شامی خانہ جنگی چودھویں سال میں داخل، تشدد میں اضافہ

شام میں تشدد ایسے وقت بڑھ رہا ہے جب کہ دنیا کی توجہ زیادہ تر دیگر بحرانوں جیسا کہ یوکرین پر روس کے حملے اور غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ پر مرکوز ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

user

Dw

مارچ 2011ء میں شروع ہونے والے تنازعے میں نصف ملین افراد ہلاک جبکہ ایک ملین سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے متاثرین کی مدد کے لیے بارہا اپیلوں کے باوجود امدادی رقم کے حصول میں شدید مشکلات درپیشں ہیں۔ شام میں برسوں سے جاری خانہ جنگی بڑی حد تک ایک منجمد تنازعہ رہی ہے، یہ ملک اب مؤثر طریقے سے صدر بشار الاسد کی دمشق حکومت، مختلف اپوزیشن گروپوں اور شامی کرد فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں بٹ گیا ہے۔

تاہم کل جمعہ کے روز اس تنازعے کے 14ویں سال میں داخل ہونے پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہاں تشدد ایک بار پھر سے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب کہ دنیا کی توجہ زیادہ تر دیگر بحرانوں جیسا کہ یوکرین پر روس کے حملے اور غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ پر مرکوز ہے۔


اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ باڈی انڈیپینڈنٹ انٹرنیشنل کمیشن آف انکوائری آن سیریا نے اس ہفتے کہا تھا کہ اکتوبر کے بعد سے ملک میں 2020ء کے بعد تشدد کی بدترین لہر دیکھی گئی ہے۔ یہاں جاری جنگ تقریباً نصف ملین افراد کو ہلاک جبکہ جنگ سے قبل کی ملکی 23 ملین آبادی میں سے نصف کو بے گھر کر چکی ہے۔

ملک میں خانہ جنگی کا آغاز مارچ 2011 ء میں اسد حکومت کے خلاف پرامن احتجاج سے ہوا تھا۔ اس سال مشرق وسطیٰ میں عرب بہار کی وجہ سے اس خطے کے دوسرے ممالک میں بھی لوگوں کو ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شام میں بھی عوامی بغاوت تیزی سے مکمل طور پر پھیلی ہوئی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئی۔


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تنازعے کے تمام اطراف غیر ملکی افواج کی مداخلت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ پہلے القاعدہ سے منسلک گروپوں اور پھر اسلامک اسٹیٹ گروپ کی اس تنازعےمیں شمولیت کی وجہ سے اس میں اور بھی شدت آگئی۔

اس دوران روس، ایران کے ساتھ مل کر جنگ میں اسد کا سب سے بڑا اتحادی بن گیا، اس طرح ترکی نے شامی اپوزیشن کے مخصوص گروپوں جبکہ امریکہ نے شامی کردوں کی حمایت کی۔ اسرائیل نے شام میں لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور ایرانی فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔


تشدد میں حالیہ اضافے کا آغاز اکتوبر میں حکومت کے زیر انتظام شہر حمص میں ملٹری اکیڈمی کی گریجویشن تقریب پر کیے گئے ڈرون حملے سے ہوا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد شامی حکومت اور اتحادی روسی افواج نے حزب اختلاف کے زیر قبضہ شمال مغرب میں بمباری کرتے ہوئے''معروف اور نمایاں ہسپتالوں، اسکولوں، بازاروں اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔‘‘

دوسری جگہوں پر اسرائیلی حملوں نے شامی حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں ایران سے منسلک اہداف کو نشانہ بنانے میں تیزی لائی۔ ان حملوں میں بعض اوقات عام شہریوں کو بھی نشانہ بننا پڑتا ہے۔ شامی تنازعہ کی متعدد اور پیچیدہ تہوں کی موجودگی میں اس بحران کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ شام کے بحران کے لیے اقوام متحدہ کے ڈپٹی ریجنل ہیومینٹیرین کوآرڈینیٹر ڈیوڈ کارڈن نے شمال مغربی شام کے حالیہ دورے کے دوران کہا کہ 2023 ءکے لیے اقوام متحدہ نے انسانی ہمدردی کے تحت، جس پانچ بلین ڈالر سے زائد رقم کی اپیل کی تھی، اس کا صرف 38 فیصد حصہ ہی حاصل ہوسکا۔


اقوام متحدہ کی جانب سے بارہا اپیلیں جاری کرنے کے باوجود بھی شامی ضرورت مند افراد کے لیے امدادی رقم اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا، "شمال مغربی شام میں 4.2 ملین لوگ ضرورت مند ہیں اور ان میں دو ملین بچے ہیں،جن میں سے 10 لاکھ اسکول نہیں جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس اہلکار کے مطابق، ''یہ ایک کھوئی ہوئی نسل ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔