کیا آپ کو معلوم ہے؟ فلم اداکارقادر خان کی خدمات بحیثیت ایک اسلامی اسکالربھی تھیں

قادر خان نے ثمانیہ یونیورسٹی سے 1993میں ماسٹر ان آرٹس کے تحت اسلامک اسٹڈیز کی ڈگری حاصل کی اور انہوں نے عربی پر عبور حاصل کیا۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

معروف اداکار اور مکالمہ نگار قادرخان کے انتقال کو دوسال گزر چکے ہیں ،عین نئے سال کے موقع پر انہوں نے کینڈا میں آخری سانس لی اور وہیں انہیں سپردخاک کیاگیاتھا۔ یہ غم ناک اور دکھ بھری خبر سال 2019 کے آغازمیں موصول ہوئی تھی اور ہندی فلمی دنیا میں صف ماتم بچھ گیا ، 81 سالہ خان طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔

اپنی مزاحیہ اداکاری سے روتوں کو ہنسا دینے کی قدرت رکھتے تھے۔

بتایاجاتا ہے کہ ان کے اجداد افغانستان سے آئے تھےاور پھر ممبئی میں مقیم ہوگئے ۔قادر خان اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کابل سے ممبئی پہنچے اور جنوبی ممبئی کے کماٹی پورہ اورپھرتاڑدیو علاقہ میں قیام کیا ۔ دلیپ کمار نے فلموں میں متعارف کرایا۔ 300 سے زائد فلموں میں کام کیا،انجمن اسلام صابو صدیق کالج میں لیکچرار تھے اور ڈراموں کے شوق نے فلمی دنیا تک پہنچا دیا ۔

مرحوم قادرخان کے بارے میں اکثریت اس بات سے لاعلم ہے کہ انہوں نے تقریباً 25سال سے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے اور دین کی ترویج وتبلیغ کا کام کیا ۔انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیرقاضی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں انجمن کے زیراہتمام صابوصدیق پالی ٹیکنک کا ایک ہونہار طالب علم قراردیا۔انہوں نے کہا کہ قادرخان صابوصدیق میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہیں پر ٹیکنیکل تعلیم میں درس دینے لگے اور خالی وقت میں نوجوانوں کو ڈرامہ کراتے اور تھیٹر میں اداکاری کرتے اور مکالمے بھی لکھتے رہے،اور 1970کی دہائی میں فلموں میں موقعہ ملا اور مکالمے اور کہانیاں لکھنے لگے ،لیکن اداکاری کا پورا موقعہ ملنے کے بعد انہوں نے ملازمت کو خیرباد کردیا۔

سنیئر صحافی سعید حمید کو ان کی کلاسوں میں تعلیم حاصل کرنے اور ڈراموں میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے اور حال تک ان کے تعلقات رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ممبئی کے بدنام ریڈ لائٹ علاقہ کماٹی پورہ میں رہتے ہوئے انہوں نے سول انجنیئرنگ کی تعلیم صابوصدیق پالی ٹیکنک سے حاصل کی اوروہیں الجبرا ،اپلائیڈ میتھس وغیرہ کی تعلیم کے دوران مدرس بن گئے اور ساتھ میں ان کا ڈرامہ کا شوق بھی پروان چڑھا۔ کالج میں یہ بات مشہور تھی کہ ”جس نے قادرخان کا ڈرامہ نہیں دیکھا وہ کالج کبھی گیا ہی نہیں “دلیپ کمار نے ان کے ایک ڈرامہ کو کافی پسند کیا اور انہیں فلم سگینہ اور بیراگ میں اداکاری کی پیش کش کی مگر قادر خان کو اس سے قبل ہی فلم جوانی دیوانی میں مکالمہ لکھنے کا کام مل چکا تھا ،بیراگ میں انہیں پولیس انسپکٹر کے رول میں دیکھا جاسکتا ہے۔ان کا ڈرامہ ’لوکل ٹرین ‘نے جاگرتی ڈرامہ مقابلہ میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تھی۔

قادر خان نے کئی فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ کہانی اور مکالمہ بھی لکھے ،جو کہ سونے پر سہاگہ ثابت ہوا اور فلمی دنیا ان کی مالا جپنے لگی کیونکہ مصنف کے ساتھ اداکار بھی مل گیا تھا۔ ان کے ڈراموں کے چرچے ہونے لگے اور مشہور اردوادیب اور فلم ساز راجندر سنگھ بیدی ،ان کے بیٹے نریندر بیدی اور اداکارہ کامنی کوشل نے ملاقات کرنے کے بعد انہیں فلموں میں جوہر دکھانے کی پیشکش کی اور صرف 1500روپے میں 1971میں ریلیز ہونے والی نریندر بیدی کی فلم جوانی دیوانی میں انہوں نے مکالمہ لکھے تھے۔جوکہ ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی اور انہیں ماہانہ چار سوروپے تنخواہ ملنے لگی ۔جس کے بعد فلمساز اداکارصابوصدیق پالی ٹیکنک پہنچے اور انہیں فلم کھیل کھیل میں مکالمے کی پیشکش کی اور 21ہزار روپے کا لفافہ دے گئے،لیکن مشہور فلمساز منموہن ڈیسائی نے فلم روٹی کے مکالمے لکھوائے جو کہ ’کھیل کھیل میں‘ سے پہلے ریلیز ہوئی تھی۔

من موہن ڈیسائی نے ایک موٹی رقم ،طلائی بریسلیٹ اور ٹی وی سیٹ بھی دیا۔اس کے بعد دونوں نے ”دھرم ویر“،”امر اکبر انتھونی ،”قلی اور تقریباً پندرہ سال میں چھ دیگر فلموں میں ساتھ ساتھ کام کیااور سبھی فلمیں کامیاب رہیں۔

قادر خان نے پرکاش مہرہ کے ساتھ بھی کام کیا حالانکہ من موہن ڈیسائی اور پرکاش مہرہ میں مقابلہ تھا،لیکن دونوں امیتابھ بچن کو چاہتے تھے اور اسی طرح قادرخان بھی ان کے پسندیدہ اداکاراور رائٹر بنے۔ قادر خان نے ایک گفتگو کے دوران بتایا کہ ان کے والدمولوی عبدالرحمن ایک عالم ہی نہیں بلکہ عربی زبان اور اسلامی لٹریچر میں پوسٹ گریجویٹ بھی تھے،جوکہ ہالینڈ ہجرت کرگئے اور انہوں نے وہاں اپنا انسٹی ٹیوٹ کھولا تھا ،انتقال سے قبل انہوں نے قادرخان کو ہالینڈ طلب کیا اور انہیں نصحیت کی کہانہوں نے جو لوگوں میں عربی زبان ،اسلامی قوانین اور قرآن کی تعلیمات اور معلومات کے لیے بیداری پیدا کرنے کی جو مہم شروع کی ہے قادرخان بھی اس میدان میں کام کریں تو قادر خان نے جواب میں کہا کہ وہ اس سلسلہ میں لاعلم ہیں تب ان کے والدنے ان سے سوال پوچھا کہ کیا انہیں پہلے فلموں یا تھیٹر کے بارے معلومات تھی۔مولوی عبدالرحمن نے کہا کہ اگروہ غورکریں تو اسلامی تعلیمات کا موضوع کافی دلچسپ اور اہمیت کا حامل ہے، جس کے بعد قادر خان نے مرحوم والد سے وعدہ کیا اوراس جانب توجہ دیتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی سے 1993میں ماسٹر ان آرٹس کے تحت اسلامک اسٹڈیز کی ڈگری حاصل کرلی ، انہوں نے عربی پر عبور حاصل کیا ،صلاحیت اور ذہانت کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے فلموں میں اپنا کام جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ایک ایسی ٹیم تیار کی جو کے جی (ابتدائی تعلیم )سے پوسٹ گریجویٹ سطح کا اسلامی نصاب تیار کرسکے ۔

فلم ذرائع کے مطابق قادر خان کہتے تھے کہ قرآن میں جو احکامات ہیں ،ان میں ساری انسانیت کے لیے ہدایات دی گئی ہیں اور مسلمان اس پر عمل کرکے اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار سکتے ہیں،کیونکہ قرآن کو بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ قانون کی ایک مکمل کتاب محسوس ہوگی اور اسے ضابطہ حیات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے،جس میں زندگی کو گزرانے کا طریقہ اور نصب العین پیش کیا گیا ۔

قادر خان نے پہلے دوبئی اور پھر اس کا مرکز کینڈااور ممبئی میں کھولا تھا اور اس کے ذریعہ اسلام کو صحیح انداز میں پیش کرنے کابیڑہ اٹھایا ۔انہوں نے عربی اورجنوبی ایشیاءکے سبب اردومیں اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے کے لیے نصاب تیار کیا تاکہ اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دورکیا جاسکے ۔ قادرخان نے دوبئی میں پہلا قادرخان (کے کے انسٹی ٹیوٹ )برائے اسلامی ریسرچ اینڈ اسٹیڈی سینٹر2003میں کھولا ،جہاں پہلے سے انکا رنگ مچ تھیٹر اکیڈمی واقع تھا جس کے وہ ڈائرکٹر تھے۔انہوں نے تقریباً 25سال پہلے اسلام کی تبلیغ اور فروغ کا کام شروع کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام کے طلباءکے لئے آسانی پیدا کی جائے اور وہ اس کی بنیاد سے ماہر بن جائیں ۔اس انسٹی ٹیوٹ میں 25-25طلباءپر مشتمل دوتین بیچ رہتے تھے۔جبکہ ویڈیوریکارڈنگ سے بھی لیکچر دیئے جاتے ہیں۔بلا آمدنی کا فیس اسٹرکچر ہے ۔تین ماہ کے کورس کے بعد عملی طورپر تربیت دی جاتی ہے۔جبکہ چھ ماہ کے دوران عربی گرامر،حدیث اور صحابہ ،تاریخ اسلام اور عبادت کے بارے میں سکھایا جاتا تھا۔

تیسرے مرحلے میں فقہ ،تفسیر اور تاریخ اسلام اور چاروں امام کی تعلیمات خطبات اور حضور کے فرمان کے بارے میں تربیت دی جاتی تھی۔ عربی زبان میں چھ مہینے کا کورس بھی مرتب کیا گیا تھا۔آئی ٹی ،کمپیوٹر ہارڈ ویئر،پلمبنگ ، الیکٹریکل وغیرہ کی تربیت دی جاتی تھی۔الجبرا،جیومیٹری ،فزکس اور کیمسٹری وغیرہ جیسے مضامین بھی سکھانے کےلئے منصوبہ بندی کی گئی تھی،لیکن قادر خان کی رحلت کے نتیجے یہ اسلامک مراکز بند ہوچکے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next