بڑوں کے مقابلہ بچے کم پھیلاتے ہیں کورونا وبا

دو اہم وبائی امراض کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ایسی آفاقی علامتیں موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بچے بڑوں کی طرح کورونا وائرس کم پھیلاتے ہیں اور بچوں سے یہ وبا دوسرے لوگوں تک زیادہ منتقل نہیں ہوتی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دنیا بھر کو اپنے حصار میں لینے والے کورونا وائرس کے اثرات اور اس کے خطرات کے حوالے سے آئے روز نئی نئی معلومات سامنے آتی ہیں۔ ایک تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کورونا کی وبا بڑی عمر کے افراد کی نسبت بچوں سے کم پھیلتی ہے۔ یہ تحقیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض ممالک میں کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کےبعد اسکول کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جب کہ سائنسدان اس بیماری کی مکمل روک تھام کے لیے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔

تازہ ترین طبی مطالعات میں دو اہم وبائی امراض کے ماہرین نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ ایسی آفاقی علامتیں موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بچے بڑوں کی طرح کورونا وائرس کم پھیلاتے ہیں اور بچوں سے یہ وبا دوسرے لوگوں تک زیادہ منتقل نہیں ہوتی۔

برطانوی پارلیمنٹ کے دارالامرا کے ارکان کو بتایا گیا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بچے بڑوں کی طرح کورونا نہیں پھیلاتے۔ برطانوی حکومت کو متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے بارے میں مشورے دینے والی کمیٹیوں کے ایک ڈاکٹر روزالینڈ ایگو نے بتایا کہ کورونا کی وبا بچوں سے کم اور بڑوں سے زیادہ پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں میں کووڈ- 19 ہونے کا امکان کم ہے لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بچے انفیکشن کی منتقلی سے کم متاثر ہوتے ہیں۔ برطانوی سائنسی مشاورتی بورڈ کے ممبر اور لندن اسکول آف ہیلتھ اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر جان ایڈمنڈس نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلانے میں بچے کس طرح زیادہ کردار ادا نہیں کرتے۔

انہوں نے ہاؤس آف لارڈز کی سائنسی کمیٹی کو بتایا کہ بچوں کے لیے انفیکشن پھیلانے سے متعلق کی جانے والی تحقیقات حیران کن نہیں۔ کیونکہ بچے زیادہ تر وائرل اور سانس کی بیماریوں کو مزید پھیلانے میں بڑوں کی نسبت کم ذمہ دار ہوتے ہیں۔

next