نیتن یاہو امن سے کیوں خوفزدہ ہیں؟...اشوک سوین

بنجامن نیتن یاہو کی پالیسیاں اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہائی، سفارتی دباؤ اور داخلی سیاسی بحران کی طرف لے جا رہی ہیں اور آنے والے انتخابات اسرائیل کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

اسرائیل اپنی 78 سالہ تاریخ کے سب سے اہم انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ایک ایسا سوال، جس کا تصور بھی کبھی ممکن نہیں تھا، اب ملک کے اندر اور باہر کھل کر پوچھا جا رہا ہے، کیا نیتن یاہو کے دور میں اسرائیل محفوظ رہ پائے گا؟

یہ سوال صرف اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے رہنما کے سیاسی مستقبل کا نہیں، بلکہ خود اسرائیل کے مستقبل کا بھی ہے۔ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل عالمی سطح پر پہلے سے کہیں زیادہ تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے گرفتاری وارنٹ کی تلوار بھی لٹک رہی ہے۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں، خصوصاً ان ممالک میں جو کبھی اسرائیل کے مضبوط اتحادی سمجھے جاتے تھے، عوامی رائے تیزی سے نیتن یاہو اور صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف تبدیل ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ، جو اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی اور مددگار رہا ہے، اب اس کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔

آج نیتن یاہو دنیا کے اُن سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ایران کے خلاف تعاون کرنے والے ان کے قریبی بین الاقوامی اتحادی ڈونالڈ ٹرمپ بھی اب کھلے عام ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی اشتعال انگیز حملوں کے معاملے پر حالیہ اختلافات نے دونوں کے تعلقات میں دراڑ ڈال دی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ امریکہ کی تاخیر سے شروع ہونے والی مفاہمتی کوششیں بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کے تعلقات میں اعتماد کے بجائے مایوسی غالب آ چکی ہے۔ عالمی رہنماؤں میں اگر کوئی اب بھی نیتن یاہو کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا دکھائی دیتا ہے تو وہ نریندر مودی ہیں، جو اپنے ایک اور ’قریبی دوست‘ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

اسی ماہ جاری ہونے والے ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن سروے کے مطابق عوام اب نیتن یاہو کی قیادت سے اکتانے لگے ہیں۔ بیشتر اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ ان کے طرزِ عمل نے امن مذاکرات کو نقصان پہنچایا اور اسرائیل کے قومی مفادات کو بھی متاثر کیا۔


دوسری جانب، نیتن یاہو نے گزشتہ 18 ماہ سے جاری بدعنوانی کے مقدمے میں اپنی گواہی مکمل کر لی ہے، جس میں ان پر رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد میں خیانت جیسے الزامات عائد ہیں۔ تاہم، ان کی قیادت سے متعلق بنیادی سوالات ان کی ذاتی ساکھ یا قانونی مشکلات سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ سیاسی بقا کی جدوجہد میں نیتن یاہو نے اسرائیل کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ملک کی طویل مدتی سلامتی کو کمزور کیا بلکہ اس کی اہم تزویراتی شراکت داریوں کو بھی کھوکھلا، بلکہ شاید مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

پیو ریسرچ کے تازہ سروے کے مطابق 36 ممالک میں اوسطاً 67 فیصد افراد اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے کئی روایتی اور قریبی اتحادی ممالک میں بھی یہ منفی رجحان ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ نیتن یاہو پر اعتماد کی شرح تو اس سے بھی کم ہے۔ یورپ، شمالی امریکہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا میں اکثریت یا تو ان پر بالکل اعتماد نہیں کرتی یا بہت کم اعتماد رکھتی ہے۔ دنیا بھر میں نیتن یاہو اسرائیل کی ایسی علامت بن چکے ہیں جس سے منفی تاثر وابستہ ہو گیا ہے، اور اس کا براہِ راست اثر اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ پر پڑا ہے۔

یہ نقصان صرف ساکھ تک محدود نہیں۔ اسرائیل کی سلامتی صرف اس کی فوجی طاقت پر منحصر نہیں بلکہ اس کی بین الاقوامی قانونی حیثیت، اتحادیوں اور عالمی خیرسگالی پر بھی قائم ہے، اور نیتن یاہو کی قیادت میں یہ تمام ستون کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔

اسرائیل آج بھی امریکی فوجی امداد، اقوامِ متحدہ میں سفارتی تحفظ، انٹیلی جنس تعاون اور معاشی حمایت پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ کئی دہائیوں تک اسرائیل کی حمایت امریکی سیاست کے اُن چند معاملات میں شامل رہی جن پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے موجود تھا، لیکن اب یہ اتفاق ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ نوجوان امریکی، گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں اسرائیل کے بارے میں زیادہ منفی رائے رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں بھی اسرائیل کی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ امریکہ کے کئی معروف سیاست دان اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد اور سفارتی حمایت کی موجودہ سطح پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔


اب اسرائیل کا کوئی بھی رہنما ان بدلتے ہوئے حالات پر اطمینان محسوس نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود نیتن یاہو اقتدار اور اس سے حاصل ہونے والے سیاسی تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل کے سب سے اہم تزویراتی تعلق کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر میں ذاتی طور پر سب سے بڑا خطرہ ایران، حماس یا حزب اللہ نہیں بلکہ امن ہے۔ نیتن یاہو کے لیے امن سیاسی اعتبار سے خطرناک ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہی احتساب کا عمل شروع ہو جائے گا اور ان کی ناکامیاں نمایاں ہو جائیں گی۔ امن کی صورت میں عوام کی توجہ بیرونی دشمنوں سے ہٹ کر اس شخص پر مرکوز ہو جائے گی، جو تقریباً دو دہائیوں تک اسرائیلی سیاست پر چھایا رہا ہے۔

یہی حقیقت نیتن یاہو کو ڈونالڈ ٹرمپ کی مخالفت کرنے اور ان کی خواہشات کے برخلاف چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ برسوں تک نیتن یاہو مختلف امریکی حکومتوں کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی کی طرف دھکیلتے رہے۔ انہوں نے سفارت کاری کی مخالفت کی، مذاکرات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا۔ جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آئے تو نیتن یاہو کو محسوس ہوا کہ آخرکار انہیں ایسا امریکی صدر مل گیا ہے جو ان کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ اور ’فوجی کشیدگی میں اضافے‘ کی پالیسی کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس کے بعد ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ نے بظاہر نیتن یاہو کے دیرینہ مؤقف کو تقویت دی، لیکن جیسے جیسے ٹرمپ کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نقصانات اور خطرات کا احساس ہونے لگا، انہوں نے اس صورتحال سے نکلنے کی راہ تلاش کرنا شروع کر دی۔ تہران کے ساتھ امن معاہدہ، خطے میں کسی حد تک استحکام کی بحالی اور ایک خطرناک تصادم کے خاتمے کا سہرا اپنے سر باندھنے کی خواہش شاید ایک بار پھر ٹرمپ کے ذہن میں ابھرنے لگی ہے۔

دوسری جانب، نیتن یاہو کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ اس سیاسی بیانیے کو کمزور کر دے گا، جسے وہ کئی دہائیوں سے تشکیل دیتے آئے ہیں۔ اس سے ’مستقل ہنگامی صورتحال‘ کا وہ تصور بھی کمزور پڑ جائے گا، جس پر ان کی سیاسی اہمیت قائم ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے بعد اسرائیلی عوام کی توجہ دوبارہ ایران کے بجائے نیتن یاہو پر مرکوز ہو جائے گی، حالانکہ وہ برسوں سے ایران کو اسرائیل کے لیے ’وجودی خطرہ‘ قرار دیتے آئے ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو مسلسل سفارتی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، مغربی کنارے میں حملوں میں شدت لائی ہے اور لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے، جبکہ اس کا سب سے مضبوط تزویراتی اتحادی خطے میں کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو امن سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ خطے میں امن قائم ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ ملک کے اندر عوامی توجہ کا مرکز بدل جائے گا۔ اس وقت پوری توجہ اسرائیل کی تاریخ کے سب سے ہولناک حملے اور اس رہنما کی قیادت پر مرکوز ہو جائے گی، جس نے اپنی شناخت ہی قومی سلامتی کے دعوے پر قائم کی تھی۔

اسرائیلی عوام ان سکیورٹی خامیوں پر سوال اٹھائیں گے، جن کی وجہ سے 7 اکتوبر 2023 کا حملہ ممکن ہوا۔ وہ یہ بھی پوچھیں گے کہ یرغمالیوں کو پہلے واپس کیوں نہیں لایا جا سکا، اور غزہ میں وسیع پیمانے پر خونریزی کے باوجود اب تک کوئی سیاسی حل کیوں سامنے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی جان چکے ہوں گے کہ عالمی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی کا اصل ذمہ دار کون تھا۔

ایک ایسا سیاسی سفر، جو ہر قیمت پر اسرائیل کے تحفظ کی غیر معمولی ساکھ اور ’گریٹر اسرائیل‘ کے صہیونی جغرافیائی و سیاسی خواب پر قائم تھا، یعنی ایک ایسی یہودی ریاست کا تصور جس کی سرحدیں موجودہ اسرائیل سے کہیں آگے تک پھیلی ہوں، اب بکھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس منصوبے کے معمار کی جانب سے اس تصور کو کسی نہ کسی صورت زندہ رکھنے کی بے تاب کوششیں اب پوری طرح نمایاں ہو چکی ہیں۔

سال کے اختتام پر جب اسرائیل میں ووٹنگ ہوگی تو عوام اس خواب کو برقرار رکھنے کی قیمت پر ضرور غور کریں گے۔ وہ یہ بھی سوچیں گے کہ ملک اپنی عالمی ساکھ کس طرح بحال کر سکتا ہے، اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر بنا سکتا ہے اور دنیا میں اپنا مقام دوبارہ کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ اسرائیل کا مستقبل شاید اسی بات پر منحصر ہوگا کہ آیا یہ ملک اس شخصیت سے آگے بڑھ پاتا ہے یا نہیں، جسے موجودہ بحرانوں کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعے کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔