فیفا عالمی کپ 2026: جنگ، میدان کی تلخیوں اور تاریخی تنازعات نے انگلینڈ اور ارجنٹائنا کو بنایا روایتی حریف

شائقین کے درمیان جھڑپیں صرف انگلینڈ اور ارجنٹائنا کے میچوں تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ جہاں بھی دونوں ممالک کے مداح آمنے سامنے آتے ہیں، کشیدگی دیکھنے کو ملتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فیفا ورلڈ کپ 2026، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ&nbsp;@FIFAWorldCup</p></div>
i

ڈیاگو میراڈونا نے کبھی بھی اپنے مشہور ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول پر ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اسے دھوکہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ گول انگلینڈ کے خلاف کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی خود نوشت میں 1986 کے عالمی کپ کوارٹر فائنل میں کیے گئے اپنے 2 گولز کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا (جن میں دوسرا گول صدی کے عظیم ترین گولوں میں شمار کیا جاتا ہے) کہ ’’کبھی کبھی مجھے لگتا ہے مجھے اپنے ہاتھ سے کیا گیا گول زیادہ پسند ہے۔‘‘ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’’یہ کچھ ایسا تھا جیسے میں نے کسی انگریز کی جیب سے اس کا بٹوہ چرا لیا ہو۔‘‘ اس وقت ’فالکلینڈز‘ جنگ کو گزرے صرف 4 سال ہی ہوئے تھے، اور دونوں ممالک اس کی تکلیف اور زخموں کو شدت سے محسوس کر رہے تھے۔ میراڈونا نے اس جیت کو ’انتقام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگرچہ ہم نے میچ سے پہلے یہ کہا تھا کہ فٹبال کا ’مالویناس‘ کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن ہم جانتے تھے کہ انہوں نے وہاں بہت سے ارجنٹائنی نوجوانوں کو مارا تھا، انہیں چڑیوں کی طرح مار دیا تھا۔ اس لیے یہ ہماری جانب سے انتقام تھا۔‘‘

کھیلوں کی دنیا میں بعض مقابلے صرف کھیل کے میدان تک محدود رہتے ہیں، کچھ سیاسی اور ثقافتی عداوت سے پروان چڑھتے ہیں، کچھ نوآبادیاتی تاریخ کی تلخیوں سے جنم لیتے ہیں، جبکہ کچھ مختلف کھیلوں کے نظریات کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ انگلینڈ اور ارجنٹائنا کا مقابلہ، جو 24 سال بعد ایک بار پھر بدھ کو اٹلانٹا میں عالمی کپ کے سیمی فائنل میں عالمی اسٹیج پر دیکھنے کو ملے گا، ان تمام عوامل کا مجموعہ ہے۔ ان دونوں ٹیموں کے درمیان شاید ہی کبھی کوئی مقابلہ بغیر تنازعہ یا کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوا ہو، اور ہر بار ماضی کے زخم دوبارہ تازہ ہو جاتے ہیں۔


میراڈونا کا ’ہینڈ آف گاڈ‘ آج بھی بھلایا نہیں گیا ہے اور نہ معاف کیا گیا ہے۔ اس کی یاد اس وقت بھی تازہ ہوئی جب انگلینڈ نے میکسیکو سٹی کے ازٹیکا اسٹیڈیم میں میکسیکو کے خلاف پری کوارٹر فائنل کھیلا۔ میزبان ٹیم کو 3-2 سے شکست دینے کے بعد انگلینڈ کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی پرانے نحوست بھرے باب کا خاتمہ ہو گیا ہو، لیکن حقیقی نجات تب ہوگی اگر وہ اٹلانٹا میں لیونل میسی کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب ہو جائے۔ 1998 کے عالمی کپ میں ڈیاگو سیمیونے کو فاؤل کرنے پر ڈیوڈ بیکہم کو دکھایا گیا ریڈ کارڈ بھی اس رقابت کی ایک نمایاں علامت بن گیا۔ اتفاق سے دونوں شخصیات رواں عالمی کپ میں وی آئی پی باکس میں بھی باقاعدگی سے نظر آتی رہی ہیں۔ اس واقعے کو اکثر ارجنٹائنا کی چالاکی اور نفسیاتی حربوں کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کئی برس بعد سیمیونے نے بغیر کسی پشیمانی کے اعتراف کیا کہ انہوں نے ریفری کو دھوکا دیا تھا۔ انہوں نے ’آبزرور اسپورٹس منتھلی‘ کو بتایا کہ ’’میں نے اسے ٹیکل کیا، ہم دونوں گر گئے۔ جب میں اٹھنے لگا تو اس نے پیچھے سے مجھے لات ماری۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا، اور میرا خیال ہے کہ کوئی بھی شخص ایسی صورت حال میں یہی کرتا۔‘‘ بیکہم نے اگلے ہی عالمی کپ یعنی 2002 میں، واحد گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلائی اور یوں کسی حد تک اس واقعے کا بدلہ لیا۔ یہی دونوں ٹیموں کی عالمی سطح پر آخری ملاقات تھی۔


فٹ بال میں ریڈ اور یلو کارڈ متعارف کرانے کا خیال بھی 1966 کے عالمی کپ میں انگلینڈ اور ارجنٹائنا کے درمیان کھیلے گئے انتہائی کشیدہ کوارٹر فائنل کے بعد سامنے آیا، جس میں انگلینڈ نے 1-0 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ارجنٹائنا کے کپتان انٹونیو ریٹین، جن کا جمعہ کے روز 84 برس کی عمر میں انتقال ہوا، صرف 2 منٹ کے اندر 2 خلاف ورزیوں پر میدان سے باہر بھیج دیے گئے۔ انہوں نے میدان چھوڑنے سے انکار کیا، ریفری کی شرٹ پکڑ لی اور اسے گھونسہ مارنے کی دھمکی بھی دی۔

میچ کے بعد ٹنل میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے سے الجھ گئے اور مقامی پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ اسی ہنگامے کے دوران ایک شخص نے ٹنل میں پیشاب بھی کر دیا۔ راٹین نے بعد میں غصے سے کہا کہ ’’یہ بالکل واضح تھا کہ ریفری نے انگلینڈ کی جرسی پہن رکھی تھی۔‘‘ ارجنٹائنا کے روبرٹو فریرو نے ریفری پر حملہ کیا جبکہ ایرمندو اونیگا نے فیفا کے نائب صدر ہیری کیون کے چہرے پر تھوک دیا۔ جب فل بیک جارج کوہن اپنی جرسی تبدیل کرنے لگے تو ٹیم کے منیجر الف ریمزی نے انہیں روک کر کہا کہ ’’جارج، تم اس جانور کے ساتھ اپنی جرسی نہیں بدلو گے۔‘‘ بعد میں ارجنٹائنا کے بعض کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے ڈریسنگ روم کی طرف کرسیاں بھی پھینکیں۔ جب ایک پولیس اہلکار نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو اس کے چہرے پر ایک سنترہ مارا گیا۔ اس پورے ورلڈ کپ کے دوران یہ الزامات بھی گردش کرتے رہے کہ ریفری انگلینڈ کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔


شائقین کے درمیان جھڑپیں صرف انگلینڈ اور ارجنٹائنا کے میچوں تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ جہاں بھی دونوں ممالک کے مداح آمنے سامنے آتے ہیں، کشیدگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس عالمی کپ میں میامی میں ناروے اور انگلینڈ کے کوارٹر فائنل کے دوران انگلش اور ارجنٹائنی شائقین کے درمیان مارپیٹ کی ویڈیو بھی سامنے آئی۔ سوئٹزرلینڈ کے خلاف ارجنٹائنا کی 3-1 سے کامیابی کے بعد ارجنٹائنی شائقین نے نعرہ لگایا کہ ’ایل کے نو سالتا ایس ان انگلے‘ جس کا ترجمہ ہے ’جو نہیں کودتا، وہ انگریز ہے۔‘

ارجنٹائنا کا مشہور اسٹیڈیم ترانہ ’موچاچوس‘، جو اصل میں ارجنٹائنی بینڈ ’لا موسکا تسے تسے‘ کا گیت ہے، اس میں بھی فاکلینڈز جنگ کا حوالہ موجود ہے۔ اگرچہ میسی اور ان کی نسل شاید اس جنگ کے حوالے سے اتنی شدید جذباتی نہ ہو جتنی میراڈونا کی نسل تھی، لیکن یہ تنازعہ آج بھی ارجنٹائنی قوم پرستی کو ابھارتا ہے۔ بحر اوقیانوس کے 2 جزیروں پر لڑی جانے والی یہ جنگ محض 10 ہفتے جاری رہی، مگر اس کی علامتی لڑائی آج بھی فٹبال کے میدانوں میں زندہ ہے۔ دوسری طرف انگلینڈ کے شائقین بھی کم نہیں۔ قطر ورلڈ کپ میں، اگرچہ میچ انگلینڈ اور ارجنٹائنا کے درمیان نہیں تھا، پھر بھی انہوں نے نعرہ لگایا کہ ’’میراڈونا ایک دھوکے باز تھا۔‘‘


اس پوری کشیدگی کی بنیاد صرف تاریخ یا سیاست نہیں، بلکہ فٹ بال کے دو مختلف نظریات بھی ہیں۔ ارجنٹائنی فٹ بال کی روح ’کریولو‘ طرزِ کھیل میں سمجھی جاتی ہے، جو انفرادی مہارت، تخلیقی صلاحیت اور فنکاری پر مبنی ہے، برخلاف اس منظم اور سخت ڈسپلن والے انداز کے جو ارجنٹائنا میں فٹبال متعارف کرانے والے انگریز آبادکاروں نے رائج کیا تھا۔ جب خوان پیرون 1946 میں ارجنٹائنا کے صدر بنے تو انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم نے پہلے ریلوے کو نیشنلائزڈ کیا، اور اب ہم نے فٹ بال کو بھی قومی بنا دیا ہے۔‘‘

وقت کے ساتھ ارجنٹائنا نے اپنے کھیل میں جسمانی طاقت اور عملی حکمت عملی بھی شامل کر لی، جس کی بہترین نمائندگی عظیم کوچ کارلوس بیلاردو نے کی۔ ارجنٹائنیوں کا خیال تھا کہ انگریز دل کے نرم ہوتے ہیں۔ سابق فٹبالر اور کالم نگار روبرٹو پرفومو نے ایک بار کہا تھا کہ ’’انگلش کھلاڑی زیادہ سادہ لوح ہوتے ہیں۔ ہمارا کھیل زیادہ حساب کتاب پر مبنی ہے۔ ہم اپنے حریف کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں اور اسے ناکام بنانے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی کھلاڑی کی کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اسے غصہ دلایا جا سکے، کیونکہ فٹ بال میں اگر آپ غصے میں آ جائیں تو آپ ہار جاتے ہیں۔‘‘ آج کے انگلش کھلاڑی شاید پہلے جیسے سادہ نہیں رہے، نہ ہی ان کا حوصلہ پہلے جیسا کمزور ہے۔ اب ان کے پاس اس سے بہتر موقع شاید ہی ہو کہ وہ ثابت کریں کہ ارجنٹائنا نے برسوں سے ان کی نفسیات پر جو برتری قائم کر رکھی تھی، وہ اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔