ایمنسٹی انٹرنیشنل کی افغان پناہ گزینوں کی غیر قانونی بے دخلی روکنے کے لیے عالمی برادری سے اپیل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا بھر کے ممالک سے افغان پناہ گزینوں کی جبری اور غیر قانونی بے دخلی روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے

کابل: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی غیر قانونی اور جبری بے دخلی کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ان کے تحفظ اور بنیادی ضروریات کو یقینی بنایا جائے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو من مانی گرفتاریوں، خاندانوں کی علیحدگی اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے، جبکہ افغانستان واپسی کے بعد انہیں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شدید انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان پناہ گزینوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور ان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تنظیم نے زور دے کر کہا کہ جن افراد کو بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے، انہیں انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی ادارے پڑوسی ممالک کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی میں اضافے کی اطلاعات دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ افغان شہریوں کی واپسی محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغان خواتین، بچوں اور مردوں کو ان ممالک سے واپس بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ تحفظ کے لیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی مرضی کے خلاف افغانستان لوٹنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور ان کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک تقریباً دو لاکھ ستر ہزار افغان شہری افغانستان واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت ایران اور پاکستان سے آنے والوں کی ہے، جبکہ ترکیہ اور تاجکستان سے بھی کچھ افراد واپس پہنچے ہیں۔ گزشتہ سال بھی ایران سے بارہ لاکھ اور پاکستان سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افغان شہری واپس بھیجے گئے تھے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خواتین، لڑکیوں، سابق افغان حکومت اور سکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد، ذرائع ابلاغ کے کارکنوں، شہری سماجی تنظیموں اور ہم جنس پرست برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو انتقامی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان اور انسانی حقوق کے دفتر کی رواں سال جاری ہونے والی رپورٹ "نو سیف ہیون" کے مطابق جبری طور پر واپس بھیجے گئے افغان شہریوں کو طالبان حکام کی جانب سے من مانی گرفتاری، حراست، تشدد اور بدسلوکی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وولکر ترک نے یورپی ممالک کی جانب سے افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق مجوزہ اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر فرد کے خطرات کا انفرادی جائزہ لیے بغیر کسی بھی شخص کو زبردستی افغانستان واپس بھیجنا بین الاقوامی انسانی حقوق اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
