یہ ایک پیشہ ور ٹیم کی جیت ہے، جنوبی افریقہ پر جیت کے بعد وراٹ کوہلی کا بیان
دنیا کی نمبر دو ٹیم انڈیا نے آئی سی سی ورلڈ کپ میں اپنی مہم کا آغاز سب سے آخری ٹیم کے طور پر کیا لیکن کپتان وراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ کے خلاف ملی جیت کو پیشہ ورانہ طریقے سے کھیل کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ساؤتھمپٹن: دنیا کی نمبر دو ٹیم انڈیا نے آئی سی سی ورلڈ کپ میں اپنی مہم کا آغاز سب سے آخری ٹیم کے طور پر کیا لیکن کپتان وراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ کے خلاف بدھ کو ملی جیت کو پیشہ ورانہ طریقے سے کھیلنے کا نتیجہ قراردیا ہے۔
وراٹ نے جنوبی افریقہ کے خلاف چھ وکٹ کی جیت کے بعد کہا ’’پہلی جیت ہمیشہ اہم ہوتی ہے. ہم میدان پر ایک ٹیم کی طرح کھیلے۔ بلے سے ہمیں تھوڑی محنت کرنی پڑی کیونکہ مخالف ٹیم کے پاس اچھے بالنگ اٹیک تھے۔ اس لئے روہت شرما کی سنچری بہت بہت خاص رہی۔ اہم میچوں میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو ٹیم کے لئے کھڑے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔
کپتان نے بلے بازوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا’’ہمارے سب سے ٹاپ تین بلے بازوں میں سے کوئی ایک سنچری بنائے یہی ہمارے لیے خاص تھا۔ لوکیش راہل نے اچھی بلے بازی کی۔ اس کے بعد مہندر سنگھ دھونی نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہاردک پانڈیا نے میچ کو اچھے سے ختم کیا، وہ اس وقت اچھی فارم میں ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم کاغذ پر مضبوط ٹیم ہیں لیکن تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے جیتنا بہترین پیشہ ورانہ زاویہ کا مظہر ہے‘‘۔
وراٹ نے اگرچہ مانا کہ عالمی کپ میں مہم شروع کرنے والی آخری ٹیم ہونے کی وجہ سے ٹیم انڈیا کا انتظار کافی طویل رہا اور یہ بہت مشکل تھا. انہوں نے کہا’’ہمارے حساب سے صحیح سمت میں شروع کرنا زیادہ ضروری ہے۔ ہمارا رن ریٹ بہت اچھا نہیں تھا لیکن اگر آپ کھیل اور پچ کو دیکھیں تو یہ مشکل تھا۔ روہت کی تعریف کرنی ہوگی جنہوں نے ایسی اننگز کھیلی اور وہ بلے باز جنہوں نے ان کی مدد کی‘‘۔
کپتان نے کہا کہ گزشتہ دو میچ ہار چکی جنوبی افریقہ پر دباؤ بنانے کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا’’حریف پر دباؤ کیلئے ہمیں ابتدائی 15 اوورز میں اچھی کارکردگی کرنا تھا۔ جسپريت بمراه نے تو بالکل مختلف طرح کا کھیل دکھایا. جس طرح وہ گیند بازی کرتے ہیں بلےبازوں کو دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ چہل نے بھی متاثر کیا‘‘۔
وراٹ نے مانا کہ افریقی ٹیم کی کارکردگی بھی میچ میں اتنی متاثر کن نہیں رہی۔انہوں نے کہا ’’میں نے پہلے ہاشم آملہ کو اس طرح ونڈے کرکٹ میں آؤٹ ہوتے نہیں دیکھا ہے. جب میں نے بمراه کی گیند پر كوئنٹن ڈی کاک کا کیچ پکڑا تو 15 منٹ تک میرا ہاتھ چوٹ سے سنسنا تا رہا ۔بمراه بلے باز کو کوئی جگہ نہیں دے رہے تھے اور نئی گیند کے ساتھ ان کی بالنگ شاندار تھی۔ انہوں نے اپنی رفتار سے ڈی کاک کو شکست دی‘‘۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
