ٹرمپ کے فیصلے کے بعد خام تیل مہنگا، برینٹ 106 ڈالر فی بیرل سے متجاوز

ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھولنے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد برینٹ خام تیل 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا، جس سے خطے میں تیل کی فراہمی پر خدشات بڑھ گئے

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i

سنگاپور: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی اور برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کے نومبر کے سودوں کی قیمت ابتدائی تجارت میں 3 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 107 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ بعد میں اس میں کچھ کمی آئی، تاہم یہ 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی۔ ایک مرحلے پر برینٹ 107.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، جو گزشتہ بند قیمت کے مقابلے میں 3.29 فیصد کا اضافہ تھا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی بڑھی اور یہ 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ رائٹرز کے مطابق ایک مرحلے پر ڈبلیو ٹی آئی 94.55 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو 2.32 فیصد اضافہ تھا۔

تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورت حال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت امریکہ کی جانب سے فوجی دباؤ اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں کمی کی صورت میں تہران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار تھا۔ یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی گئی تھی۔


تاہم ٹرمپ نے ایران کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ ان کے اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں یہ خدشہ بڑھا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ مزید برقرار رہ سکتی ہے۔ دنیا کی اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی اس آبنائے میں پہلے ہی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

اس کے باوجود ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس ہفتے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور خطے میں توانائی کی تنصیبات کی صورت حال تیل کی قیمتوں کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔ موجودہ صورتحال میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔