یوگی راج میں قانون کی حکمرانی کہاں تلاش کریں؟...کرشن پرتاپ سنگھ

اتر پردیش میں ’ٹھوک دو‘ اور ’بلڈوزر راج‘ کی پالیسی پر عدالتوں کی تنبیہات، این ایس اے کے استعمال اور پولیس مڈبھیڑوں کے اعداد نے قانون کی حکمرانی، شہری آزادی اور انتظامی جواب دہی پر سوال اٹھائے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

اتر پردیش میں 2017 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کو اپنی شناخت بنایا۔ ’ٹھوک دو‘ اور ’بلڈوزر ایکشن‘ جیسے الفاظ بھی اسی سیاسی و انتظامی طرزِ عمل کے ساتھ عوامی گفتگو کا حصہ بنے۔ حکومت کی طرف سے اسے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں قانون کی حکمرانی، پولیس کے اختیارات اور شہری آزادیوں سے متعلق سوالات بھی مسلسل اٹھتے رہے ہیں۔

اگر نو برس سے زیادہ عرصے سے جاری اس سخت گیر کارروائی سے عام شہریوں کی جان و مال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہوئی ہوتی تو اس کی افادیت پر بحث کا دائرہ مختلف ہوتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں خود حکومتی صفوں سے پولیس کارروائی، انکاؤنٹر اور بلڈوزر ایکشن کے مطالبات کیے گئے۔

گونڈا کے پرسپُر تھانہ علاقے میں نشاد سماج کے سیاسی کارکن ونود ساہنی کے قتل کے بعد ریاستی حکومت میں شامل نشاد پارٹی کے سربراہ اور ماہی پروری کے کابینی وزیر سنجے نشاد نے پولیس سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا اور مبینہ قاتلوں کے انکاؤنٹر اور ان کی جائیدادوں پر بلڈوزر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا یہ مطالبہ اس بحث کو پھر سامنے لے آیا کہ کیا کسی جمہوری نظام میں سزا کا فیصلہ عدالت کے بجائے سیاسی مطالبے یا انتظامی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے؟

اس معاملے میں آزاد سماج پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد نے سنجے نشاد کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ یوں ایک ہی واقعے نے حکومت، پولیس کی کارروائی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق کئی سوالات کو سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔

سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال قانون کے مقررہ دائرے میں کس حد تک ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے اسی سوال کو نہایت واضح انداز میں سامنے رکھا۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور کارکن آکرتی چودھری کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست کا حکم منسوخ کرتے ہوئے اس کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔


عدالت نے کہا کہ حراست کے لیے پیش کیے گئے مواد میں مطلوبہ بنیاد موجود نہیں تھی اور کارروائی میں قانونی تقاضوں کے مطابق ذہن کا استعمال نظر نہیں آیا۔ عدالت نے آکرتی چودھری کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے اور اس رقم کو متعلقہ افسران کی تنخواہوں سے وصول کرنے کی ہدایت بھی دی۔ عدالت نے اس معاملے میں یہ بھی متنبہ کیا کہ اگر انتظامیہ کا یہ طرزِ عمل جاری رہا تو اتر پردیش ایک ’اورولیئن ڈسٹوپیا‘ میں تبدیل ہو سکتا ہے، یعنی ایسا معاشرہ جہاں ریاستی طاقت شہری آزادیوں پر غالب آ جائے۔ عدالت نے سرکاری اہلکاروں کو یہ بنیادی اصول بھی یاد دلایا کہ ان کی وفاداری سیاسی اقتدار کے بجائے آئین کے ساتھ ہونی چاہیے۔

آکرتی چودھری کا معاملہ محض ایک الگ تھلگ عدالتی واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اتر پردیش میں این ایس اے اور گینگسٹر ایکٹ کے استعمال کے طریقۂ کار پر عدالتیں پہلے بھی سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ ایسے معاملات میں بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ سخت قوانین کا استعمال حقیقی عوامی سلامتی کے خطرے کی بنیاد پر ہو رہا ہے یا انتظامیہ مخالف آوازوں اور احتجاجی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے ان کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح پولیس کارروائیوں کے حوالے سے بھی عدالتوں کے تبصرے اہم ہیں۔ گزشتہ برس اپریل میں پرتاپ گڑھ کے کَندھئی تھانے کے ایک معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود گرفتاری اور مبینہ مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا۔ عدالت نے ایسے رویے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس کی وردی کسی اہلکار کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا اختیار نہیں دیتی۔

اتر پردیش میں پولیس مڈبھیڑوں کے اعداد بھی اس بحث کو اہم بنا دیتے ہیں۔ مئی 2026 میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد کے مطابق مارچ 2017 سے نو برس کے دوران ریاست میں 17043 پولیس مڈبھیڑیں ہوئیں، جن میں 289 مبینہ جرائم پیشہ افراد ہلاک اور 34253 گرفتار ہوئے، جبکہ 11834 افراد زخمی ہوئے۔ اسی عرصے میں 18 پولیس اہلکار ہلاک اور 1852 زخمی بھی ہوئے۔


یہ اعداد حکومت کی سخت گیر جرائم مخالف پالیسی کی وسعت ضرور ظاہر کرتے ہیں، لیکن صرف اعداد یہ ثابت نہیں کرتے کہ ہر مڈبھیڑ کس قانونی اور عملی طریقۂ کار کے تحت ہوئی۔ اسی لیے عدالتی نگرانی، آزادانہ تحقیقات اور پولیس کارروائیوں میں شفافیت کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ سمیت عدالتیں مختلف مقدمات میں پولیس کے بیانات، مبینہ مڈبھیڑوں اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ ریاست میں پولیس اور انتظامیہ سیاسی دباؤ سے کس حد تک آزاد رہ کر کام کر رہی ہیں۔ اگر کسی افسر کے لیے قانون اور آئین کے تقاضوں سے زیادہ اہم سیاسی قیادت کی توقعات ہو جائیں تو اس کا براہ راست اثر شہریوں کے بنیادی حقوق پر پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ کا بنیادی فرض حکومت کے ساتھ کام کرنا ضرور ہے، لیکن اس کی قانونی ذمہ داری آئین، قانون اور عدالتی احکامات کی پابندی بھی ہے۔

اتر پردیش میں ’رام راج‘ اور بہتر قانون و انتظام کا دعویٰ بھی اسی تناظر میں پرکھا جانا چاہیے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یوگی حکومت کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں ایسا ماحول قائم ہو گیا ہے کہ 16 سال کی لڑکی بھی زیورات پہن کر رات 12 بجے بلاخوف سڑک پر نکل سکتی ہے۔ اس دعوے کو حکومت کی قانون و انتظام کی کارکردگی کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم خواتین کے خلاف جرائم، عوامی مقامات پر عدم تحفظ اور مختلف واقعات کے بعد اس دعوے کی سیاسی سطح پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔

12 ستمبر کو لکھنؤ میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی پریس کانفرنس کے دوران آزاد صحافی دیا شریواستو کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی صحافتی آزادی کے حوالے سے سوالات کا باعث بنا۔ رپورٹ کے مطابق جب وزیر اعلیٰ صحافیوں کے سوالات لیے بغیر جانے لگے تو دیا نے بلند آواز میں اس پر اعتراض کیا اور سوال پوچھا۔ اس کے بعد ان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور نازیبا زبان استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ انہیں بلڈوزر کی دھمکی دیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔


یہ تمام واقعات ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کیا جرائم کے خلاف سخت کارروائی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کی ضد ہیں؟ اصولی طور پر ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کو جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کا پورا اختیار ہے، لیکن یہ اختیار آئین، قانون، عدالتی نگرانی اور بنیادی حقوق کی حدود میں استعمال ہونا چاہیے۔ مجرم ثابت ہونے سے پہلے کسی شخص کو سزا دینا، جائیداد کو قانونی عمل کے بغیر نشانہ بنانا یا محض سیاسی الزام کی بنیاد پر سخت قوانین نافذ کرنا قانون کی حکمرانی کے بنیادی تصور سے متصادم ہو سکتا ہے۔

اس بحث کا ایک پہلو سماجی انصاف سے بھی جڑا ہے۔ اگر پولیس کارروائیوں، مڈبھیڑوں یا بلڈوزر کارروائیوں کا سب سے زیادہ اثر کمزور، غریب، دلت، محروم یا اقلیتی طبقات پر پڑتا ہے تو اس کے اسباب اور اعداد و شمار کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ کارروائی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کارروائی کا انتخاب کس بنیاد پر ہوا، ثبوت کیا تھے، قانونی طریقۂ کار پر کتنا عمل ہوا اور متاثرہ شخص کو عدالت سے رجوع کرنے کا مؤثر موقع ملا یا نہیں۔

یوگی حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی نے ریاست میں قانون و انتظام کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کے سرکاری اعداد بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف عدالتوں کے متعدد احکامات یہ یاد دلاتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔

آخرکار کسی بھی حکومت کی قانون و انتظام کی کامیابی کا پیمانہ صرف کتنے انکاؤنٹر ہوئے، کتنے افراد گرفتار ہوئے یا کتنی جائیدادیں منہدم کی گئیں، یہ نہیں ہو سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ عام شہری کو انصاف کتنی آسانی سے ملتا ہے، پولیس قانون کے مطابق کام کرتی ہے یا نہیں، عدالتوں کے احکامات پر عمل ہوتا ہے یا نہیں اور حکومت کے ناقدین سمیت ہر شہری کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں یا نہیں۔

’ٹھوک دو‘ یا ’بلڈوزر‘ جیسے الفاظ سیاسی نعرے بن سکتے ہیں، مگر جمہوری ریاست کی بنیاد نعروں پر نہیں بلکہ آئین، قانون اور ادارہ جاتی جواب دہی پر ہوتی ہے۔ اتر پردیش میں حالیہ عدالتی مداخلتیں اسی بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ اگر ریاست واقعی قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا چاہتی ہے تو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ ضروری یہ ہوگا کہ پولیس، انتظامیہ اور سیاسی اقتدار سب خود کو آئین کے سامنے جواب دہ سمجھیں۔ یہی وہ معیار ہے جس پر کسی بھی ’رام راج‘ یا بہتر قانون و انتظام کے دعوے کو پرکھا جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔