیوں کے علاوہ مقامی باشندوں سے بھی اپیل اپیل کی تھی اور پائلٹ کو زندہ پکڑنے پر تقریباً 60 ہزار ڈالر سے زیادہ انعام کا اعلان کیا تھا۔