ٹیسٹ میچ: ہندوستان نے افغانستان پر تاریخی فتح درج کی، ایک اننگ اور 300 رنوں سے دی شکست فاش
ہندوستان نے پہلی اننگ میں 8 وکٹ کے نقصان پر 564 رن بنا کر اننگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ جواب میں افغانستان کی ٹیم نے پہلی اننگ میں 152 رن اور دوسری اننگ میں 112 رن بنائے۔

ہندوستان نے افغانستان کو نیو چنڈی گڑھ میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ میچ مین شکست دے کر اپنی سب سے بڑی جیت درج کی ہے۔ ہندوستان نے افغانستان کو اننگ اور 300 رنوں سے شکست دی، جو کہ ٹیسٹ تاریخ میں اس کی سب سے بڑی جیت رہی۔ اس سے قبل ہندوستان کی سب سے بڑی ٹیسٹ جیت ویسٹ انڈیز کے خلاف 2018 میں آئی تھی، جس میں اس نے اننگ اور 272 رن کے فرق سے جیت درج کی تھی۔ سیدھی زبان میں کہیں تو ہندوستان نے ٹیسٹ میں سب سے بڑی جیت کے معاملے میں اپنا 8 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
یہ افغانستان کے خلاف بھی ہندوستانی ٹیم کی سب سے بڑی جیت ہے۔ اس سے قبل ہندوستان نے افغانستان کو بنگلورو میں 2018 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں اننگ اور 262 رنوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ یعنی ہندوستان نے افغانستان کے خلاف اب تک جو دونوں ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، ان دونوں میں اس نے اننگ کے فرق سے جیت درج کی ہے۔
بہرحال، نیو چنڈی گڑھ کے مہاراجہ یادویندر سنگھ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم پر ہندوستان اور افغانستان کے درمیان کھیلا گیا ٹیسٹ میچ صرف 3 دن میں ہی ختم ہو گیا۔ اس ٹیسٹ میں ہندوستان نے پہلے بلے بازی کی تھی اور 8 وکٹ کے نقصان پر 564 رن بنا کر اپنی اننگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ہندوستان کی جانب سے کپتان شبھمن گل اور کے ایل راہل نے سنچری بنائی تھی، جبکہ رشبھ پنت اور سائی سدرشن نے 81-81 رنوں کی اننگ کھیلی تھی۔
ہندوستان کے ذریعہ پہلی اننگ میں 564 رنوں کا عظیم اسکور بنائے جانے کے بعد افغانستان کی ٹیم پہلی اننگ میں محض 152 رنوں پر سمٹ گئی۔ اس طرح ہندوستان کو 412 رنوں کی سبقت حاصل ہو گئی۔ پہلی اننگ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے مانو ستھر نے سب سے زیادہ 6 وکٹ لیے۔ پہلی اننگ کی بنیاد پر ہندوستان نے افغانستان کو فالو آن دیا، اور دوسری اننگ میں مہمان ٹیم محض 112 رن ہی بنا سکی۔ اس طرح ہندوستان نے یہ ٹیسٹ میچ ایک اننگ اور 300 رنوں کے بڑے فرق سے جیت لیا۔ مانو ستھر کو پورے میچ میں 7 وکٹ لینے اور 28 رن بنانے پر پلیئر آف دی میچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
