ہندوستانی کرکٹ ٹیم نیوٹرل مقام پر پاکستان سے کھیلنے کے لئے تیار

سال 2013 کے بعد سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی کرکٹ سیریز نہیں ہوئی، لیکن اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں کے بیچ تیسری نیوٹرل جگہ پر کرکٹ کا مقابلہ ہو سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے لئے ایک بڑی راحت کی خبر یہ ہے کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہے۔ اس دورے پر خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے کیونکہ سری لنکا کے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان میں کھیلنے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس خبر کے بعد کرکٹ شائقین کے دماغ میں یہ سوال بھی گشت کرنے لگا ہے کہ کیا مستقبل قریب میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کر سکتی ہے؟

سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر ایڈ منسٹریٹروں کی کمیٹی کے ذمہ دار ونود رائے نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کے لئے تیار ہے لیکن یہ صرف تیسرے نیوٹرل مقام پر ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ بی سی سی آئی نے پاکستان دورے کے لئے اجازت مانگی تھی جسے یہی جواب دے کر خارج کر دیا تھا۔ واضح رہے لمبے انتظار کے بعد سوربھ گنگولی کی کپتانی میں سال 2004 میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم پاکستان گئی تھی، اس کے بعد سال 2005-06 میں راہل دراوڑ کی کپتانی میں ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان سے کھیلنے کو لے کر ونود رائے نے کہا ہے کہ اسے لے کر حکومت کی اپنی پالیسی ہے اور اس پالیسی کے تحت پاکستان ہمارے ساتھ کسی تیسرے نیوٹرل مقام پر کرکٹ کھیل سکتا ہے، لیکن ہم دونوں ممالک ایک دوسرے کی زمین پر نہیں کھیل سکتے۔ واضح رہے انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جب ونود رائے سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے حق میں ہیں تو انہوں نے اس کا یہ جواب دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس حق میں نہیں تھے کہ عالمی کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کیا جائے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہندوستان کو ایک یا دو پوائنٹس کا نقصان ہوتا۔ غور کیجئے کہ اگر ہندوستان کو پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کا میچ کھیلنا پڑتا اور ہندوستان اس کو کھیلنے سے انکار کر دیتا تو پھر کیا ہوتا، پاکستان بغیرمحنت کیے فائنل میں پہنچ جاتا اور یہ اپنے پیر میں کلہاڑی مارنے جیسا ہوتا۔