عالمی معیشت میں برکس کا بڑھتا وزن، پوتن کا جی-7 کے مقابلہ میں 40 فیصد سے زائد حصے کا دعویٰ
پوتن نے کہا کہ عالمی جی ڈی پی میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد سے زائد ہے، جبکہ جی-7 کا حصہ 29 فیصد ہے۔ پزشکیان نے عملی اقتصادی تعاون، مقامی کرنسیوں اور سرمایہ کاری پر زور دیا

نئی دہلی: عالمی معیشت میں طاقت کے بدلتے توازن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران دنیا کی مجموعی جی ڈی پی میں برکس ممالک کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ رہا ہے، جبکہ جی-7 ممالک کا حصہ تقریباً 29 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی عرصے میں عالمی اقتصادی ترقی میں بھی برکس کا حصہ نصف سے زیادہ رہا، جبکہ جی-7 کا حصہ تقریباً 18 فیصد رہا۔
نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ برکس بزنس فورم کے لیڈرز سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ یہ اعداد و شمار عالمی معیشت میں برکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس گروپ کے پاس ایک بڑا اور متحرک داخلی بازار موجود ہے۔
روسی صدر نے کہا کہ دنیا اس وقت گہری اور بنیادی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے اور عالمی اقتصادی ترقی کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں اقتصادی ترقی کی قیادت کرنے والے ممالک کے ساتھ ساتھ اب برکس جیسے ممالک بھی عالمی ترقی کے نئے انجن بن رہے ہیں۔
پوتن نے تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ روایتی معاشی طاقتوں کے پاس اب بھی مضبوط بنیادی ڈھانچہ، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی صلاحیت اور مستحکم تحقیقی نظام موجود ہیں۔ ان کے مطابق عالمی معیشت کی فطرت ہی مسلسل تبدیلی کی ہے۔
اسی اجلاس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی برکس کو محض ممکنہ تعاون کے پلیٹ فارم کے بجائے عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے برکس تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور اقتصادی ذرائع کے بڑھتے سیاسی استعمال نے عالمی اقتصادی ماحول کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ برکس کی اصل طاقت صرف رکن ممالک کی مجموعی اقتصادی حجم میں نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ مالی تعاون کے مضبوط نیٹ ورک قائم کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ انہوں نے برکس ممالک کے درمیان تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے، باہمی ادائیگی کے نظام کو مضبوط کرنے اور کرنسی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مالیاتی میکانزم تیار کرنے پر زور دیا۔
ایرانی صدر نے برکس کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت کا اہم ذریعہ بنانے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے مقامی کرنسیوں میں قرض اور مالی معاونت کے ساتھ نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ضمانتی نظام تیار کرنے پر زور دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
