مہاتما گاندھی کی یادگار کس شکل میں قائم کی جائے! مولانا آزاد کی رائے

سال 1948 میں نئی دہلی میں ایک اجتماع ہوا تھا، جہاں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ گاندھی جی کی یادگار کس شکل میں قائم کی جائے۔ اس جلسے کی صدارت مولانا آزاد نے فرمائی تھی، یہ ان کی صدارتی تقریر ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

گاندھی جی کے حادثۂ قتل کے چند ہی روز بعد 1948 میں کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ایک اجتماع ہوا تھا، جہاں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ گاندھی جی کی یادگار کس شکل میں قائم کی جائے۔ اس جلسے کی صدارت مولانا آزاد نے فرمائی تھی، یہ ان کی صدارتی تقریر ہے۔

آج مہاتما گاندھی کے بعد نہ صرف ہندوستان میں بلکہ تمام دنیا میں ان کی یادگار مختلف شکلوں میں قائم ہے۔ حال ہی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بھی چھ اصحاب پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے، جو مہاتما گاندھی کی ایک ایسی یادگار قائم کرنے کے مسئلے پر غوروفکر کرے گی، جو ان کے پاکیزہ مقصدِ حیات اور اس کی روح کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دے۔

اس کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی ان کی خدمات کے تذکرے اور قلمی یادگاریں، ان کے کارنامے محفوظ کیے جا رہے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں ھب ان کی زندگی کا مطالعہ کریں، تو ایک روشن حقیقت ان کے سامنے آجائے۔ یہ سب کچھ ہے لیکن میں جب بھی سوچتا ہوں ایک چیز بار بار میرے سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح جو کچھ بھی کیا جارہا ہے، اس میں مجھے ایک بڑا کانہ خالی نظر آتا ہے اور اگر اس کو پر نہ کیا گیا تو ایک بڑی کمی رہ جائے گی۔

آپ کو معلوم ہے کہ مہاتما جی کی زندگی مختلف کاموں میں گزری ہے، لیکن ان جیسی شخصیتیں دنیا میں کبھی کبھی اُبھرا کرتی ہیں، جو دنیا کی تمام خود ساختہ حد بندیوں سے بالاتر ہوا کرتی ہیں۔

تارِیخ انسانی کے ہر دور میں آپ دیکھیں گے کہ انسان نے دنیا میں بہت سی حد بندیاں قائم کی ہیں۔ جیسے جغرافیائی حد بندی، کہا جاتا ہے: یہ یورپ ہے، یہ ایشیا، یہ عرب ہے، یہ ہندوستان وغیرہ، مذہبی حد بندی، ہم کہتے ہیں: یہ عیسائی، یہ ہندو، یہ سکھ وغیرہ۔

قومی حد بندی، کہا جاتا ہے: یہ انگریز، یہ اٹالین، یہ ہندی وغیرہ۔

لسانی حد بندی، کہا جائے گا: فلاں زبان کا بولنے والا ہے اور یہ فلاں زبان کا وغیرہ، ایسے ہی رنگ و نسل کی حد بندی وغیرہ۔

یہ تمام حد بندیاں ہماری زندگی کی قدرتی ضرویات ہیں، لیکن جب تک یہ تعمیری دائرہ میں رہتی ہیں، ہمارے لئے ایک بڑا سہارا بنتی ہیں اور جب یہ تخریبی رنگ اختیار کر لیتی ہیں، تو گروہِ انسانی کو تباہ کر دینے والی اور مٹا دینے والی بن جایا کرتی ہیں۔

دنیا کی پوری تاریخ میں جب بھی ان حد بندیوں کا غلط استعمال ہونے لگتا ہے، تو وہی مقاصد جو ان کے سہارے چمکتے تھے، خاک میں مل جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر مذہب کی حد بندی کو لیجیے، سب جانتے ہیں کہ مذہب دنیا کی اصلاح کے لئے آیا ہے اور صلح وآشتی، امن و انصاف وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو ہر مذہب بنیادی طور پر صحیح مانتا ہے لیکن یہی مذہبی حد بندی جب تخریبی جامہ پہن لیتی ہے تو ہزاروں خونریزیوں کا باعث بن جاتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ہزاروں کشت وخون ہیں، جو اسی مذہب کے نام پر ہوئے ہیں۔

اپنے ہی ماحول کو دیکھیے۔ آج ہمارے چاروں طرف جو کچھ ہوچکا ہے، وہ خدا کا نام لے کر ہی کیا گیا ہے۔ ایسے ہی جغرافیائی حد بندی کو لیجیے۔ قرآن کی بولی میں یہ بندشیں اس لیے تھیں کہ ’لِتَعَارَفُوا‘ تم میں باہم پہچان پیدا ہو۔ لیکن یہی حد بندی جب تباہی کی شکل میں آتی ہے تو دنیا میں بڑی بربادیوں کا باعث بن جاتی ہے۔

یہی حال قومی حد بندی کا ہے، اس کا مقصد بھی وہی ’لِتَعَارَفُوا‘ ہے۔ یعنی آپس کی پہچان کا ذریعہ! لیکن یہی قومیت کی حد بندی، جو ایک ذریعہ پہچان کا تھا، جب اپنی حدوں سے گزر جاتی ہے، تو دنیا میں بڑی خونریزیاں اسی قومی حرص و طمع اور غرور و گھمنڈ کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

غرضکیہ دنیا میں بہت سی حدبندیاں ہیں جو ہماری زندگی پر چھا گئی ہیں اور ہم ان میں ایسے بندھ گئے ہیں کہ اگرچہ ہم میں بڑی سے بڑی روح بڑائی کی بڑی سے بڑی جگہ پیدا کر سکتی ہے، لیکن ان حدود کے اندر ہی اندر رہ کر، ان سے آگے قدم رکھنے کی ان میں جرأت ہی پیدا نہیں ہوسکتی۔ لیکن جس طرح نیچر ایک خاص ڈھنگ پر چلتا ہے، لیکن کبھی کبھی اپنا رنگ چھوڑ دیتا ہے۔ ایسے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ کے افق پر کبھی کبھی ایسی شخصیتیں ابھرتی ہیں کہ دنیا کی کوئی حدبندی بھی انہیں بڑائی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ مذہب کی حدبندی ان کے ہاتھوں کو پکڑ نہیں سکتی۔ وہ ان تمام حدود سے بہت اونچے اور بلند ہوتے ہیں۔

جب یہ شخصیتیں ان بندشوں کی حدود بالاتر ہوجاتی ہیں، تب آپ دیکھیں گے کہ ان کی آنکھوں میں سچائی کا نور پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کی نگاہ میں تعصب کا ایک چشمہ نہیں رہتا۔ ان کی نظر ہر طرف اور ہر گوشے پر یکساں پڑتی ہے۔ دنیا کا تمام اچھا برا ان کے سامنے ہوتا ہے۔ وہ سب کو ایک ہی نور سے دیھکتے اور پہچانتے ہیں۔ انہیں جہاں کہیں حُسن نظر آتا ہے، وہ دوڑتے ہیں کہ یہ تو ہمارے لئے ہے۔ انہیں جس طرف خوبی نظر آتی ہے، وہ اس کو اپناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے۔ لیکن آپ یاد رکھیے، تاریخ میں ایسی ہستیاں بہت ہی کم ہوا کرتی ہیں۔

مہاتما جی کی ہستی تاریخِ عالم کی ان ہی ہستیوں میں سے ایک تھی۔ وہ دنیا کی ان تمام حدبندیوں سے بالاتر تھے، اور ان کی نگاہ میں ہر قوم اور ہر وطن، ہر نسل اور ہر گروہ ایک ہی حیثیت رکھتا تھا اور وہ ہر ایک کی خوبیوں کو اپناتے اور پسند کرتے تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، مجھے ان کا تعارف سب سے پہلے 1908 میں ہوا تھا۔ جبکہ والد مرحوم نے انتقال فرمایا، بمبئی ٹرانسوال وغیرہ میں والد مرحوم نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ اور ان اطراف میں ان کے بہت سے مریدین و معتقدین تھے۔ ان دنوں گاندھی جی ان اطراف کے حالات سے دلچسپی لے رہے تھے اور ٹرانسوال کانگریس کے پروگراموں میں سرگرمِ عمل تھے۔ اس وقت مجھے ایک ٹیلی گرام ملا۔ جس کے نیچے گاندھی جی کے دستخط تھے۔ انہوں نے اس ٹیلی گرام میں والدِ مرحوم کی تعزیت کی تھی۔ اس کے بعد 1918 تک مجھے ان سے خط و کتابت یا زیارت و ملاقات کا موقع نہ ملا۔

1918 میں جب میں رانچی جیل میں نظربند تھا، ان دنوں گاندھی جی بہار کے دورے کے لئے آئے، اور انہوں نے ایک شخص کے ذریعہ مجھے جیل میں پیغام بھیجا کہ میں بہار آیا ہوا ہوں، اور تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ مگر گورنر بہار نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد جب میں رانچی جیل سے رہا ہوا اور ایک جلسہ میں شرکت کے لئے 1920 کی 20 جنوری کو دہلی آیا تو حکیم اجمل خان صاحب مرحوم کے مکان پر سب سے پہلے مجھے گاندھی جی سے نیاز حاصل ہوا۔ اس دن سے آج تک جبکہ 1948 ہے، 28 برس گزر چکے ہیں۔ 28 برس کے یہ دن ہم پر ایسے گزرے ہیں کہ گویا ہم ایک ہی چھت کے نیچے رہے۔

اس عرصے میں بسا اوقات ان سے اختلاف بھی ہوئے۔ چنانچہ اس لڑائی کے زمانے میں میرا اور ان کا جو اختلاف ہوا تھا اس سے آپ بھی واقف ہوں گے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں میری یہ قطعی رائے تھی، جس پر ممبران کی اکثریت کو اتفاق تھا کہ اگر برطانیہ یہ مان لے کہ جنگ کے بعد ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی، تو ہم لڑائی میں شریک ہوسکتے ہیں۔ ان کو اس سے سخت اختلاف تھا، وہ بالکل دوسری جانب جارہے تھے۔ وہ کہتے تھے ہم ایسی آزادی لینا ہی نہیں چاہتے جو لڑائی کے سایہ میں ہم کو ملے۔ اس لئے وہ کسی طرح بھی لڑائی میں شرکت کے لئے تیار نہ تھے۔

آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تجاویز کا ڈرافٹ گاندھی جی ہی بنایا کرتے تھے۔ چنانچہ اس مرتبہ بھی اپنے اس ریزولیوشن کا ڈرافٹ بنوانے کے لئے میں اور پنڈت نہرو، گاندھی جی کے پاس گئے۔ اور انہوں نے اپنے پورے اختلاف کے باوجود اس تجویز کا ڈرافٹ بنا دیا۔

غرض اس طویل مدت میں بہت سے موقع آئے کہ ہم میں اور ان میں اختلاف ہوئے اور کشمکش تک کی نوبت پہنچی۔ انہوں نے اور ہم نے، دونوں ہی نے اپنی اپنی جگہ اس کو محسوس بھی کیا۔ لیکن اس پوری زندگی میں کوئی ایسا وقت نہیں آیا کہ ہمارے دلوں کا رخ پھر گیا ہو، ایسے ایسے اختلافوں کے باوجود ان کی عظمت کی جو رسّی ہماری گردنوں میں پڑی ہوئی تھی، ہم کبھی اس سے باہر نہ ہوسکے۔

اس موقع پر آپ سے یہ کہہ دوں کہ میری طبیعت میں ایک طرح کا نقص اور خامی ہے۔ وہ یہ کہ جب تک کسی کی کوئی خصوصیت میرے سامنے نہ آجائے، جو میرے دماغ پر چھا جائے اور میری گردن کو دبالے، اس وقت تک وہ مجھے اپنے سامنے جھکا نہیں سکتا۔ ’’میری گردن کی رگیں سخت ہیں‘‘۔ میرے سامنے جب کوئی دماغ آتا ہے، تو پہلے میرا ذہن اس کے خلاف ہی جانا چاہتا ہے، ہیاں تک کہ وہ میرے ذہن کو اپنی مضبوط گرفت میں لے لے۔ چنانچہ جب میں پہلی دفعہ مہاتما جی سے ملا، اس وقت میں ان کا معتقد نہیں تھا۔ میری آنکھوں پر اعتقاد کی پٹی نہ تھی، جو انسان کی آنکھوں کو بند کردیا کرتی ہے۔ لیکن اس کے بعد ان کی ہر ہر چیز نے ان کی عظمت کو میرے دل میں راسخ کردیا اور جو دن گزرا میرا اعتقاد ان کے بارے میں پڑھتا ہی چلا گیا۔ ہم دو آدمیوں کو ان سے انتہائی قرب تھا اور ہمیں بہت طویل موقع ملا۔ وہ ایک کھلی ہوئی کتاب تھے جس کا ہر ورق کھلا ہوا، ہر سطر روشن، اور ہر لفظ دھلا ہوا اور ہر حرف چمکتا ہوا تھا۔

آج تمام دنیا میں شاید ان ہی کی زندگی ایسی تھی جس کا ایک حرف بھی چھپا ہوا نہ تھا۔ یہ انسانیت کی عظمت کے لئے سب سے بڑی کسوٹی ہے اور اس معیار پر اترنے والے تمام تاریخِ انسانی میں صرف چند انسان ہوئے ہیں جنہیں آپ اپنی انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔

جن کو تمام دنیا کی حدبندیوں نے الجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ الجھ نہ سکے، تمام بندشوں نے ان کا دامن پکڑنا چاہا، مگر وہ گرفت میں نہ آسکے۔ میرے نزدیک گاندھی جی کی سب سے بڑی عظمت یہی ہے۔

یہ نہ تھا کہ مہاتما جی ہندو نہ تھے، وہ بیشک ہندو تھے۔ لیکن انہوں نے ہندو مذہب و دماغ کی ایک نئی تعبیر کی تھی، اور ایک نیا زاویہ بنایا تھا جو تمام حدبندیوں پر چھا گیا تھا اور وہ ایک ایسی جگہ بن گئی کہ نہ وہاں جغرافیہ اور قومیت کی لکیریں چل سکتی ہیں نہ اور دوسری حدبندیوں کی دیواریں قائم رہ سکتی ہیں، یہ وہ بلندی ہے کہ اگر ہمارا دماغ وہاں تک پہنچ سکے، تو اس سے بڑی کوئی خوبی نہیں ہے۔

ہندو مذہب کا پرانا دماغ اور نقشہ جو ہمارے سامنے آتا ہے اس میں بہت زیادہ وسعتیں تھیں اور جہاں تک میرا مطالعہ ہے دنیا کے تمام مذاہب میں نظریۂ توحید کو جس مذہب نے سب سے زیادہ قریب سے دیکھا ہے وہ ہندو مذہب ہے۔ میرے پاس اس کے بہت سے تاریخی شواہد و نظائر موجود ہیں۔ لیکن آج ہندو دھرم کی وہ شکل باقی نہیں ہے اور اس کے بہت سے خانے خالی ہو چکے ہیں۔ ہندو مذہب نے ابتدائی دور میں یونانیوں کو وہ درجہ دیا تھا جو ایک برہمن کا ہوتا ہے۔ صرف اس لئے کہ یونان علم دوست ملک تھا، لیکن دوسری جگہ یہ ہے کہ ہندو دماغ گرنے لگا۔ چھوت چھات اور تنگ دماغ پیدا ہوگیا، تب ہی سے ہندو دھرم اپنی بلند سطح سے گر گیا۔

گاندھی جی ہندو تھے اور ہندو ہی رہے، لیکن انہوں نے ہندو دھرم کی اتنی اونچی جگہ بنائی تھی کہ جب وہ اس بلندی پر سے دیکھتے تھے تو دنیا کے تمام جھگڑے ان کو مٹے ہوئے نظر آتے تھے، ان کے سامنے ایک کھلی ہوئی سچائی تھی جو کسی ایک کا ورثہ نہیں ہے، بلکہ سورج اور اس کی شعاعوں کی طرح سب کے لئے ہے۔

پس ہمیں گاندھی جی کی عظمت ان ادنیٰ درجے کی چیزوں میں نہیں ڈھونڈھنی چاہیے، بلکہ پردہ اٹھاکر دیکھنا چاہیے تب حقیقت کا چہرہ صاف نظر آئے گا۔ وہ اتنی بلندی پر تھے کہ دنیا کی کوئی حدبندی ان کا راستہ روک نہیں سکتی۔

آج ہم ان کی کوئی بھی یادگار بنائیں وہ نامکمل ہوگی۔ جب تک کہ وہ ان کی اس سربلندی کو ظاہر نہ کرے۔ اس لئے مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ گاندھی جی کی یادگار اس شکل میں ہونی چاہیے جو مہاتما جی کی اس سربلندی کو ظاہر کرے۔ آنے والی نسلوں کو اپنی خاموش زبان سے بتا دے کہ مہاتما جی کا مشن اور مقصد حیات یہ تھا، جو دنیا بھر کے زائرین کو اپنی زبانِ حال سے گاندھی جی کی عظمت و بلندی کی تاریخ بتا سکے۔

آپ کتنی ہی یادگاریں بنالیں، لیکن وہ بیکار ہیں، جب تک کہ ان کی انگلی اس عالمگیر سچائی کی طرف نہ اٹھے، جو گاندھی جی کے پیش نظر تھی۔

(ماخذ مالک رام کی مرتّبہ ’خطباتِ آزاد‘، ساہتیہ اکادمی، پیش کش: رضی الدین عقیل)

Published: 2 Oct 2019, 8:10 PM