جاپان میں برڈ فلو کی تصدیق، ایک لاکھ نوے ہزار مرغیاں تلف کرنے کا فیصلہ

جاپان کی حکومت نے ہوکائیڈو کے ابیرا شہر کے ایک پولٹری فارم میں برڈ فلو کے پھیلاؤ کی تصدیق کی ہے۔ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار مرغیوں کو تلف کر کے دبا دیا جائے گا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ٹوکیو: جاپان کی وزارتِ زراعت، جنگلات اور ماہی پروری نے ملک کے شمالی خطے ہوکائیڈو کے ایک پولٹری فارم میں برڈ فلو کے پھیلاؤ کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اس خطے میں اس موسم کا چوتھا جبکہ پورے جاپان میں اکیسواں معاملہ ہے، جس کے بعد احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ پولٹری فارم ہوکائیڈو کے شہر ابیرا میں واقع ہے جہاں تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار مرغیاں پالی جا رہی تھیں۔ مقامی انتظامیہ کو فارم کی طرف سے بدھ کے روز اطلاع دی گئی تھی کہ مرغیوں میں غیر معمولی اموات اور بیماری کی علامات سامنے آ رہی ہیں۔

اطلاع ملنے کے فوراً بعد حکام نے موقع پر پہنچ کر ابتدائی جانچ کی۔ اسی دن کیے گئے فوری برڈ فلو ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے، جس کے بعد مزید تصدیق کے لیے جینیاتی جانچ کی گئی۔ اگلے روز کی گئی جینیاتی جانچ میں بھی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فارم میں موجود تمام مرغیوں کو تلف کر کے دبا دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی فارم کے اطراف کے علاقوں میں نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور پرندوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ بیماری دوسرے پولٹری فارموں تک نہ پہنچ سکے۔


شِنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپان میں برڈ فلو کا موسم عموماً خزاں سے شروع ہو کر اگلے بہار تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران جنگلی پرندوں کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے حکام کو مسلسل نگرانی کرنی پڑتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق برڈ فلو دراصل ایویئن انفلوئنزا وائرس کی ایک قسم ہے جو بنیادی طور پر پرندوں کو متاثر کرتی ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ دیگر جانوروں اور انسانوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ انسانی انفیکشن کے واقعات اگرچہ کم ہوتے ہیں، لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو بیماری سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔