برطانیہ کے وزیر اعظم کی کرسی آخر انگاروں کا تاج کیوں؟

برطانوی معیشت کو بریگزٹ کے بعد سے شدید نقصان پہنچا ہے، جس کا ازالہ کسی دیگر ملک یا بلاک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ سے نہیں کیا جا سکتا۔

<div class="paragraphs"><p>برطانیہ کا پرچم، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

آشیش رے

ایک دہائی میں 7 وزرائے اعظم (جیسا کہ برطانیہ میں اب دیکھنے کو ملے گا) سیاسی عدم استحکام کا ایک بہت بڑا ثبوت ہیں۔ برطانیہ اس وقت اپنے داخلی تضادات سے نبرد آزما ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہاں کی حکومتیں انتہائی کم مدت کے لیے برقرار رہ پا رہی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے کلیمنٹ ایٹلی، ونسٹن چرچل، ہیرولڈ ولسن (درمیان میں ایک وسط مدتی انتخاب کے ساتھ 6 سال تک)، مارگریٹ تھیچر (11 سال تک)، جان میجر (درمیان میں ایک انتخاب کے ساتھ 7 سال تک)، ٹونی بلیئر (رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑنے سے پہلے ایک دہائی تک) اور ڈیوڈ کیمرون ہی ایسے وزرائے اعظم رہے جو 5 سال یا اس سے زیادہ مدت تک اس منصب پر فائز رہے۔

2015 میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد کیمرون نے اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے اس وعدے کو آگے بڑھایا جس میں یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت پر ریفرنڈم کرانے کی بات کہی گئی تھی۔ 1980 کی دہائی سے ہی ان کی کنزرویٹو پارٹی میں یہ ایک انتہائی زیر بحث موضوع رہا تھا۔ خود ایک یورپ نواز سیاستدان ہونے کے باوجود، جو یورپی یونین کے ناقدین کے درمیان تھے، کیمرون کو پورا یقین تھا کہ ان کی مقبولیت اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گی۔ لیکن انہیں ایک بہت بڑا جھٹکا لگنے والا تھا۔


اس ریفرنڈم نے نہ صرف ان کی پارٹی اور حکومت کو بلکہ پورے ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا۔ کیمرون نے اپنی ہی پارٹی کے ساتھی بورس جانسن اور ان کے ساتھ ہاتھ ملانے والے انتہائی قوم پرست گروپ سے ملنے والے چیلنج کو بہت کم سمجھا تھا۔ انہوں نے اس حقیقت پر بھی توجہ نہیں دی کہ مرکزی اپوزیشن لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن 1970 کی دہائی کے اس بائیں بازو کے دور سے تعلق رکھتے تھے جو ’یورپی کامن مارکیٹ‘ (جیسا کہ اس وقت یورپی یونین کو کہا جاتا تھا) کے سخت مخالف تھے۔ کوربن نے باضابطہ طور پر تو ’یورپی یونین میں رہنے‘ کی مہم کی حمایت کی، لیکن یہ آدھے ادھورے دل سے کی گئی کوشش تھی۔

جون 2016 میں کیمرون نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ تھریسا مے ان کی جانشیں بنیں، لیکن بار بار انہی کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ہاؤس آف کامنز میں بریگزٹ سے متعلق بلوں کو منظور ہونے سے روک دیا۔ انہیں ناکام بنانے کی ان تمام کوششوں کے پیچھے بورس جانسن کا ہاتھ تھا۔ آخرکار مے کو بھی عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔


ایک طرح سے تختہ الٹنے کی اسکرپٹ لکھنے کے بعد جانسن نے 2019 کے موسم گرما میں وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ اسی سال دسمبر میں انہوں نے ’گیٹ بریگزٹ ڈن‘ (بریگزٹ کو عملی جامہ پہناؤ) کے نعرے پر وسط مدتی انتخابات کرا دیے۔ برطانوی ووٹرز نے اس نعرے کو بھرپور حمایت دی اور انہیں زبردست عوامی مینڈیٹ عطا کیا۔ جانسن نے بریگزٹ تو مکمل کر دیا، لیکن جلد بازی میں کیا گیا یہ معاہدہ برطانیہ کے لیے تھریسا مے کی تجویز یا مذاکرات کے ذریعے طے کیے گئے کسی بھی متبادل سے کہیں زیادہ نقصاندہ ثابت ہوا۔

ان کی جانشیں لز ٹرس محض 49 دن تک عہدے پر رہ سکیں۔ ایک انتہائی تباہ کن بجٹ پیش کرنے کے بعد انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اس بجٹ نے برطانیہ کے بانڈ بازاروں کو اس قدر غیر مستحکم کر دیا کہ ایس اینڈ پی اور فچ جیسی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ’اے اے‘ کی خود مختار ریٹنگ ہونے کے باوجود برطانوی معیشت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ جب اس عہدے کو سنبھالنے والا کوئی نہیں بچا تو صرف 7 سال سے رکن پارلیمنٹ رہنے والے ایک نئے سیاستداں رشی سُنک نے اس خلا کو پُر کیا۔ وہ جانسن کی حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے تھے، لیکن انہوں نے اسی بغاوت کے دوران استعفیٰ دیا تھا جس نے جانسن کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ سُنک نے ڈگمگاتی کشتی کو سنبھالا اور 20 ماہ تک قیادت کی۔ لیکن وہ برطانوی عوام کے دلوں پر کوئی خاص اثر نہ چھوڑ سکے۔ نتیجہ وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جب انہوں نے جولائی 2024 میں انتخابات کرائے تو وہ اور ان کی کنزرویٹو پارٹی مکمل طور پر صاف ہو گئے۔


اس میوزیکل چیئر کے کھیل کے دوران، جہاں 6 برس میں 5 وزرائے اعظم تبدیل ہو گئے، لیبر پارٹی نے 2019 میں کوربن کی قیادت میں ہونے والی اپنی بدترین شکست سے نکلتے ہوئے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ اس نے 650 نشستوں والے ایوان میں 400 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ جیت لیے، جو 1997 میں ٹونی بلیئر کی قیادت میں حاصل ہونے والی ریکارڈ کامیابی کے بعد سب سے بڑی فتح تھی۔ ایک بیرسٹر اور برطانیہ کی کراؤن پرازیکیوشن سروس کے سابق سربراہ کیر اسٹارمر نے یہ ممکن بنایا، لیکن وہ بھی 2 سال سے کم عرصے میں اپنی گرفت کھو بیٹھے۔

برطانیہ کے دائیں بازو کے ذرائع ابلاغ نے پہلے ہی دن سے ان کے خلاف محاذ کھول دیا تھا۔ اسٹارمر نے بھی کچھ غیر مقبول پالیسیاں نافذ کر کے اپنے لیے مشکلات پیدا کر لیں، جن سے بزرگ اور بچے متاثر ہوئے۔ مزدوروں و ملازمین کی جانب سے نیشنل انشورنس میں دیے جانے والے تعاون کو بڑھانے کا ان کا فیصلہ بھی عوام کو پسند نہیں آیا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کے طور پر پیٹر مینڈیلسن، جو لیبر پارٹی کے ایک متنازع لیڈر ہیں اور جن کے تعلقات بچوں کے جنسی استحصال کے مجرم جیفری ایپسٹین سے رہے تھے، کا تقرر اسٹارمر کے دور حکومت کا سب سے سنگین سیاسی بحران بن گیا۔


اگرچہ اسٹارمر کی قیادت میں سرکاری اسکولوں کی تعلیم اور نیشنل ہیلتھ سروس، جو برطانیہ میں حکومتی کارکردگی کے سب سے اہم پیمانے ہیں، میں نمایاں بہتری آئی۔ ہجرت میں بھی ریکارڈ کمی درج کی گئی، جو سفید فام محنت کش برطانویوں کے ساتھ ساتھ بعض ہندوستانی نژاد تارکین وطن کے درمیان بھی ایک نہایت حساس مسئلہ رہا ہے، اور جس نے انتہائی دائیں بازو کی ’ریفارم یو کے‘ پارٹی کے ابھار کو تقویت دی تھی۔ مہنگائی میں کمی آئی، لیکن معیشت رفتار نہ پکڑ سکی۔ بے روزگاری بڑھ گئی اور اجرتوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ ’کاسٹ آف لیونگ‘ ملک کا اہم ترین موضوع بحث بن گیا۔

اسٹارمر تبدیلی لانے والے ایک بڑے قدم کے بہت قریب تھے (جولائی میں ہونے والا برطانیہ-یورپی یونین سربراہ اجلاس) جس میں تجارت کے لیے سنگل مارکیٹ پر بات ہونی تھی۔ بریگزٹ کے بعد برطانوی معیشت کو ایسے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں جن کی تلافی کسی دوسرے ملک یا تجارتی اتحاد کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے ذریعہ نہیں کی جا سکتی۔ اسٹارمر ایک محفوظ اور سنجیدہ لیڈر تو ہیں، لیکن ان میں کرشمہ اور عوام سے رابطے کی صلاحیت کی نمایاں کمی ہے۔ ان کی حکومت اپنی کامیابیوں کو برطانوی عوام تک پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ گزشتہ ماہ ہونے والے مقامی اور علاقائی انتخابات کے نتائج کے بعد دیوار پر لکھی عبارت بالکل واضح تھی۔ مئی 2026 کے ایک ’یوگوو سروے‘ میں سامنے آیا کہ 69 فیصد لوگ اسٹارمر کو ناپسند کرتے ہیں۔


ان کے اراکین پارلیمنٹ کو احساس ہو گیا تھا کہ اگر اسٹارمر وزیر اعظم رہے تو ایسی مقبولیت کے ساتھ لیبر پارٹی نہ تو ’ریفارم یو کے‘ کے سنگین خطرے کا مقابلہ کر سکے گی، نہ ہی ’گرین پارٹی‘ کا (جس نے اپنے واضح فلسطین نواز موقف کی وجہ سے سخت گیر بائیں بازو کے حامیوں اور مسلم ووٹرز کی حمایت حاصل کر لی تھی)، اور 2029 کا اگلا انتخاب جیتنا ناممکن ہو جائے گا۔ اسی لیے گزشتہ ہفتے تک شمال مغربی انگلینڈ میں گریٹر مانچسٹر کے مقبول میئر رہنے والے اور اب ضمنی انتخاب جیت کر پارلیمنٹ (ہاؤس آف کامنز) پہنچنے والے اینڈی برنہم، اسٹارمر کی جگہ لینے کے سب سے بڑے دعویدار بن کر سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ 10 برس میں برطانیہ کے ساتویں وزیر اعظم بن جائیں گے۔ کیا اگلے عام انتخابات سے پہلے برطانیہ کے وزرائے اعظم کی یہ طویل قطار مزید طویل ہوگی؟ نظر بنائے رکھیے۔