ایپل کے سی ای او ٹم کک نے استعفے کی خبروں کو افواہ قرار دیا، قیادت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
ایپل کے سی ای او ٹم کک نے استعفے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کمپنی کی قیادت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے 600 ارب ڈالر سرمایہ کاری، اے آئی پالیسی اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی

نئی دہلی: ایپل کے سی ای او ٹم کک نے اپنے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد افواہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کمپنی کی قیادت جاری رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی استعفے کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی ان کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔
ٹم کک نے کہا کہ وہ اپنے کام سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ایپل کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید توانائی کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ وہ اپنی رفتار کم کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایپل اپنی پچاسویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس موقع پر کمپنی نہ صرف اپنی ماضی کی کامیابیوں کو یاد کر رہی ہے بلکہ مستقبل کے لیے بڑے منصوبے بھی ترتیب دے رہی ہے۔
کاروباری حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے ٹم کک نے بتایا کہ ایپل آئندہ چار برسوں میں امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد آئی فون کے شیشے اور سیمی کنڈکٹر جیسے اہم پرزوں کی مقامی سطح پر تیاری کو فروغ دینا ہے تاکہ عالمی سپلائی چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔
انہوں نے امریکی عدالت کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں ممکنہ ٹیرف ریفنڈ کے سوال پر کہا کہ کمپنی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی حتمی قدم اٹھایا جائے گا۔
سیاسی شخصیات سے روابط پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کک نے کہا کہ ان کی توجہ سیاست نہیں بلکہ پالیسی معاملات پر ہوتی ہے اور کاروباری مسائل کے حل کے لیے فیصلہ سازوں سے رابطہ ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انہوں نے اسے ایک غیر جانب دار ٹیکنالوجی قرار دیا اور کہا کہ اس کے اثرات کا دارومدار اس کے استعمال پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایپل صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ڈیوائس پر ہی پروسیسنگ کو ترجیح دیتا ہے۔
آخر میں ٹم کک نے ایپل کی پچاس سالہ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹے سے گیراج سے شروع ہونے والا خیال آج دنیا بدل چکا ہے اور کمپنی آئندہ بھی اسی وژن کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔