اراولی کی ہریالی کو کون نگل رہا؟... رشمی سہگل

راجستھان میں اراولی پہاڑی میں غیر قانونی کانکنی کے خلاف بھلے ہی احتجاجی مظاہرے زوردار انداز میں ہو رہے ہیں، لیکن غیر قانونی کانکنی کا عمل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/BhupinderShooda">@BhupinderShooda</a></p></div>
i

راجستھان کے سیکر ضلع واقع پریم پورہ گاؤں کی خواتین علاقے میں مسلسل جاری غیر قانونی کان کنی کے خلاف گزشتہ تین برس سے احتجاج کر رہی ہیں۔ دیپاواس گاؤں میں بھی خواتین گروپوں کی شکل میں دن رات دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ آس پاس کی کانوں میں مسلسل ہونے والے دھماکوں سے ان کے گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ان کی جان خطرے میں ہے۔ دھماکوں سے اڑنے والے ملبے اور پتھروں کے خوف سے بچے اسکول نہیں جا رہے۔ ہریالی پر دھول جم گئی ہے۔ کانکنی نے زیر زمین پانی کی سطح کو ایک ہزار فٹ سے بھی نیچے دھکیل دیا ہے۔

اوجواسی ماربلس پرائیویٹ لمیٹڈ نے 2024 میں 180 ہیکٹیئر زمین پر قبضہ کر لیا، جس میں 140 ہیکٹیئر زمین جنگل کے طور پر درج ہے۔ سیکر کے ماحولیاتی کارکن کیلاش مینا کے مطابق دیہی عوام اس بات سے پریشان ہیں کہ کانکنی کی وجہ سے گریجن ندی تباہ ہو جائے گی، جو ان کا واحد آبی ذریعہ ہے۔ علاقے کی بیشتر ندیوں کی یہی حالت ہے۔ مینا کہتے ہیں کہ ’’40 دیہات کی 60 ہزار سے زیادہ آبادی اسی ندی پر منحصر ہے۔ دیہی عوام نے سپریم کورٹ میں اوجواسی کے خلاف عرضی دائر کرتے ہوئے بتایا کہ 2010 کی ’فاریسٹ سروے آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ علاقہ اراؤلی پہاڑیوں کے دائرے میں آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کان کنی روکنے کا حکم دیا، لیکن کچھ نہیں ہوا۔‘‘


کوٹ پوتلی-بہروڑ ضلع کے موہن پورہ-جودھپورہ گاؤں میں بھی آدتیہ برلا کی الٹرا ٹیک سیمنٹ کمپنی کے خلاف طویل عرصہ سے احتجاج جاری ہے۔ لوگ پلانٹ بند کرنے اور متاثرہ دیہی عوام کی بازآبادکاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تحریک کی قیادت کر رہے جودھ پورہ سنگھرش سمیتی کے رکن اور ریٹائرڈ فوجی افسر کیپٹن ونود سنگھ نے کہا کہ ’’دن رات ہونے والے دھماکوں سے 150 گھر اور 80 ٹیوب ویل تباہ ہو گئے۔ این جی ٹی نے گزشتہ سال 3 نومبر کو گاؤں کے آدھے کلومیٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی بلاسٹنگ نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔‘‘ اس میں راجستھان حکومت کو آلودگی (کرشر کے ساتھ ہی چونا پتھر کی کان کنی قریب ہونے کی وجہ سے) سے متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کے لیے کمیٹی بنانے کے ساتھ ساتھ، تباہ شدہ گھروں کے لیے ہر دیہاتی کو 50 ہزار روپے معاوضہ اور آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا 109 دیہی عوام کو 20 ہزار روپے دینے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ لیکن اب تک ان ہدایات پر عمل نہیں ہوا۔ کوٹ پوتلی-بہروڑ ضلع میں اجیت پورہ-کجیتا کے لوگ 300 سے زیادہ دنوں سے نیشنل لائم اسٹون کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے رہائشی علاقوں کے قریب ہونے والی غیر قانونی لائم اسٹون کان کنی اور گڑھے بنا کر کیے جانے والے دھماکوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 29 مئی کو پولیس نے ان کے خیمے زبردستی ہٹا دیے۔ لوگ احتجاج دوبارہ شروع کرنے کے لیے یادداشت پیش کرنے جمع ہوئے تو کچھ مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی، جس سے کئی دیہاتی شدید زخمی ہو گئے۔

ناگور سے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہنومان بینیوال نے ریاست میں پھلتے پھولتے مائننگ مافیا کے لیے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا، ’’لائم اسٹون کی یہ کانیں 40 سال پہلے خرید کر چھوڑ دی گئی تھیں۔ اب جب ان کی قیمت بڑھ گئی ہے تو راجستھان اور گجرات سے غنڈے لا کر لوگوں پر حملے کرائے جا رہے ہیں۔‘‘ کانکنی مافیا کتنا بے خوف ہے، یہ صاف نظر آتا ہے۔ گزشتہ ماہ کچھ بدمعاش شترو کی ڈھانی گاؤں پہنچے اور کان کنی مخالف احتجاج میں شامل خواتین کی پٹائی کر دی۔ دیہاتی اوم پرکاش کے مطابق ’’6 خواتین زخمی ہوئیں۔ ایک کے دانت ٹوٹ گئے اور دوسری کا ہاتھ۔‘‘ راجستھان آلودگی کنٹرول بورڈ بھی بے پروا ہے۔ اس نے 2008 سے کان کنی کرنے والی کمپنیوں کو ایک بھی وجہ بتاؤ نوٹس جاری نہیں کیا۔ گجرات کے اراؤلی ضلع کے دھنسورا بلاک میں دھاتی کان کنی کے لیے پتھر کی کانوں کے لیز میں سنگین بے ضابطگیاں ملنے کے بعد، محکمۂ کان و ارضیات نے 54 کانوں پر 63 لاکھ روپے سے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ 12 معیارات پر بے ضابطگیاں پائی گئیں اور ہر مقام پر ہر خلاف ورزی کے لیے 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ 2014 میں لیز جاری ہونے کے بعد سے یہ اس نوعیت کا پہلا معائنہ تھا۔


محکمہ کے ایک افسر کا ماننا ہے کہ اربوں روپے کی معدنیات چوری ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پہلے کی طرح باقاعدہ سالانہ جانچ ہوتی تو کان مالکان پر کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد ہوتا۔ کانکنی والے علاقوں میں بے خوف مافیا کا تشدد اب عام بات ہے اور دیہاتی مسلسل اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ گھنے جنگلات والی کئی پہاڑیاں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ندیاں اور ان کا ماحولیاتی نظام خشک ہو چکا ہے، اور پہلے سے پانی کی قلت والے اس علاقے میں آبی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ حال ہی میں تانبا، زنک، سیسہ، آئرن اور، چونا پتھر، ماربل، سونا اور چاندی جیسی معدنیات سے بھرپور زمین کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنے کے لیے کارپوریٹ کمپنیوں کی دوڑ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

آدیواسی جن ادھیکار ایکتا منچ کی سجاتا کہتی ہیں کہ ویدانتا گروپ اپنی ذیلی کمپنی ہندوستان زنک کے ذریعے ادے پور کے قریب دنیا کی چند سب سے بڑی زیر زمین کانیں اور اسمیلٹنگ کمپلیکس چلاتا ہے۔ زنک اور آئرن اور نکالنے کے لیے جاور مائنس، سندیسر خورد مائنس، راجپورہ دریبا اور کاید مائنس یہ گروپ چلا رہا ہے۔ سجاتا کا کہنا ہے کہ ’’ان میں سے کئی زیر زمین کانیں ہیں، اس لیے پانی کے ذرائع خشک ہو گئے ہیں۔‘‘ اڈانی گروپ نے حال ہی میں بانسواڑہ، گھٹولا اور جالورا کے دیہات میں سونے کی کھدائی شروع کی ہے۔ سجاتا بتاتی ہیں کہ ’’فرارا کے دیہات میں لوہا اور تانبا نکالنے کے لیے کھدائی کی گئی ہے۔ آدیواسیوں کو محکمۂ جنگلات کی جانب سے جو نوٹس ملے ہیں، ان کے نتائج اپنے آپ میں سنگین ہو سکتے ہیں۔‘‘


2023 کی سی اے جی رپورٹ میں ریموٹ سینسنگ ڈاٹا اور جی آئی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 122 معاملات میں غیر قانونی کان کنی کی تصدیق کی گئی ہے۔ ’پیپل فار اراؤلیز‘ گروپ کی بانی نیلم اہلووالیا کہتی ہیں کہ ’’حیرت کی بات یہ ہے کہ نکوبار میں کاٹے جا رہے جنگلات کے بدلے درخت لگانے کا کام راجستھان کے مہندر گڑھ میں 500 ایکڑ زمین پر کیا جا رہا ہے!‘‘ تعمیراتی صنعت کی نظر خاص طور پر اراؤلی کے گرینائٹ کے ذخائر پر رہتی ہے۔ اگرچہ یہ علاقے کے 3 فیصد سے بھی کم حصے میں پھیلے ہوئے ہیں، لیکن دہلی-این سی آر میں تعمیراتی سرگرمیوں کی تیزی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ڈیولپرز کے لیے یہ سونے کی کان سے کم نہیں ہیں۔ وکیل ہنس راج کہتے ہیں کہ ’’ڈونگر پور میں سبز ماربل، سفید ماربل، سوپ اسٹون، زنک اور دیگر معدنیات کے لیے ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ ہمارا پورا ماحولیاتی نظام تباہ ہو گیا ہے۔ سیتا ماتا وائلڈ لائف سینکچوری سے نکلنے والی جاکھم ندی، جو وہاں پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اب مقامی آدیواسیوں کی پہنچ سے دور ہے؛ اور انہیں پینے کا پانی بھی نصیب نہیں۔ لیکن کان کنی کرنے والوں کے لیے پانی کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘

اراولی دنیا کے قدیم ترین پہاڑی سلسلوں میں سے ایک ہے، جس کی عمر 2 سے 3 ارب سال مانی جاتی ہے۔ گجرات سے ہریانہ تک پھیلی یہ پہاڑیاں آب و ہوا کے توازن کو برقرار رکھنے کا کام کرتی ہیں۔ بارش لانے والی مانسون ہواؤں کو شمالی ہندوستان کی طرف لے جانے اور ہریانہ، دہلی، اتر پردیش کے بعض حصوں جیسے شمالی علاقوں کو ریگستان بننے سے روکنے میں رکاوٹ بن کر کھڑی ان پہاڑیوں کا اہم کردار ہے۔ اراولی رینج میں بے خوف کان کنی اب عام بات ہو گئی ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے، جس میں بلندی کی بنیاد پر ایک محدود تعریف کو منظوری دی گئی تھی، اسے تباہ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ مل جاتی۔ اگر ان پہاڑیوں کے تقریباً 90 فیصد حصے سے تحفظ ہٹا لیا جائے تو بڑے بڑے علاقے تباہ کن کان کنی اور رئیل اسٹیٹ قبضوں کے لیے کھل جائیں گے۔


نئی تعریف طے کرنے والے فیصلے کی زبردست مخالفت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے ہی حکم پر روک لگا کر ایک نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت دی۔ لیکن بدقسمتی سے اس میں صرف سرکاری افسران شامل تھے، کوئی آزاد رکن نہیں تھا۔ اب ماہرین ماحولیات اور کارکنوں نے ہندوستان کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ اراؤلی پہاڑیوں کی تعریف طے کرنے کے لیے ایک نئی آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔ پہاڑیوں کی تعریف سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت تین ریاستوں میں ماحولیاتی نظام کی تباہی اور لاکھوں لوگوں کے سانس کی بیماریوں، سلیکوسس اور آلودگی سے متعلق بیماریوں کی زد میں آنے سے بے پروا ہے، لیکن کان کنی اور رئیل اسٹیٹ لابی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔