نیپال میں بالین شاہ کی آر ایس پی نے رقم کی تاریخ، عام انتخابات میں شاندار فتح، اولی کو شکست
یہ انتخابی نتائج عوامی سطح پر قائم جماعتوں کے خلاف عدم اطمینان کی عکاسی کرتے ہیں۔ لوگوں نے آر ایس پی کو کرپشن کے خلاف لڑائی، اقربا پروری کے خاتمے اور سیاست میں تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا ہے

گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی بحران کا سامنا کر رہے نیپال میں بڑی سیاسی تبدیلی ہوئی ہے۔ ریپر سے سیاستدان بنے بالیندر شاہ (عرف بالین) کی راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس تاریخی نتائج کے ساتھ ہی بالین شاہ نے 4 مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے کے پی اولی کو عبرتناک شکست دی ہے۔ بالین کا مقابلہ جھاپا۔5 انتخابی حلقہ میں نیپال کی سب سے پرانی سیاسی جماعت سی پی این۔یو ایم ایل کے صدر سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی سے تھا۔ انتخابی نتائج نے نیپال کی پرانی سیاسی جماعتوں کا غلبہ مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
بالین نے اولی کو تقریباً 50 ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 35 سالہ بالین شاہ نے 68348 ووٹ حاصل کیے جبکہ اولی محض 18734 ووٹ حاصل کرپائے۔ اس کے ساتھ ہی اب بالین نیپال کی اگلی حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔ غورطلب ہے کہ آر ایس پی کی تشکیل 2022 میں روی لامیچھانے نے کی تھی۔ اتوار کی صبح 7 بجے تک اعلان کردہ 129 سیٹوں میں سے اکیلے آر ایس پی نے 100 سیٹیں جیتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پارٹی اس وقت ملک بھر میں مزید 25 نشستوں پر آگے ہے۔ آر ایس پی نے کھٹمنڈو کی تمام 10 سیٹوں پر کلین سویپ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے۔
بالین نیپال کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے کم عمر وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ملک کے پہلے مدھیسی وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ یہ انتخابی نتائج عوامی سطح پر قائم جماعتوں کے خلاف عدم اطمینان کی عکاسی کرتے ہیں۔ لوگوں نے آر ایس پی کو کرپشن کے خلاف لڑائی، اقربا پروری کے خاتمے اور سیاست میں نسل در نسل تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دیگر بڑی جماعتوں کی پوزیشن خاصی کمزور ہوئی۔ نیپالی کانگریس (این سی) نے 13 سیٹیوں پر جیت حاصل کی اور 3 پر آگے ہے۔ سابق حکمراں سی پی این۔ یو ایم ایل صرف 7 سیٹوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی اور 3 پر برتری حاصل کی۔ نیپالی کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) نے 6 سیٹیں جیتی ہیں اور 1 پر آگے ہے۔ شرمک شکتی پارٹی (ایس ایس پی) نے 3 سیٹوں پر برتری حاصل کی اور راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی (آر پی پی) کے کھاتے میں بھی صرف ایک سیٹ آئی جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کا قبضہ رہا۔
نیپال میں 5 مارچ کو ہونے والے ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں تقریباً 60 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی جمعرات کی رات دیر گئے شروع ہوئی اور ہفتے کی رات تک 165 انتخابی حلقوں میں سے باقی علاقوں میں ووٹنگ جاری تھی۔ حالانکہ اتوار کے روزیہ صاف ہوگیا کہ نیپال نے اپنا لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ انتخابی نتائج واضح طور پر بتاتے ہیں کہ بالیندرشاہ ملک کی پہلی پسند ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بالیندرشاہ نیپال کے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔ یہ کرشمہ اولی حکومت کو اکھاڑ پھیکنے والی’جین۔زی‘ تحریک کے کچھ ماہ بعد ہوا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔