خامنہ ای کی شہادت: ایک عہد کا اختتام، ایران نئے دور میں داخل...ویڈیو

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران اور خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ چار دہائیوں تک قیادت کرنے والے رہبرِ اعلیٰ کے بعد جانشینی اور علاقائی کشیدگی اہم سوال بن گئے ہیں

user

قومی آواز بیورو

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران سوگوار ہے اور ملک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مشہد کے ایک سادہ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے خامنہ ای نے کم عمری میں دینی تعلیم حاصل کی اور انقلابِ اسلامی میں فعال کردار ادا کیا۔ 1979 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد وہ رہبرِ اعلیٰ منتخب ہوئے اور دہائیوں تک ایران کی سیاسی و نظریاتی سمت کی رہنمائی کرتے رہے۔

اپنے دور میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اپنایا، پاسدارانِ انقلاب کو مضبوط کیا اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو وسعت دی۔ ان کی قیادت میں ایران نے بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اپنے پالیسی مؤقف کو برقرار رکھا۔ حالیہ حملوں کے بعد ان کی شہادت کو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران میں 4روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔ مجلس خبرگان کے پاس نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار ہے اور سیاسی حلقوں میں جانشینی کے عمل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔