’فیملی اور رشتے پیچھے چھوٹ گئے‘، سنگاپور فلم فیسٹیول میں عامر خان ہوئے جذباتی
’اسکرین آئیکن ایوارڈ‘ قبول کرتے ہوئے عامر خان نے فیسٹیول کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جیکی چن کے ہاتھوں یہ ایوارڈ ملنے سے یہ لمحہ مزید خاص ہو جاتا ہے۔

22 اکتوبر کو سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے اسٹیج پر بالی ووڈ اداکار عامر خان جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے اداکاری کے کریئر کے اپنے سب سے مشکل دور کو یاد کیا اور بتایا کہ کس طرح مسلسل 3 دہائیوں تک کام کرنے کی وجہ سے انہیں اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع نہیں مل سکا۔ یہ جذباتی لمحہ دیر شام اس وقت آیا، جب سنگاپور کے کامیڈین رشی بودھرانی کے ساتھ گفتگو کے دوران عامر سے ان کے کریئر کے سب سے مشکل دور کے بارے میں پوچھا گیا۔
دراصل مسٹر پرفکشنسٹ کے نام سے مشہور عامر خان کو ہانگ کانگ کے مشہور فلم ڈائریکٹر پیٹر چن ہو-سن نے فیسٹیول کا ’اسکرین آئیکن ایوارڈ‘ پیش کیا۔ اس کے بعد رشی بودھرانی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عامر خان نے کچھ اہم باتیں سامنے رکھیں۔ ’ورائٹی‘ کے مطابق عامر خان نے بتایا کہ ’’کووڈ کے دوران جب میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ میری زندگی کے تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں۔ کسی کام میں ایک، 2 یا 5 سال تک پوری طرح جنون کی حد تک ڈوب کر کام کرنا ٹھیک ہے، لیکن اگر ایسا 30 سال تک جاری رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنے رشتے کھو دیے ہیں۔ آپ کے بچے بڑے ہو گئے ہیں، اب وہ بالغ ہو چکے ہیں۔ اس لیے مجھے بہت کچھ کھو دینے کا گہرا احساس ہوا۔‘‘
بات کرتے ہوئے عامر خان کچھ لمحوں کے لیے رکے اور جذباتی ہو کر رو پڑے۔ پھر انہوں نے معذرت کی اور خود کو سنبھالا۔ اس دوران سامعین ان کی حوصلہ افزائی کے لیے تالیاں بجاتے نظر آئے۔ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ اس احساس نے انہیں ایک بڑی تبدیلی کرنے کی ترغیب دی۔ گزشتہ 4 سال سے وہ قصداً اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے لیے وقت نکال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے کہ یہ خیال مجھے 56 سال کی عمر میں آیا، نہ کہ 86 سال کی عمر میں، جب کچھ بھی کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی۔‘‘
گفتگو کے دوران عامر خان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا راج کمار ہیرانی کی ہدایت کاری میں 2009 میں بنی کیمپس کامیڈی فلم ’تھری ایڈیٹس‘ کا سیکوئل بن رہا ہے؟ اس بارے میں عامر خان نے کہا کہ ’’میں زیادہ کچھ تو نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ہاں، راجو اسکرپٹ پر کام کر رہے ہیں۔ دراصل، امید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں جب میں واپس آؤں گا تو وہ مجھے اسکرپٹ کا حتمی ورژن سنائیں گے۔ تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے!‘‘
اپنے سب سے مشکل لمحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے خان نے اپنے کریئر کے آغاز کے ایک اور مشکل دور کو یاد کیا۔ 1988 میں اپنی پہلی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ کی کامیابی کے بعد انہوں نے چھ ماہ کے اندر نو فلمیں سائن کر لی تھیں۔ انہوں نے سوچا کہ اگر بڑے اسٹار ایک ساتھ کئی پروجیکٹ سنبھال سکتے ہیں تو وہ بھی 10 فلمیں کر سکتے ہیں۔ فلموں کی شوٹنگ شروع ہونے پر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ گھر آ کر اپنی اس وقت کی اہلیہ رینا کے سامنے رویا کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کی فلمیں یکے بعد دیگرے فلاپ ہوتی گئیں اور ان پر ’ون فلم ونڈر‘ یعنی صرف ایک فلم میں کامیابی حاصل کرنے والے اداکار کا ٹھپہ لگا دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’اس وقت ذہنی اور جذباتی طور پر مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں دلدل میں پھنس گیا ہوں۔ میں آہستہ آہستہ اس میں دھنستا جا رہا تھا اور باہر نکلنے کے لیے جتنی زیادہ جدوجہد کرتا، اتنا ہی گہرائی میں دھنستا جاتا تھا۔‘‘
بہرحال، ’اسکرین آئیکن ایوارڈ‘ قبول کرتے ہوئے عامر خان نے فیسٹیول کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جیکی چن کے ہاتھوں یہ ایوارڈ ملنے سے یہ لمحہ مزید خاص ہو جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’فلم بنانا ایک اجتماعی فن ہے، جس میں بہت سے لوگ ایک دوسرے کے کام میں اپنا تعاون دیتے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
