’فرانس میں برقعے پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے فرانس میں نقاب سمیت برقعہ پہننے یا مکمل طور پر جسم ڈھانپنے پر پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اس قانون پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
user

ڈی. ڈبلیو

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے مطابق فرانس اس پابندی کے حوالے سے اپنے مقدمے کا دفاع کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پیرس حکام کو اس تناظر میں اٹھائے جانے والے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے 180 دنوں کی مہلت دی گئی ہے۔ تاہم اس پینل کے ان نتائج کی کوئی قانونی حیثیت تو نہیں ہے لیکن یہ فرانسیسی عدالتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ کمیٹی خاص طور پر فرانسیسی حکام کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی کہ چہرے کے مکمل نقاب پر پابندی سلامتی اور معاشرے میں مل جل کر رہنے کے حوالے سے ضروری تھی۔

یہ پینل 18غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل تھا، جس نے شہری اور سیاسی آزادی کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کی روشنی میں اس پابندی کا جائزہ لیا۔ فرانس پر لازم نہیں ہے کہ وہ اس نتیجے پر عمل درآمد کرے تاہم اس معاہدے کے ایک اختیاری پروٹوکول کی وجہ سے فرانس پر جذبہ خیر سگالی کے تحت اس پر عمل کرنے کی ایک بین الاقوامی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

فرانس کی 67 ملین کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد اندازاً پانچ ملین ہے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ فرانس میں کسی بھی عوامی مقام پر چہرے کا مکمل نقاب کرنے پر ڈیڑھ سو یورو کا جرمانہ کیا جاتا ہے۔ میٹرو نیوز کے مطابق 2015ء میں ایسے 223 جرمانے کیے گئے۔

کئی یورپی ممالک نے اسلامی قرار دیے جانے والے ملبوسات کے حوالے سے قانون سازی کی ہوئی ہے۔ اسی سال مئی میں ڈنمارک کی پارلیمان نے چہرے کے نقاب پر پابندی کے حوالے سے ایک قانون کی منظوری دی۔ بیلجیم ، ہالینڈ، بلغاریہ اور جرمن صوبے باویریا میں بھی چہرہ چھپانے کے حوالے سے کچھ پابندیاں عائد ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Oct 2018, 6:05 AM