آخر اسلام ہی کیوں؟...ایف اے مجیب
انسان اپنے مذہب کو صرف وراثت کی بنیاد پر کیوں مانے؟ اسلام عقل، فطرت، خدا کی وحدانیت، اخلاقی ذمہ داری اور سچائی کی آزادانہ تلاش کی دعوت دیتا ہے

چند دن پہلے ایک دوست نے مجھ سے ایک سادہ سا سوال کیا۔ اس نے کہا، ’’تم مسلمان کیوں ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا، ’’کیونکہ میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہوں۔‘‘ وہ مسکرایا اور بولا، ’’اگر تم کسی اور خاندان یا کسی اور ملک میں پیدا ہوتے تو شاید کسی اور مذہب کو سچا سمجھ رہے ہوتے۔ پھر تمہارے پاس کیا دلیل ہوتی؟‘‘
یہ سوال صرف میرا نہیں، تقریباً ہر انسان کا سوال ہے۔ ہم اپنی زبان، ثقافت اور بہت سے عقائد ورثے میں پاتے ہیں، لیکن کیا زندگی کے سب سے بڑے سوالات کے جواب بھی صرف وراثت کی بنیاد پر قبول کر لینے چاہئیں؟ کیا انسان کو خود یہ حق نہیں کہ وہ سوچے، سمجھے اور سچائی کی تلاش کرے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم دنیا کے ہر اہم معاملے میں دلیل چاہتے ہیں۔ علاج کرانا ہو، تعلیم حاصل کرنی ہو یا کاروبار شروع کرنا ہو، ہم تحقیق کرتے ہیں۔ مگر جب بات زندگی کے مقصد، خدا اور صحیح راستے کی آتی ہے تو اکثر ہم صرف اس لیے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہمارے بزرگ یہی مانتے تھے۔ یہیں سے اصل جستجو شروع ہوتی ہے۔
ذرا اپنے اردگرد کی دنیا پر غور کیجیے۔ سورج، چاند، ستارے، زمین، موسم، بارش، سمندر اور زندگی کا پورا نظام ایک حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ چل رہا ہے۔ انسان کا جسم خود ایک ایسی دنیا ہے جس میں دل، دماغ اور جسم کے بے شمار نظام ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
ہم ایک معمولی گھڑی یا موبائل فون کو دیکھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ اسے کسی نے بنایا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ یہ سب خود بخود وجود میں آ گیا۔ پھر کیا یہ پوری کائنات، جو ہر انسانی ایجاد سے کہیں زیادہ عظیم اور منظم ہے، محض ایک اتفاق ہو سکتی ہے؟
عقل کا سادہ سا اصول ہے کہ ہر نظم کے پیچھے ایک ناظم اور ہر تخلیق کے پیچھے ایک خالق ہوتا ہے۔ اگر خالق ایک ہے تو ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنی مخلوق کو بغیر رہنمائی کے چھوڑ دے گا؟ ایک چھوٹی سی مشین کے استعمال کے لیے ہدایات دی جاتی ہیں، تو کیا انسان، جو اس کائنات کی سب سے باشعور مخلوق ہے، اس کے لیے کوئی ہدایت نہیں ہونی چاہیے؟
یہی ضرورت دین کو جنم دیتی ہے۔
لیکن دنیا میں تو بہت سے مذاہب اور نظریات موجود ہیں، پھر آخر اسلام ہی کیوں؟
اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ چند عقلی اصولوں سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اگر خالق ایک ہے تو سچا دین بھی اسی ایک خدا کی طرف بلائے گا۔ اگر وہ پوری انسانیت کا رب ہے تو اس کا پیغام بھی سب کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک نسل یا قوم کے لیے۔ اگر اس نے انسان کو عقل دی ہے تو اس کی ہدایت عقل اور فطرت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اور اگر وہ انسان کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے تو اس کا پیغام زندگی کے ہر اہم پہلو سے متعلق ہونا چاہیے۔
اسلام انہی بنیادوں پر اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔
اسلام خدا کا ایک نہایت سادہ اور فطری تصور دیتا ہے۔ ایک ایسا خدا جو اکیلا ہے، پوری کائنات کا خالق ہے، کسی کا محتاج نہیں اور کسی کا شریک نہیں۔ وہ کسی خاص قوم کا خدا نہیں بلکہ تمام انسانوں کا رب ہے۔
اسلام انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان اور دولت کی بنیاد پر برتری کو اصل معیار نہیں مانتا۔ اس کے نزدیک اصل قدر انسان کے کردار، اخلاق اور ذمہ داری میں ہے۔
اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ خدا نے انسان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا بلکہ مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس اعتبار سے اسلام اپنے آپ کو کسی نئے مذہب کے طور پر نہیں بلکہ اسی ابدی اور فطری پیغام کا تسلسل قرار دیتا ہے جو انسان کو ایک خدا، اچھے اخلاق اور انصاف کی دعوت دیتا رہا ہے۔
اسلام کی ایک اہم خصوصیت اس کا توازن ہے۔ وہ صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھاتا بلکہ انسان کو سچائی، امانت، انصاف، والدین کے احترام، غریبوں کی مدد، وعدے کی پابندی، علم کے حصول اور معاشرتی ذمہ داریوں کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ گویا وہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں کے لیے اصول فراہم کرتا ہے۔
ایک اور بات قابلِ غور ہے۔ اسلام انسان سے اندھی تقلید کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اسے کائنات پر غور کرنے، تاریخ سے سبق لینے اور اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ سچائی اگر واقعی سچائی ہے تو اسے سوالوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر اسلام اتنا اچھا ہے تو مسلمان کامل کیوں نہیں؟
لیکن کسی نظریے کی سچائی اس کے ماننے والوں کی کمزوریوں سے نہیں پرکھی جاتی۔ اگر کوئی ڈاکٹر بیمار ہو جائے تو طب کا علم غلط نہیں ہو جاتا۔ اگر کوئی جج انصاف نہ کرے تو انصاف کا اصول ختم نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح مسلمانوں کی غلطیاں اسلام کی اصل تعلیمات کا معیار نہیں بن سکتیں۔
اس لیے اسلام کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصولوں اور تعلیمات کو دیکھنا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے ماننے والوں کے عمل کو۔
آخر میں بات پھر اسی سوال پر آ کر رکتی ہے جس سے گفتگو شروع ہوئی تھی۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ "تم اسلام کو کیوں مانتے ہو؟" تو میرا جواب صرف یہ نہیں ہوگا کہ میرے آباؤ اجداد مسلمان تھے۔
میں یہ کہوں گا کہ میں اس کائنات میں ایک نظم دیکھتا ہوں، اس نظم کے پیچھے ایک خالق کو مانتا ہوں، انسان کے لیے اخلاقی ذمہ داری کو ضروری سمجھتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ ایک حکیم خالق اپنی مخلوق کو بے مقصد اور بے رہنمائی نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر جب مختلف نظریات اور مذاہب کو عقل، فطرت اور انسانی ضرورت کی روشنی میں دیکھتا ہوں تو اسلام ایک ایسے نظام کے طور پر سامنے آتا ہے جو خدا کی وحدانیت، انسانی برابری، اخلاقی ذمہ داری اور متوازن زندگی کی دعوت دیتا ہے۔
شاید زندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ انسان سچائی تک نہ پہنچ سکے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کی تلاش ہی چھوڑ دے اور صرف اس لیے کسی عقیدے پر قائم رہے کہ اسے وہ ورثے میں ملا تھا۔
اسلام کی اصل دعوت یہی معلوم ہوتی ہے کہ انسان دیکھے، سوچے، سوال کرے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے۔ کیونکہ اگر سچائی ایک ہے تو اس کی تلاش ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔
آخرکار، سوال یہ نہیں کہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے کیا ملا، سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی عقل، اپنے ضمیر اور اپنے مشاہدے کی روشنی میں کیا پایا۔
اور شاید اسلام انسان کو اسی سفر کی دعوت دیتا ہے؛ ایک ایسے سفر کی، جہاں تعصب سے پہلے انصاف، تقلید سے پہلے تحقیق اور ورثے سے پہلے سچائی کی جستجو ہو۔ کیونکہ سچائی صرف مانی نہیں جاتی، اسے تلاش بھی کیا جاتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
