گجرات: سرکاری اسپتال میں ایک مہینے میں 134 بچے فوت، میڈیا کے سوالوں پر روپانی خاموش!

گجرات کے راج کوٹ کے سرکاری اسپتال میں سہولیات کے فقدان کے سبب متعدد بچوں نے دم توڑ دیا، میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسپتال میں ڈھائی کلو سے کم وزن والے بچوں کے علاج و معالجہ کی سہولت موجود نہیں ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

راجستھان کے کوٹا میں معصوم بچوں کی موت پر میڈیا کا ایک گروپ لگاتار سوال اٹھا رہا ہے اور ہنگامہ کیا جا رہا ہے لیکن گجرات کے راج کوٹ اور جھارکھنڈ رانچی میں ہونے والی اموات کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔ اطلاعات کے مطابق راج کوٹ کے ایک سرکاری اسپتال میں گزشتہ ایک مہینے کے دران 134 بچے دم توڑ چکے ہیں۔ جب میڈیا نے ریاست کے وزیر اعلی وجے روپانی سے اس بارے میں سوالات پوچھے تو انہوں نے جواب نہیں دیا اور خاموشی سے آگے بڑھ گئے۔

راج کوٹ کے سرکاری اسپتال میں بچوں کے دم توڑنے کی وجہ یہاں پر سہولیات کا فقدان ہونا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپتال میں موجود بچوں کی انٹینسیس کیئر یونٹ (این آئی سی یو) میں ڈھائی کلو سے کم وزن والے بچوں کے علاج و معالجہ کی سہولت موجود نہیں ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ اسپتال میں بچوں کے لئے ایک این آئی سی یو موجود ہے لیکن اس میں ڈیڑھ کلو وزن تک کے بچوں کو ہی رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ واضح رہے کہ این آئی سی یو میں بچوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ اگر بچہ کا وزن کم ہے تو اس کے لئے کم از کم ایک نرس اور زیادہ سے زیادہ دو نرسیں موجود ہونی چاہئیں۔ اسپتال میں 10 نوزائیدہ بچوں کے لئے صرف ایک نرس ہے۔

راج کوٹ کے ایک سرکاری اسپتال میں دم توڑنے والے 134 بچوں میں سے 96 وقت سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور کم وزن والے تھے۔ ان میں سے 77 بچوں کا وزن ڈیڑھ کلو سے بھی کم تھا۔ اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں 4321 بچوں کو داخل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 20.8 فیصد یا 869 فوت ہو گئے۔ 2019 میں 4701 بچوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ نومبر تک 18.9 فیصد بچے فوت ہوگئے تھے۔ وہیں، دسمبر کے مہینے میں 386 بچوں کو داخل کیا گیا، جن میں سے 100 سے زیادہ بچے فوت ہوگئے۔ علاوہ ازیں، اسپتال میں بچوں کی اموات کی شرح 28 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

جھارکھنڈ کے رانچی میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پائی جاتی ہے، جہاں کچھ ہی دن پہلے بی جے پی نے اقتدار کو گنوایا ہے۔ رانچی کے رِمس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق یہاں 2019 میں جنوری سے دسمبر تک داخل 1150 بچوں کی موت ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق وسائل کی کمی اور مریضوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے یہاں ایک وارمر پر 2-3 بیمار بچوں کو رکھا جاتا ہے۔ وارمر اور فوٹو تھیراپی مشین کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک ایک وارمر پر دو سے تین بیمار بچوں کو رکھا جاتا ہے، اس کی وجہ سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔