سابق کرکٹر تمیم اقبال بنے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نئے صدر
بی سی بی کے صدر تمیم اقبال کرکٹ کی دنیا میں 15 سال تک سرگرم رہے۔ انہوں نے 70 ٹیسٹ، 243 ونڈے اور 78 ٹی-20 انٹرنیشل میچز میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی، جس میں بالترتیب 5134، 8357 اور 1758 رنز بنائے۔

سابق کرکٹر تمیم اقبال کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا نیا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ وہ فی الحال 37 سال کے ہیں، وہ 4 سال تک اس اہم ذمہ داری کو سنبھالیں گے۔ وہ بی سی بی کے 21 ویں اور اب تک کے سب سے کم عمر صدر بن گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈھاکہ کے شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں بی سی بی کے صدر کے عہدے کے لیے انتخاب ہوا۔ تمیم اقبال کو 75 اراکین میں سے 73 نے اپنا ووٹ دیا۔
تمیم اقبال گزشتہ 2 ماہ سے عبوری کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ امین الاسلام بلبل کو اپریل میں بی سی بی کے صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد نئے انتخاب ہونے تک بورڈ کے روز مرہ کے کام کاج کو چلانے کے لیے 11 رکنی عارضی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ امین الاسلام کو بنیادی طور پر ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران ہوئے تنازعہ کے باعث ہٹایا گیا۔ بنگلہ دیش نے قومی ٹیم کو اس ٹورنامنٹ کے لیے ہندوستان جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
بی سی بی کے نومنتخب صدر تمیم اقبال کرکٹ کی دنیا میں 15 سال تک سرگرم رہے۔ انہوں نے 70 ٹیسٹ، 243 ونڈے اور 78 ٹی-20 انٹرنیشل میچز میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی، جس میں بالترتیب 5134، 8357 اور 1758 رنز بنائے۔ ’کرکبز‘ کے مطابق صدر منتخب ہونے کے بعد تمیم اقبال نے کہا کہ ’’تنظیم میں بہت سی خامیاں ہیں۔ اگر ہم سب (آئینی اصلاح کے بارے میں) متفق ہو جاتے ہیں تو ہم اگلی سالانہ جنرل میٹنگ میں ان پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ یہ 12 یا 13 لوگوں کے بورڈ جیسا نہیں ہے جہاں ایک شخص کچھ کہتا ہے اور اس پر عمل کر لیا جاتا ہے۔ ہمیں 1972 کے کونسلرز کے ساتھ کام کرنا ہے۔ اس لیے ان کی رضامندی بھی ضروری ہوگی۔ حالانکہ بنگلہ دیش کرکٹ کی بہتری کے لیے اگر کسی آئینی تبدیلی کی ضرورت ہوگی تو ہم ضرور اس پر تبادلۂ خیال کریں گے اور غور و خوض کریں گے۔‘‘
تمیم اقبال نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے بالکل نیا ہے کیونکہ مجھے ابھی بھی سب لوگوں سے ملنا جلنا ہے۔ ممکن ہے کہ میں ان میں سے نصف سے زیادہ لوگوں کو نہ جانتا ہوں۔ میں ان سے پہلی بار ملا ہوں۔ اس لیے ہمیں تھوڑا وقت دیں، بات چیت کرنے دیں اور پھر ہم پتہ لگائیں گے کہ کہاں اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ ہم جتنا ہو سکے شفاف رہیں گے۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے بورڈ کا کوئی بھی رکن ایسا کچھ کرے جس سے ہم کسی تنازعہ میں گھر جائیں۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
