قصداً ’نو بال‘ پھینکنے پر اب ملے گی سخت ترین سزا، کرکٹ میں نیا اصول نافذ
بی سی سی آئی کے سرکلر کے مطابق کھیل کے حالات سے متعلق قانون 41.8 میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے تحت کسی گیند باز کو پورے میچ سے معطل کرنے کا فیصلہ میدان پر موجود امپائر کریں گے۔

بی سی سی آئی نے ’میریلیبون کرکٹ کلب‘ (ایم سی سی) کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم کو تمام ریاستی کرکٹ ایسو سی ایشنز کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔ ان میں قصداً نو بال کرانے پر ملنے والی سزا سب سے اہم ہے۔ گھریلو کرکٹ میں پہلے اگر کوئی گیند باز قصداً فرنٹ فٹ نو بال کرتا تھا تو اسے مقررہ اننگز میں گیند بازی سے معطل کر دیا جاتا تھا، لیکن اب اسے پورے میچ میں گیند بازی سے روک دیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کے پاس موجود بی سی سی آئی کے سرکلر کے مطابق کھیل کے حالات سے متعلق قانون 41.8 میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے تحت کسی گیند باز کو پورے میچ سے معطل کرنے کا فیصلہ میدان پر موجود امپائر کریں گے۔
دیگر ترامیم کی بات کریں، تو دن کے کھیل کے اختتام سے متعلق بھی ایک قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر دن کے کھیل کے آخری اوور میں وکٹ گر جاتی ہے تو بھی اس اوور کو مکمل کرایا جائے گا۔ پہلے وکٹ گرتے ہی دن کے کھیل کے اختتام کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ ایم سی سی کا ماننا ہے کہ قانون 12.5.2 کی وجہ سے دن کے اختتام پر نئے بلے باز کو کریز پر آنے کا موقع نہیں مل پاتا تھا، جسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ ترمیم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اب کسی میچ کی آخری اننگز میں کوئی بھی ٹیم اننگز ڈکلیئر کرنے یا اننگز چھوڑنے (فورفیٹ) کا اختیار استعمال نہیں کر سکے گی۔
ونڈے کے ڈومیسٹک میچوں میں اب ’ڈرنکس بریک‘ کے دوران ٹیم کے ہیڈ کوچ کو میدان میں جانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ آئی سی سی بین الاقوامی کرکٹ میں بھی اسی طرح کا قانون نافذ کرنے کی تجویز پیش کر چکا ہے۔ ایک ترمیم یہ بھی کی گئی ہے کہ اب وکٹ کیپر کو اپنے دستانے صرف گیند پھینکے جانے کے وقت ہی اسٹمپس کے پیچھے رکھنے ہوں گے۔ پہلے اس کے دستانے اس وقت سے اسٹمپس کے پیچھے ہونے چاہیے تھے جب گیند باز رن اَپ شروع کرتا تھا۔ اس کی وجہ سے پہلے کئی بار نو بال ہو چکی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
