کرفیو میں کرسی کو بلے باز مان کر کرتے تھے پریکٹس، آئیے جانتے ہیں عاقب نبی ڈار کا بارہمولہ سے ٹیم انڈیا تک کا سفر
عاقب نبی نے اپنی ریاست کے لوگوں سے کہا کہ ’’میرا صرف اتنا پیغام ہے کہ جس طرح اب تک میرا ساتھ دیا ہے، آگے بھی دیتے رہیے۔ ہمیں آپ کی حمایت اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔‘‘

سری لنکا کے خلاف 15 اگست سے شروع ہونے والی 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے جب ہندوستانی ٹیم کا پہلی بار اعلان ہوا تھا تو سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ 29 سالہ عاقب نبی کو ٹیم میں جگہ کیوں نہیں ملی۔ جموں و کشمیر کے اس تیز گیندباز کو 2 شاندار گھریلو سیزن کے بعد بھی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ کافی باتیں ہوئیں اور سابق کرکٹروں نے سلیکٹرز کو ہدف تنقید بنایا۔ حالانکہ ان کے لیے ٹیم کا راستہ تب کھلا جب زخمی جسپریت بمراہ سیریز سے باہر ہو گئے۔
بارہمولہ میں پلے بڑھے عاقب نبی کے لیے کرکٹ کھیلنا آسان نہیں تھا۔ وہاں نہ تو اچھی پچ تھی اور نہ ہی پریکٹس کرنے کے لیے مناسب سہولیات۔ کئی بار کرفیو کی وجہ سے میدان تک پہنچنا بھی ممکن نہیں ہوتا تھا۔ ایسے ماحول میں انہوں نے شکایت کرنے کے بجائے دستیاب وسائل سے ہی اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوشش کی۔ عاقب یاد کرتے ہیں کہ ’’مشکل یہ نہیں تھی کہ کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا، مشکل یہ تھی کہ سہولیات نہیں تھیں۔ جموں و کشمیر میں پریکٹس کے لیے اچھی وکٹیں نہیں تھیں۔ میرے پاس کھیل کے لیے ضروری لوازمات بھی نہیں تھے، جو کچھ دستیاب تھا اسی سے کوشش کی اور خود کو تیار کیا۔‘‘
عاقب نبی ڈار کی زندگی کی سب سے جذباتی یاد ان دنوں کی ہے، جب بارہمولہ میں کرفیو لگا ہوا تھا۔ میدان بند تھے لیکن ان کا خواب نہیں رکا۔ ان کے والد نے گھر کے اندر عارضی نیٹ لگایا اور ایک کرسی کو بلے باز مان کر عاقب گھنٹوں گیندبازی کرتے رہے۔ ڈھلتی شام تک وہ اپنی لینتھ اور لائن سدھارتے رہتے۔ عاقب بتاتے ہیں کہ ’’ان دنوں سہولیات بہت کم تھیں، جو تھیں اسی میں کام چلانا پڑتا تھا۔‘‘ بہتر سہولیات کی تلاش میں انہیں روزانہ تقریباً 60 کلومیٹر دور سرینگر تک جا کر پریکٹس کرنی پڑتی تھی۔
عاقب نبی کی محنت کا اثر پہلی بار 2015 میں نظر آیا جب انہوں نے جموں و کشمیر کی انڈر-19 ٹیم سے ڈیبیو کیا۔ اس کے بعد وہ انڈر-23 ٹیم تک پہنچے۔ اس دوران سی کے نائیڈو ٹرافی میں کیرالہ کے خلاف 5 وکٹیں لے کر انہوں نے اپنی صلاحیت کا شاندار تعارف کرایا۔ اس کے بعد 2018 میں انہوں نے لسٹ-اے کرکٹ میں اور 2 سال بعد فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔ ان کی ابتدائی کارکردگی شاندار رہی۔ پہلے 2 لسٹ-اے سیزن میں انہوں نے 18 میچوں میں 22.55 کی اوسط سے 34 وکٹیں لیں، جبکہ اپنے پہلے فرسٹ کلاس سیزن میں 18.50 کی اوسط سے 24 وکٹیں جھٹکیں۔
حالانکہ اس کے بعد کا دور عاقب کے لیے آسان نہیں رہا۔ آئندہ 3 فرسٹ کلاس سیزن میں وہ صرف 22 وکٹیں ہی لے سکے اور ان کی گیندبازی کی اوسط بڑھ کر 42.46 ہو گئی۔ عاقب نبی کی کارکردگی میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ منظم کوچنگ کی کمی تھی۔ ان کے ہائی-آرم ایکشن سے سوئنگ گیندبازی قدرتی طور پر ہوتی تھی، لیکن ابتدائی سالوں میں انہیں تکنیکی رہنمائی تقریباً نہیں ملی۔ اس کے بعد ان کا کیریئر کچھ وقت کے لیے ٹھہر سا گیا۔ 3 گھریلو سیزن میں وہ توقع کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ اس دور کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں بولنگ کوچ نہیں تھا۔ مجھے یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا کہ میں کہاں غلطی کر رہا ہوں۔‘‘
عاقب نبی کی زندگی میں بولنگ کوچ پی کرشن کمار کی انٹری ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف عاقب نبی کی تکنیک کی اصلاح کی بلکہ سوچ بھی بدل دی۔ عاقب نے کہا کہ ’’کوچ نے میری چھوٹی چھوٹی غلطیاں پکڑنا شروع کیں اور بتایا کہ ان کی کیسے اصلاح کرنی ہے۔ پہلے میں صرف نتائج کے بارے میں سوچتا تھا، لیکن بعد میں دباؤ کو سنبھالنا سیکھ گیا ہوں۔ میں صرف وہی کرتا ہوں، جو کوچ کہتے ہیں۔‘‘
گزشتہ سال رنجی ٹرافی میں ممبئی کے خلاف میچ نے عاقب کی پہچان بدل دی۔ روہت شرما، یشسوی جیسوال، اجنکیا رہانے، شریس ایئر اور شیوم دوبے جیسے ستاروں سے سجی ٹیم کے خلاف انہوں نے دوسری اننگ میں 4 وکٹیں لے کر جموں و کشمیر کو تاریخی جیت دلائی۔ ممبئی کی ٹیم 300 رنز سے قبل ہی سمٹ گئی اور جموں و کشمیر کو 205 رنز کا ہدف ملا، جسے اس نے حاصل کر کے بڑی جیت درج کی۔
اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ جیت صرف ٹیم کے لیے ہی نہیں بلکہ عاقب کے کیریئر کے لیے بھی ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ 26-2025 رنجی ٹرافی میں 10 میچوں میں 12 کی اوسط سے 60 وکٹیں لے کر جموں و کشمیر کو پہلا رنجی ٹرافی خطاب دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل کے سیزن میں بھی ان کے نام 44 وکٹیں تھیں۔ اس دوران ان کا اوسط 13.93 کا تھا۔ آئندہ گھریلو سیزن میں بھی عاقب کی بہترین کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے دلیپ ٹرافی میں مسلسل 4 گیندوں پر 4 وکٹیں لے کر تاریخ رقم کر دی۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایسا کرنے والے ہندوستان کے صرف پانچویں گیندباز بنے۔ اس کے بعد پورے گھریلو سیزن میں انہوں نےاپنی شاندار کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھا اور مسلسل وکٹ لیتے رہے۔
عاقب نبی کی محنت پر آئی پی ایل فرنچائزی کی بھی نظر پڑی۔ وہ پہلے سن رائزرز حیدرآباد، کولکاتہ نائٹ رائڈرز اور گجرات ٹائٹنز کے نیٹ گیندباز رہے۔ بعد میں دہلی کیپیٹلس نے انہیں 8.4 کروڑ روپے میں خرید لیا۔ نیلامی کی اس رات کو یاد کرتے ہوئے عاقب کہتے ہیں کہ ’’جب میرا نام آیا تو گھر میں سب جذباتی ہو گئے۔ سالوں کی محنت کا خواب پورا ہو رہا تھا۔ میں بھی اپنے اہل خانہ کو دیکھ کر جذباتی ہو گیا۔‘‘ حالانکہ ان کے نزدیک پیسوں سے زیادہ اہمیت آئی پی ایل میں کھیلنے کا موقع ملنا تھا۔ عاقب نے بتایا کہ ’’میرے لیے پیسہ سب سے بڑی چیز نہیں تھی۔ میں صرف آئی پی ایل کھیلنا چاہتا تھا۔ اگر 30 لاکھ بھی ملتے تو بھی میں اتنا ہی خوش ہوتا۔‘‘
عاقب نبی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے لیے کھیلنا ان کا ہمیشہ سے سب سے بڑا خواب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کے لیے میچ جیتنا میرا سب سے بڑا خواب ہے۔ میں نے ریڈ بال کرکٹ میں اچھا کیا ہے، لیکن مجھے اس کارکردگی کو مسلسل جاری رکھنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے اپنی ریاست کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا صرف اتنا پیغام ہے کہ جس طرح اب تک میرا ساتھ دیا ہے، آگے بھی دیتے رہیے۔ ہمیں آپ کی حمایت اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
