آئی پی ایل کے طرز پر ٹی-20 لیگ شروع کرنے کی تیاری میں نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ

گزشتہ 21 سالوں سے نیوزی لینڈ میں ٹی-20 کرکٹ کے طور پر ’سُپر اسمیش‘ کھیلا جا رہا ہے، لیکن بدلتی عالمی صورتحال اور آئی پی ایل جیسی لیگوں کی کامیابی کے پیش نظر بورڈ نے 2 دہائی بعد تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نیوزی لینڈ ٹیم کے کھلاڑی جیت کا جشن مناتے ہوئے، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/BLACKCAPS">@BLACKCAPS</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ (این زیڈ سی) بھی اب دنیا کے تمام بڑے کرکٹ بورڈس کی راہ پر چلنے کا ارادہ کر چکا ہے۔ عالمی ٹی-20 سرکٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی سمت میں نیوزی لینڈ نے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ بورڈ نے اصولی طور پر اپنی نئی فرنچائز پر مبنی ٹی-20 لیگ ’این زیڈ 20‘ کو ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے بنیادی متبادل کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ نیوزی لینڈ میں کرکٹ کے مستقبل اور اس کے تجاری ڈھانچے کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 21 سالوں سے نیوزی لینڈ میں ٹی-20 کرکٹ کے طور پر ’سُپر اسمیش‘ کھیلا جا رہا ہے، لیکن بدلتی عالمی صورتحال اور آئی پی ایل جیسی لیگوں کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے اب 2 دہائی کے بعد تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی چیئرپرسن ڈائنا پکیتاپو لِنڈن نے واضح کیا ہے کہ بورڈ نے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں توسیع کرنے اور اپنی خود کی ’این زیڈ 20‘ لیگ شروع کرنے کے درمیان گہرا تبادلہ خیال کیا۔ اسی وجہ سے بورڈ نے مقامی شناخت کو برقرار رکھنے اور اسے نئی شکل دینے کے لیے ’این زیڈ 20‘ کے حق میں فیصلہ سنایا۔


حالانکہ یہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہے، لیکن بورڈ کی ترجیح اب پوری طرح سے ’این زیڈ 20‘ کے لیے لائسنسنگ اور تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دینے پر ہے۔ ’ڈیلائٹ‘ کی رپورٹ اور مختلف اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ نیوزی لینڈ کی اپنی ایک مضبوط عالمی برانڈ ویلیو ہے، خاص طور پر خواتین کی کرکٹ ٹیم کے ٹی-20 ورلڈ کپ چمپئن بننے اور مردوں کی کرکٹ ٹیم کی مسلسل شاندار کارکردگی نے اس لیگ کے لیے ایک ٹھوس بنیاد تیار کی ہے۔

’این زیڈ 20‘ لیگ میں خواتین کے ٹی-20 مقابلوں کو برابر کی اہمیت اور کوریج دی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ٹیموں کی نمائندگی علاقائی بنیادوں پر ہو تاکہ مقامی شائقین اپنے ستاروں کو لائیو دیکھ سکیں۔ ساتھ ہی بورڈ مالکانہ حقوق اور ایکویٹی جیسے اہم معاملات پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ ڈائنا پکیتاپو لِنڈن کے مطابق یہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے لیے ایک پرجوش وقت ہے۔ ہم ایک ایسا نتیجہ چاہتے ہیں جو یہاں کے کھیل کے مفادات کے لیے بہترین ثابت ہو۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ ’این زیڈ 20‘ لیگ نہ صرف معاشی طور پر بورڈ کو خود کفیل بنائے گی بلکہ نوجوان کرکٹرس کو بھی عالمی سطح کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔