اے آئی کے استعمال میں اضافے کے ساتھ بارکلیز میں 5 ہزار ملازمین کی چھنٹنی، ہندوستان پر پڑ سکتا ہے سب سے زیادہ اثر

برطانوی بینکنگ گروپ بارکلیز اے آئی کے استعمال اور اخراجات میں کمی کی حکمت عملی کے تحت 5 ہزار ملازمین کی چھنٹنی کر رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی بڑی تعداد میں ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i

لندن: برطانیہ کے معروف بینکنگ گروپ بارکلیز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں اضافے اور اخراجات میں کمی کی حکمت عملی کے تحت تقریباً 5 ہزار ملازمین کی چھنٹنی کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ہندوستان پر پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ برطانیہ میں بینک کے بیک آفس سے متعلق متعدد کام ہندوستان میں انجام دیے جاتے ہیں۔

بینکنگ گروپ کے مطابق، اب تک تقریباً 1000 عہدے ختم کیے جا چکے ہیں، جب کہ رواں سال کے اختتام تک مزید 4000 عہدے ختم کیے جانے کی توقع ہے۔ اس طرح کمپنی کی عالمی افرادی قوت میں مجموعی طور پر تقریباً 5000 ملازمین کی کمی آئے گی، جو اس کے کل ملازمین کی تعداد کا تقریباً 5 فیصد ہے۔

بارکلیز کی اس حکمت عملی سے ہندوستان میں کام کرنے والے ملازمین کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ہندوستان میں کتنے ملازمین کی ملازمت ختم ہوگی، اس بارے میں کوئی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔

بارکلیز اپنے کام کاج کو جدید بنانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ ملازمین کے عہدوں میں کمی اس کے کاروباری نظام کو جدید بنانے کے لیے جاری منصوبے کا حصہ ہے۔ اے آئی کے استعمال میں اضافہ اس حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں میں شامل ہے۔


بینک کی لاگت میں کمی کی حکمت عملی بنیادی طور پر برطانیہ میں اس کے ریٹیل بینکنگ کاروبار پر مرکوز رہی ہے۔ اس شعبے میں عام صارفین کو بینکاری خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم، اخراجات کم کرنے کے اقدامات کا اثر بینک کے انویسٹمنٹ بینکنگ ڈویژن پر بھی پڑا ہے۔

بارکلیز اس وقت اخراجات میں کمی کے تین سالہ پروگرام کے آخری مرحلے میں ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا اور بینک کے مجموعی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ بارکلیز نے بتایا کہ ستمبر میں ختم ہونے والی تین ماہ کی مدت کے دوران اس نے 2.3 ارب پاؤنڈ کا منافع حاصل کیا۔ یہ منافع گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم مالیاتی ماہرین کے اندازوں سے قدرے کم رہا۔

منافع میں اضافے کے باوجود بینک اخراجات پر قابو پانے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

بینکنگ شعبے میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ خودکار نظاموں کے ذریعے متعدد کام کم وقت اور کم وسائل میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں مالیاتی ادارے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ بارکلیز کی مجوزہ چھنٹنی بھی اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے، تاہم ہندوستان میں اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ ملازمتوں میں کمی کی حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔