آئی پی ایل 2026: سانسیں روک دینے والے مقابلہ میں گجرات نے دہلی کو 1 رن سے دی شکست
گجرات نے 20 اوورس میں 4 وکٹ کے نقصان پر 210 رن بنائے تھے۔ جواب میں دہلی کی ٹیم 20 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر 209 رن ہی بنا سکی۔

آئی پی ایل 2026 میں اب تک کا سب سے دلچسپ مقابلہ 8 اپریل کو گجرات ٹائٹنز اور دہلی کیپٹلز کے درمیان دیکھنے کو ملا۔ یہ میچ کبھی گجرات کی طرف اور کبھی دہلی کی طرف جھکتا ہوا دکھائی دیا، لیکن آخر میں جب دہلی بالکل جیت کی دہلی پر دکھائی دے رہی تھی تو گجرات نے 1 رن سے فتح حاصل کر سبھی کو حیران کر دیا۔
آج ٹاس جیت کر دہلی کے کپتان اکشر پٹیل نے پہلے گیندبازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج گجرات کے کپتان شبھمن گل کی میدان پر واپسی ہوئی تھی اور بطور سلامی بلے باز انھوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ بھی کیا۔ سلامی بلے باز سائی سدرشن محض 12 رن بنا کر ضرور آؤٹ ہو گئے، لیکن جوس بٹلر (27 گیندوں پر 52 رن) اور شبھمن گل کے درمیان 60 رنوں کی بہترین شراکت داری ہوئی۔ جب بٹلر کھیل رہے تھے، تو شبھمن بہت سنبھل کر کھیلتے دکھائی دیے، لیکن اس کے بعد انھوں نے تیزی سے رن بٹورنا شروع کیا۔ واشنگٹن سندر کے ساتھ انھوں نے 104 رنوں کی شراکت داری کی۔ شبھمن نے 45 گیندوں پر 5 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے شاندار 77 رن بنائے۔
شبھمن کے آؤٹ ہونے کے بعد واشنگٹن اور گلین فلپس نے اننگ کو بہترین انداز میں آگے بڑھانا شروع کیا۔ بیسویں اوور میں واشنگٹن 32 گیندوں پر 55 رن بنا کر پویلین لوٹے۔ فلپس 9 گیندوں پر 14 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور راہل تیوتیا 1 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ 20 اوورس میں گجرات کی ٹیم 4 وکٹ کے نقصان پر 210 رن بنانے میں کامیاب ہوئی۔ دہلی کی جانب سے مکیش کمار نے سب سے زیادہ 2 وکٹ لیے، لیکن انھوں نے 4 اوورس میں 55 رن بھی خرچ کیے۔ 1-1 وکٹ لنگی اینگیڈی اور کلدیپ یادو کے حصے میں آئے۔ اینگیڈی کی تعریف کرنی ہوگی، کیونکہ انھوں نے 4 اوورس میں محض 24 رن دیے۔
دہلی کی بلے بازی جب شروع ہوئی تو سلامی بلے باز کے ایل راہل اور پتھوم نسانکا نے گجراتی گیندبازوں کے پسینے نکال دیے۔ دونوں نے ہی تیزی سے رن بٹورنے شروع کیے اور پہلا وکٹ نویں اوور کی پہلی گیند پر جب نسانکا (24 گیندوں پر 41 رن) کی شکل میں آؤٹ ہوا تو ٹیم کے 76 رن ہو چکے تھے۔ اس کی بعد دہلی کے لیے مشکلیں پیدا ہوئیں، کیونکہ نتیش رانا 5 رن، سمیر رضوی صفر، اکشر پٹیل 2 رن، ٹرسٹن اسٹبس 7 رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ٹیم کا اسکور 16.4 اوورس میں 5 وکٹ کے نقصان پر 160 رن پہنچ گیا۔ دوسری طرف کے ایل راہل تیزی سے رن بٹور رہے تھے، لیکن انھیں کسی کا ساتھ نہیں مل رہا تھا۔ ڈیوڈ ملر بلے بازی کرنے اترے تھے، لیکن ہاتھ میں چوٹ کے سبب انھیں درمیان میں ہی میدان سے باہر جانا پڑا۔ پھر 166 کے اسکور پر کے ایل راہل بھی 52 گیندوں پر 92 رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اس وقت دہلی کی ٹیم ہارتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی، کیونکہ 3 اوورس میں جیت کے لیے 45 رنوں کی ضرورت تھی۔ لیکن ڈیوڈ ملر نے دوبارہ میدان میں اتر کر کچھ ایسے شاندار شاٹس لگائے کہ گجرات کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ محمد سراج کے ذریعہ پھینکے گئے 19ویں اوور میں تو 23 رن بن گئے، جس نے میچ کو دہلی کی طرف موڑ دیا۔ آخری اوور میں دہلی کو جیت کے لیے 13 رن چاہیے تھے اور گیند پرشدھ کرشنا کے ہاتھوں میں تھی۔ پہلی گیند پر وپرج نے چوکا لگا کر دہلی کے خیمہ میں خوشیاں بکھیر دیں، لیکن پھر اگلی ہی گیند پر وپرج آؤٹ بھی ہو گئے۔ یعنی میچ دونوں ٹیموں کی طرف ڈولتا ہوا دکھائی دیا۔ گجرات کے کپتان شبھمن گل کو جھٹکا اس وقت لگا جب تیسری گیند پر کلدیپ کے ذریعہ سنگل لینے کے بعد چوتھی گیند پر ڈیوڈ ملر چھکا لگا دیا۔ یعنی جیت کے لیے 2 گیندوں پر اب محض 2 رنوں کی ضرورت تھی۔ پانچویں گیند پر سنگل لینے کا موقع تھا، لیکن گل نے کلدیپ کو روک دیا۔ یہ قدم بہت بڑی غلطی ثابت ہوا، کیونکہ آخری گیند پرشدھ کرشنا نے سلووَر باؤنسر ڈال دیا، جس پر سنگل لینے کی کوشش میں کلدیپ رَن آؤٹ ہو گئے۔ یعنی سانسیں روک دینے والا مقابلہ گجرات نے 1 رن سے جیت لیا۔ اگر پانچویں گیند پر ملر نے ایک رن لے لیا ہوتا تو کم از کم ’سپر اوور‘ کھیلنے کا موقع ضرور مل سکتا تھا۔
گجرات کی جانب سے اگر کسی گیندباز کو جیت کا سہرا دیا جائے گا، تو وہ راشد خان ہیں۔ کیونکہ انھوں نے 4 اوورس میں محض 17 رن دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ اس بہترین کارکردگی کے لیے انھیں پلیئر آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کے علاوہ صرف کگیسو رباڈا ایسے گیندباز رہے جنھوں نے 11 رن سے کم فی اوور کی شرح سے رن دیے۔ رباڈا نے 4 اوورس میں 32 رن دیے، حالانکہ انھیں کوئی وکٹ نہیں ملا۔ 2 وکٹ پرشدھ کرشنا (4 اوورس میں 52 رن) کو اور 1 وکٹ محمد سراج (4 اوورس میں 52 رن) کو ملے۔