ایک سیلفی سے کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات کا اندازہ، اے آئی کے نئے تجربے سے امید
امریکی محققین نے اے آئی پر مبنی دو ٹولز تیار کیے ہیں جو سیلفی سے حیاتیاتی عمر اور کینسر کے مریضوں کی بقا سے متعلق خطرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی ابھی تحقیقی مرحلے میں ہے

موبائل فون سے لی گئی ایک عام سیلفی بھی کینسر کے مریضوں کی حیاتیاتی عمر اور ان کے زندہ رہنے کے امکانات کا اندازہ لگانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکہ میں محققین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ایسا ٹول تیار کیا ہے جو چہرے کی تصویر کا تجزیہ کر کے مریض کی حیاتیاتی عمر اور کینسر سے متعلق خطرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی تحقیقی مرحلے میں ہے اور اسے مریض کی زندگی کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا۔
میساچوسٹس میں واقع ماس جنرل بریگھم کے محققین نے یہ ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج 19 اکتوبر کو طبی جریدے ’دی لینسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئے۔ محققین نے اے آئی ماڈل کو چار کروڑ سے زیادہ چہروں کی تصاویر کی مدد سے تربیت دی، تاکہ وہ مختلف عمروں اور متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے چہروں کی خصوصیات کا تجزیہ کر سکے۔
اس تحقیق میں دو تکمیلی اے آئی ٹولز تیار کیے گئے ہیں۔ پہلے ٹول ’ایف اے ایچ آر-فیس ایج‘ کے ذریعے چہرے کی خصوصیات کی بنیاد پر کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس معلومات سے کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔ دوسرا ٹول ’ایف اے ایچ آر-فیس سروائیول‘ چہرے کی تصویر کا تجزیہ کر کے براہ راست مریض کے زندہ رہنے سے متعلق خطرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
حیاتیاتی عمر سے مراد صرف کسی شخص کی پیدائش سے اب تک گزرے ہوئے برس نہیں، بلکہ جسم کی مجموعی حالت کا اندازہ بھی ہے۔ ایک ہی عمر کے دو افراد کی جسمانی کیفیت اور صحت میں نمایاں فرق ہو سکتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ چہرے پر دکھائی دینے والی بعض خصوصیات جسم کی مجموعی صحت سے متعلق مفید اشارے فراہم کر سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، دونوں اے آئی ٹولز چہرے کے مختلف حصوں پر توجہ دیتے ہیں۔ حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے والا ماڈل پیشانی، کنپٹیوں اور ناک سے منہ کی جانب جانے والی لکیروں کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بقا کے امکانات سے متعلق خطرات کا اندازہ لگانے والا ماڈل بنیادی طور پر آنکھوں کے نیچے اور ناک کے اوپری حصے کے آس پاس کی خصوصیات کا جائزہ لیتا ہے۔
محققین کے مطابق، ان ٹولز کا مقصد ڈاکٹروں کو مریض کی حالت سمجھنے کے لیے اضافی معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ علاج سے متعلق فیصلوں میں انفرادی ضروریات کو بہتر طور پر مدنظر رکھا جا سکے۔ کینسر کے علاج میں مریض کی اصل عمر کے ساتھ اس کی جسمانی صلاحیت اور مجموعی صحت بھی اہم ہوتی ہے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔ چہرے کی تصویر سے حاصل ہونے والا اندازہ کینسر کی قسم، بیماری کے مرحلے، طبی ریکارڈ اور علاج کے اثرات کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ یہ جانچنا بھی ضروری ہوگا کہ یہ ٹیکنالوجی مختلف عمر، رنگت اور پس منظر کے افراد کے لیے یکساں طور پر قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، چہرے کی تصاویر ذاتی شناخت سے متعلق حساس معلومات رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان کے طبی استعمال میں مریض کی رضامندی اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی اہم ہوگا۔
اگر مستقبل میں وسیع پیمانے پر ہونے والی تحقیق اس ٹیکنالوجی کی افادیت اور درستگی ثابت کر دیتی ہے تو یہ ڈاکٹروں کو کینسر کے مریضوں کی حالت کا بہتر اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، علاج اور مریض کی بقا سے متعلق فیصلے طبی معائنے، ماہرین کے مشورے اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر ہی کیے جانے چاہئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
