بنگلہ دیش میں اجرت بڑھانے کے مطالبے پر پرتشدد احتجاج، 50 زخمی اور 200 سے زائد فیکٹریاں بند

بنگلہ دیش میں 30 ہزار ٹکا کم از کم اجرت کے مطالبے پر گارمنٹس مزدوروں کے احتجاج میں جھڑپوں سے 50 افراد زخمی ہوئے۔ سوار اور اشولیا میں 200 سے زائد فیکٹریاں بند، جبکہ شاہراہیں بھی بلاک رہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے صنعتی علاقوں میں کم از کم ماہانہ اجرت 30 ہزار ٹکا کرنے کے مطالبے پر گارمنٹس مزدوروں کا احتجاج بدھ کو پرتشدد جھڑپوں میں بدل گیا۔ پولیس، مزدوروں اور راہ گیروں سمیت کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے، جبکہ سوار اور اشولیا میں 200 سے زائد فیکٹریوں نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر چھٹی کا اعلان کیا۔ مظاہرے سوار، اشولیا، غازی پور اور نارائن گنج میں ہوئے۔

سوار کے حمایت پور میں پدما موڑ کے علاقے میں صبح مزدور جمع ہوئے اور سڑک بند کر دی۔ پولیس نے راستہ کھلوانے کی کوشش کی تو جھڑپ شروع ہو گئی، جو بعد میں اُلائل تک پھیل گئی۔ وہاں علم مسلم گروپ کی فیکٹری کے سامنے مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئے۔ مزدوروں نے پولیس پر اینٹیں اور پتھر پھینکے، جس کے جواب میں اہلکاروں نے آنسو گیس، ساؤنڈ گرینیڈ اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔

جھڑپوں کے دوران سوار ماڈل تھانے کے انچارج افسر کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ ڈھاکہ ضلع کی پولیس سپرنٹنڈنٹ شمیمہ پروین کے مطابق تھانے کے او سی سیف الاسلام سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔ مظاہرین نے ڈھاکہ-اریچا شاہراہ دونوں جانب سے بند کر دی، جس سے ٹریفک رک گئی اور طویل قطاریں لگ گئیں۔ شمیمہ پروین نے بتایا کہ علاقے میں دونوں سمتوں سے 30 سے 40 ہزار مزدور جمع تھے۔


بدامنی کے باعث حمایت پور، اُلائل اور آس پاس کی متعدد فیکٹریوں نے کام روک دیا۔ صنعتی علاقے میں سکیورٹی کے لیے سرحدی محافظ فورس، بی جی بی کے اہلکار تعینات کیے گئے۔ حکام کے مطابق سوار اور اشولیا میں 200 سے زیادہ فیکٹریوں نے چھٹی کا اعلان کیا۔ دیگر صنعتی علاقوں میں بھی اضافی سکیورٹی فورسز تعینات رہیں۔

غازی پور کے گاچا علاقے میں مزدوروں نے ڈھاکہ۔مِیمن سنگھ شاہراہ پر سائن بورڈ کے قریب دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دی۔ وہاں اندازاً دو سے چار ہزار مزدور جمع ہوئے اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈ چلائے۔ نارائن گنج کے فتح اللہ علاقے میں بھی مسلسل تیسرے دن احتجاج ہوا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کیا اور پانچ افراد کو حراست میں لیا۔

مزدور موجودہ کم از کم ماہانہ اجرت 12,500 ٹکا سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ تنخواہ میں گزارا مشکل ہو گیا ہے۔ مطالبات میں تمام گارمنٹس فیکٹریوں میں راشن کی سہولت، ٹریڈ یونین بنانے کے حق کا تحفظ، من مانی برطرفیوں اور ملازمین کو بلیک لسٹ کرنے کا خاتمہ، اور ہلاک مزدوروں کے لیے انصاف شامل ہیں۔ مزدوروں نے لیبر قوانین پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

احتجاج اور کام کی بندش سے ملک کے گارمنٹس شعبے میں پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہ بے چینی کئی روز سے جاری ہے اور اس سے قبل بھی مختلف صنعتی علاقوں میں سڑکیں بند اور پولیس سے جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ منگل کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والا 22 سالہ مزدور توفیق شیخ علاج کے دوران دم توڑ گیا تھا۔ حکام نے صنعتی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور مزید واقعات روکنے کے لیے سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔