ابوظہبی اعلامیہ: سائبر جرائم کے خلاف نئی حکمت عملی
اقوام متحدہ کی کانگریس برائے انسدادِ جرم و جنائی انصاف نے سائبر جرائم سے نمٹنے، عالمی تعاون بڑھانے، انسانی حقوق و ڈیٹا کے تحفظ ، منظم جرائم کے خاتمے اور مساوی انصاف کے عزم کا اظہار کیا ہے

ابوظہبی میں منعقدہ پندرہویں اقوام متحدہ کانگریس برائے انسدادِ جرم و جنائی انصاف کے دوران رکن ممالک نے جرائم کی روک تھام اور انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ابوظہبی اعلامیہ منظور کیا ہے۔ اس دستاویز کا بنیادی مقصد سائبر کرائم اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے پھیلنے والے جدید جرائم سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی کو انصاف کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن اس عمل میں انسانی حقوق اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ کانگریس کے ایجنڈے میں منظم جرائم کی بیخ کنی اور ایک ایسے جامع نظامِ عدل کے قیام کو ترجیح دی گئی ہے جہاں انصاف کسی خاص طبقے کا استحقاق نہ ہو بلکہ سب کے لیے برابر ہو۔ اس اجلاس میں نوجوانوں کی شمولیت اور 2031 تک ٹھوس عملی اقدامات کے ذریعے دنیا بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔ یہ اعلامیہ بدلتی ہوئی دنیا میں قانون کی حکمرانی اور انسانی تحفظ کے لیے ایک اہم عالمی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
عالمی جرم کے خلاف بین الاقوامی تعاون
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں منعقد ہونے والی پندرہویں اقوام متحدہ کی کانگریس برائے انسدادِ جرم و جنائی انصاف عالمی سطح پر انصاف کے تقاضوں کی منتقلی کا ایک اہم اسٹریٹجک نقطہ ہے۔ 26 ستمبر کو "ابو ظہبی اعلامیہ"کی متفقہ منظوری کے ساتھ شروع ہونے والی یہ کانگریس یکم اکتوبر تک جاری رہے گی، جس کا باضابطہ عنوان "ڈیجیٹل دور میں انسانوں اور سیارے کا تحفظ"مقرر کیا گیا ہے۔ تکنیکی پیشرفت اور ڈیجیٹل دور کے تیز رفتار پھیلاؤ نے جرائم کی نوعیت کو اس حد تک تبدیل کر دیا ہے کہ روایتی عدالتی فریم ورک اب ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں، پالیسی سازوں اور عالمی رہنماؤں کے لیے عدالتی نظام کی جدید کاری، ڈیجیٹل اصلاحات کا نفاذ اور بین الاقوامی تعاون کی تجدید صرف ایک ترجیح نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔ ابو ظہبی اعلامیہ کی منظوری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بین الاقوامی برادری سائبر کرائم، مالیاتی دھوکہ دہی، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مجرمانہ و غیر قانونی استعمال سے پیدا ہونے والے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق ہو چکی ہے۔
جاپان کے شہر کیوٹو میں منعقدہ پچھلی کانگریس کے پانچ سال بعد، موجودہ عالمی منظرنامہ ایک اہم "انفلیکشن پوائنٹ"پر پہنچ چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران مصنوعی ذہانت اور تکنیکی پلیٹ فارمز نے غیر معمولی رفتار سے پیشرفت کی ہے۔ جہاں ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اربوں انسانوں کو باہم مربوط کیا ہے، وہاں مجرمانہ عناصر نے بھی انہی ذرائع کو اپنے نیٹ ورکس کی توسیع، ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے غیر قانونی منافع کو چھپانے، اور گمراہ کن ڈیجیٹل آلات کے ذریعے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے محض جرائم کی رفتار نہیں بڑھائی بلکہ اس کی بنیادی ساخت اور کردار کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سرحدوں اور اداروں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے والے منظم مجرمانہ نیٹ ورکس ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
ابو ظہبی کانگریس کے موقع پر اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا کہ "انصاف کوئی رعایت یا مراعات نہیں ہو سکتا۔ اسے ہر شخص کا تحفظ کرنا چاہیے، ہر فرد کے حقوق کو برقرار رکھنا چاہیے اور کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے۔" اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و انسدادِ جرم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونکا جوما نے اس بات پر زور دیا کہ کثیر الجہتی تعاون پر متزلزل ہوتے اعتماد کے اس دور میں، ابو ظہبی کانگریس کو بین الاقوامی تعاون کا ایک مستند ثبوت بننا چاہیے تاکہ انسانوں اور اس سیارےکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ابھرتے ہوئے جرائم کا منظرنامہ
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیشرفت نے مجرمانہ سرگرمیوں کے دائرہ کار اور سرحد پار پھیلنے کی صلاحیت کو بے پناہ بڑھا دیا ہے، جس نے قومی و بین الاقوامی سلامتی اور نظامِ انصاف کے لیے سنگین اسٹریٹجک چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ جدید منظم جرائم اب تکنیکی انفراسٹرکچر اور سروسز کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کمرشل سروس فراہم کنندگان کی طرح سرحد پار کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس ابھرتے ہوئے منظرنامے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظاموں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی روایتی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کریں اور نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تزویراتی اقدامات کریں۔
جدید جرائم کے رجحانات کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرمانہ ماڈلز اب کمرشلائزڈ سروسز کی شکل اختیار کر چکے ہیں:
خدمت کے طور پر جرم (کرائم ایز سروس) اور خدمت کے طور پر تشدد (وائلنس ایز سروس) : ان مفاہیم کے تحت منظم مجرمانہ نیٹ ورکس تشدد، سائبر حملوں، تاوان اور دیگر غیر قانونی کارروائیوں کو تجارتی خدمات کی طرح پیش کر رہے ہیں۔ ان ماڈلز کے ذریعے کوئی بھی شخص یا گروہ سرحد پار مالی ادائیگیوں کے بدلے پیچیدہ مجرمانہ صلاحیتوں اور انفراسٹرکچر تک فوری رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
سائبر کرائم، دھوکہ دہی اور ڈیجیٹل کرنسی کا غیر قانونی استعمال: اسکیم نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں، غیر قانونی ڈیجیٹل کرنسیوں کا استعمال مجرمانہ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے منافع کو چھپانے اور عالمی سطح پر بلا رکاوٹ فنڈز کی نقل و حرکت کے لیے بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔
پندرہویں کانگریس کے ایجنڈے میں شواہد پر مبنی انسدادِ جرم کی حکمت عملی، انسان دوست اور شمولیت پر مبنی جنائی انصاف، نئے اور ابھرتے ہوئے جرائم کا مقابلہ ، اور تعاون اور شراکت داری کو فروغ بنیادی نکات کے طور پر شامل رہے۔
عدالتی نظام ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت
ابھرتے ہوئے جرائم اور اسٹریٹجک چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عدالتی نظام میں تکنیکی حل اور مصنوعی ذہانت کو ضم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے محفوظ استعمال کے لیے لازمی تحفظاتی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔
عدالتی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے ادخال سے مقدمات کی تیز رفتار کارروائی اور انصاف کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تاہم، ان ٹیکنالوجیز کا غیر متوازن استعمال بنیادی انسانی حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل کے لیے شدید خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا، ڈیجیٹلائزیشن کا اسٹریٹجک مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو عدالتوں کی کارکردگی کو بڑھائے اور ساتھ ہی ساتھ شفافیت اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہو۔
ٹیکنالوجی اوراے آئی کے عدالتی نظام میں استعمال کے لیے ابو ظہبی اعلامیہ کے تحت چار بنیادی شرطوں اور تحفظاتی اقدامات (سیف گارڈز) کا فریم ورک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں انسانی نگرانی، شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور ڈیٹا کی رازداری اور تحفظ شامل ہیں۔
متاثرہ طبقات کا تحفظ حقیقی مقصد
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و انسدادِ جرم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونکا جوما کے مطابق، تکنیکی اصلاحات کا حقیقی مقصد سب سے زیادہ خطرے سے دوچار اور متاثرہ طبقات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ اس وژن کے تحت ٹیکنالوجی کو ایک "مثبت قوت"کے طور پر چار مخصوص گروہوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے: اول، گینگ کلچر میں جبراً شامل کیے جانے والے بچے۔ دوم، گھریلو اور آن لائن تشدد کا شکار ہونے والی خواتین۔ سوم، قانونی امداد اور عدالتی رسائی سے محروم مظلوم افراد۔اور بہتر مستقبل کے جھوٹے وعدوں اور دھوکے کے ذریعے اسکیم نیٹ ورکس میں پھنسائے جانے والے گمراہ کن نوجوان۔
ابو ظہبی اعلامیہ کو عملی شکل دینے کے لیے رضاکارانہ، ٹھوس اور وقت کے پابند اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ بین الاقوامی اعلامیے اسی وقت موثر ثابت ہوتے ہیں جب انہیں محض تحریری معاہدوں کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ موجودہ عالمی تناظر میں کثیر الجہتی تعاون کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومتیں باہمی شراکت داری کے ذریعے تکنیکی و مادی امداد اور تربیت کو قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر یکساں طور پر منتقل کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
