بلغاریہ میں پانچ سال میں آٹھویں بار پارلیمانی انتخابات، سیاسی عدم استحکام کی کہانی
بلغاریہ میں سیاسی جماعتوں کی ناکامی، کمزور اتحاد اور عوامی بے اطمینانی کے باعث پانچ سال میں آٹھویں بار انتخابات ہو رہے ہیں۔ نئی حکومت کی تشکیل میں مسلسل ناکامی نے سیاسی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے

صوفیہ: بلغاریہ میں ایک بار پھر سیاسی بے یقینی کے ماحول میں عوام نے اتوار کو ووٹنگ میں حصہ لیا، جہاں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آٹھویں بار پارلیمانی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ بالکان خطے میں واقع اس یورپی ملک میں بار بار انتخابات کا انعقاد سیاسی عدم استحکام اور جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق تقریباً 66 لاکھ ووٹرز 14 سیاسی جماعتوں، ایک آزاد امیدوار اور 10 اتحادوں سے تعلق رکھنے والے 4 ہزار 700 سے زائد امیدواروں میں سے 240 اراکین پارلیمان کا انتخاب کریں گے۔ ملک بھر میں پولنگ اسٹیشن صبح 7 بجے کھولے گئے اور رات 8 بجے تک ووٹنگ جاری رہے گی۔ بیرون ملک مقیم بلغاری شہریوں کے لیے 55 ممالک میں بھی پولنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔
ووٹنگ کے فوری بعد ایگزٹ پول کے نتائج سامنے آئیں گے جبکہ حتمی نتائج کا اعلان 23 اپریل کو متوقع ہے۔ تاہم اصل چیلنج انتخابات کے بعد ایک مستحکم حکومت کی تشکیل ہوگا، جو گزشتہ کئی برسوں سے ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔
سیاسی بحران کی بنیادی وجہ کمزور اتحاد اور جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ دسمبر 2025 میں وزیر اعظم روسین ژیلیازکوف کی مخلوط حکومت نے اقتصادی پالیسیوں پر عوامی ناراضگی اور سیاسی دباؤ کے باعث استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد مختلف پارلیمانی گروپ نئی حکومت بنانے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں ملک کو ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کی طرف جانا پڑا۔
اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی اچانک انتخابات ہوئے تھے، جس کے بعد جنوری 2025 میں نئی حکومت تشکیل دی گئی تھی، لیکن یہ حکومت بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ پارلیمان، جسے نیشنل اسمبلی کہا جاتا ہے، عام طور پر چار سال کے لیے منتخب ہوتی ہے، مگر سیاسی بحران کے باعث اس کی مدت بار بار متاثر ہو رہی ہے۔
جنوری 2026 میں حکومت سازی کی تیسری اور آخری آئینی کوشش بھی ناکام ہونے کے بعد صدر رومن رادیف نے مختلف جماعتوں کو حکومت بنانے کی دعوت دی، مگر کسی نے بھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بڑے سیاسی اتحادوں نے بھی حکومت بنانے سے انکار کر دیا، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا۔
بعد ازاں فروری میں عبوری حکومت قائم کرنے کے لیے آندرے گوروو کو قائم مقام وزیر اعظم مقرر کیا گیا، تاکہ انتخابات تک انتظامی امور چلائے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق بلغاریہ میں بار بار انتخابات کی بڑی وجہ عوام کا روایتی سیاسی جماعتوں پر اعتماد ختم ہونا، بدعنوانی کے الزامات اور معاشی مسائل ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ہر بار مخلوط حکومت بنتی ہے، جو جلد ہی اختلافات کا شکار ہو کر ٹوٹ جاتی ہے۔
اس بار بھی اگر واضح اکثریت سامنے نہ آئی تو ملک کو ایک بار پھر سیاسی تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے نہ صرف داخلی استحکام بلکہ اقتصادی ترقی بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔