جب جنگ ہندوستانی گاؤں تک پہنچ گئی... جے دیپ ہاردیکر
سانگوی کے ٹرک مالکان کے لیے یہ جنگ کوئی جیوپولٹیکل رجحان نہیں ہے۔ اس کی پیمائش ڈیزل کے بلوں، بیمہ پریمیم، ڈیلیوری شیڈول اور ٹرانسپورٹیشن خرچ میں ہوتی ہے اور یقیناً جنگ ان پر چوطرفہ شکنجہ کس رہی ہے۔

ایک دوپہر میری ملاقات مہاراشٹر کے دھاراشیو ضلع کے خشک سالی سے متاثرہ قصبہ ’بھوم‘ میں ایک ایسے کسان سے ہوئی جو اپنی موٹر سائیکل پر ڈیزل سے بھرے 2 گیلن باندھ کر پٹرول پمپ سے باہر نکل رہا تھا۔ واکواڑ گاؤں کے تُکارام مسال کے پاس 2 ٹریکٹر ہیں۔ بوائی کے دوران وہ انہیں پڑوسی کسانوں کو کرائے پر دے کر اپنی چھوٹی سی زمین اور ڈیری کاروبار سے ہونے والی کم آمدنی کی تلافی کرتے ہیں۔ لیکن اس سال ڈیزل حاصل کرنا خود ایک کام بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کو ڈھونڈتے رہنا پڑتا ہے۔ پمپ تھوڑا تھوڑا ڈیزل دیتے ہیں۔ آپ کسی ایک جگہ پر منحصر نہیں رہ سکتے۔‘‘
خریف کی بوائی کا موسم قریب ہے۔ مہاراشٹر کے بعض حصوں میں مانسون آ چکا ہے۔ پھر بھی گفتگو کا موضوع صرف بارش اور فصل نہیں ہے۔ ڈیزل، کھاد، مال برداری کا خرچ، شپنگ روٹس اور برآمدی منڈیاں بھی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ وجہ ہزاروں کلومیٹر دور ہے! مغربی ایشیا کی جنگ نے دیہی علاقوں کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ہندوستان میں پیاز کی راجدھانی کہلانے والے ضلع ناسک میں اس بحران نے ایک خاص شکل اختیار کر لی ہے۔
3 دہائیوں میں ناسک کی پیاز معیشت گھریلو اور بین الاقوامی منڈیوں کے پھیلاؤ کے ساتھ پروان چڑھی۔ پیاز کی پیداوار، ذخیرہ کاری اور نقل و حمل کے گرد پوری مقامی معیشتیں ترقی کر گئیں۔ ناسک میں 22 اے پی ایم سی ہیں، جو کروڑوں کا کاروبار کرتی ہیں۔ کسانوں نے ذخیرہ گاہوں، آبپاشی، مشین کاری، ٹریکٹرز، گاڑیوں، بہتر گھروں اور بہتر تعلیم میں سرمایہ کاری کی۔ کسان سے تاجر بننے والوں نے خلیج، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر مقامات تک پھیلا ہوا نیٹ ورک قائم کیا۔ نوجوان کسان-تاجر تشار داونگے، جو انگور بھی اگاتے ہیں، نے بتایا کہ وہ اپنے وسیع گھر اور خوش حالی کے لیے پیاز کے مرہون منت ہیں۔ لیکن اس سال اس خوش حالی کی بنیاد ہل گئی ہے۔
فروری اور مارچ میں ہونے والی بے موسم بارش نے فصلوں کو نقصان پہنچایا۔ گرمیوں کی پیاز، جو ناسک کی سب سے اہم تجارتی فصل ہے، محفوظ نہیں رکھی جا سکی۔ جو کسان عموماً مہینوں تک پیاز ذخیرہ کرتے اور انہیں قسطوں میں فروخت کرتے تھے، وہ اس خوف سے پیداوار منڈی لے جانے پر مجبور ہوئے کہ وہ سڑ جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ پیاز نے پہلے اتار چڑھاؤ نہیں دیکھے ہیں، لیکن اس بار کی بحرانی فروخت بار بار کی پالیسی تبدیلیوں اور عالمی غیر یقینی صورت حال سے متاثر تھی۔
کلون تعلقہ کے اوتور گاؤں میں 10 ایکڑ پر کاشت کرنے والے 41 سالہ بھگوان مورے کو مئی کے آخر میں اپنی فصل 11 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنی پڑی، جو لاگت سے کم از کم 10 روپے کم تھی۔ 5 ایکڑ کے کسان 29 سالہ سمادھان تاکتے نے 25 روپے کے معمول کی قیمت کے بجائے 11.50 روپے میں 30 کوئنٹل پیاز فروخت کی۔ ناسک کے ونی مارکیٹ یارڈ میں انہوں نے مجھ سے تھکے اور مایوس لہجے میں کہا کہ ’’یہ بہت بڑا نقصان ہے۔‘‘ کچھ کسانوں کو مارچ اور اپریل میں اپنی پیداوار صرف 1 روپیہ فی کلو تک کی کم قیمت پر بھی فروخت کرنی پڑی۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور یورپی منڈیوں نے پہلے ہی ہماری پیاز کی درآمد بند کر دی، کوئی نئی منڈی ملی نہیں، اور خلیج کی موجودہ منڈیاں جنگ کے سبب رسد میں رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی وابستگیوں سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔
شمالی مہاراشٹر کے کئی حصوں میں احتجاج شروع ہو گئے۔ کسانوں نے سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد مرکزی خریداری ادارے نافیڈ نے اعلان کیا کہ وہ کسانوں سے پیاز خریدے گا۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ صرف موسم ہی اس بحران کی ہولناکی کو بیان نہیں کرتا۔ ناسک کی بہترین پیاز روایتی طور پر بیرون ملک، خاص طور پر خلیج میں خریدی جاتی ہے۔ اضافی پیداوار کی برآمد سے کسانوں کو بہتر قیمت مل جاتی تھی۔ لیکن اس سال تاجروں اور برآمد کنندگان کو متاثرہ منڈیوں، بڑھتے ہوئے مال برداری خرچ، شپنگ شیڈول کی غیر یقینی صورت حال اور سکڑتے ہوئے منافع کا سامنا ہے۔ تاجروں کو مال برداری کے خرچ اور شپنگ میں تاخیر پر گفتگو کرتے سن کر کوئی بھی حیران ہو سکتا ہے کہ کیا یہ زرعی علاقہ ہے؟ ایشیا کی سب سے بڑی پیاز منڈیوں میں سے ایک لاسلگاؤں میں کسان اور تاجر کنٹینر کی بڑھتی ہوئی لاگت اور برآمدی آرڈرز میں سستی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ داونگے سمیت تمام کسانوں، تاجروں اور برآمد کنندگان نے کہا کہ وہ اس سال کوئی خطرہ مول نہیں لے رہے، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے مہینوں میں قیمتیں بہتر نہیں ہوں گی۔ جن کسانوں نے اپنی بہترین پیاز سائیلوز میں رکھی ہوئی ہے، وہ شاید لاگت بھی وصول نہ کر پائیں۔
تبدیلی کی کہانی
دہائیوں تک دیہی ہندوستان کو ایسی دنیا کے طور پر دیکھا جاتا تھا جسے مانسون، مقامی منڈیاں اور سرکاری پالیسی تشکیل دیتی تھیں۔ آج ایک چھوٹے سے گاؤں کے کھیت میں اگنے والی فصل بین الاقوامی سپلائی چینوں، شپنگ نیٹورکس اور جغرافیائی سیاسی پیش رفتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ پیاز کا کسان شاید کبھی کسی خلیجی ملک نہ گیا ہو، لیکن اس کی روزی روٹی تیزی سے اسی پر منحصر ہوتی جا رہی ہے۔ لاسلگاؤں اے پی ایم سی کے ڈائریکٹرز میں سے ایک اور معروف ماہر پیاز جے دت ہولکر نے ناسک میں مجھ سے کہا کہ ’’ایک مستقل درآمد-برآمد پالیسی ضروری ہے اور ہمیں فوری طور پر نئی غیر ملکی منڈیاں تلاش کرنی چاہئیں کیونکہ ہماری قابل اعتماد منڈیاں سیر ہو چکی ہیں اور بنگلہ دیش جیسے ممالک خود پیاز اگا رہے ہیں۔‘‘
یہاں سے کئی سو کلومیٹر دور، ضلع بیڑ کے سارنی سانگوی گاؤں میں ایک اور معیشت اسی حقیقت کو آشکار کرتی ہے۔ سانگوی خشک سالی سے متاثرہ مراٹھواڑہ خطے میں واقع ہے، جہاں کاشت کاری غیر یقینی رہی ہے اور اسی وجہ سے نقل مکانی ہوتی رہی۔ نسلوں سے کئی خاندان گنا کاٹنے والے مزدور یا موسمی مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ پھر نقل و حمل نے سب کچھ بدل دیا۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ساتھ ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام کرنے والے نوجوانوں نے کاروبار کی طرف بڑی چھلانگ لگائی۔ ایک ٹرک سے 3 ہوئے، اور پھر 3 سے 10۔ آج درجنوں خاندانوں کے پاس ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے اور اس غیر متوقع لاجسٹکس مرکز سے سینکڑوں ٹرک چلائے جاتے ہیں۔ سبھاش بکڑ اس کے پیشروؤں میں تھے۔ برسوں ٹرک چلانے کے بعد انہوں نے اپنا بیڑا تیار کیا اور بہت سے لوگوں کو ترغیب دی۔ بکّڑ نے کہا لپ ’’جب میں نے ایک دہائی سے زیادہ پہلے کاروبار شروع کیا تھا، ڈیزل تقریباً 50 روپے فی لیٹر تھا۔ آج یہ تقریباً دوگنا ہے۔‘‘ گزشتہ ایک ماہ کے دوران، جب سے 5 ریاستوں کے انتخابات ختم ہوئے ہیں، مرکز نے 5 قسطوں میں ایندھن کی قیمتیں بڑھائی ہیں۔ سانگوی کے ٹرک مالکان کے لیے یہ جنگ کوئی مجرد جغرافیائی سیاسی واقعہ نہیں ہے۔ اس کی پیمائش ڈیزل کے بلوں، انشورنس پریمیم، ترسیل کے نظام الاوقات اور آپریشنل لاگت میں ہوتی ہے۔ ان کی تشویش ناسک میں سنائی دینے والی تشویش سے مطابقت رکھتی ہے۔ ایک پیاز برآمد کنندہ اور ایک ٹرک آپریٹر الگ الگ دنیا کے لوگ دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن دونوں ایک ہی بنیادی ڈھانچے (سڑکوں، بندرگاہوں، جہازوں، ایندھن اور لاجسٹکس نیٹورک) پر انحصار کرتے ہیں۔ جب اس نظام میں عدم استحکام آتا ہے تو دونوں اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔
شمالی اور وسطی مہاراشٹر کے اپنے دوروں کے دوران جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ گھبراہٹ نہیں بلکہ نازک صورت حال تھی۔ ہر جگہ لوگ ایک ہی سوال مختلف انداز میں پوچھتے ملے– اگر حالات مزید بگڑ گئے تو کیا ہوگا؟ بوائی سے پہلے کسان ایندھن اور کھاد کی فراہمی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ تاجر منڈیوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ٹرانسپورٹر بڑھتی ہوئی لاگت کے بارے میں فکرمند ہیں۔ بہت سے لوگ موسم کے بارے میں فکرمند ہیں۔ گزشتہ سال سیلاب کے باعث مراٹھواڑہ کی کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی تھیں اور گھر برباد ہو گئے تھے۔ اس سال ال نینو کے امکان نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
دیہی مہاراشٹر کا بڑا حصہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے نتائج سے نبرد آزما ہے۔ ہندوستان کے بے شمار علاقوں کی یہی کہانی ہے۔ زرعی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے اور زرعی آمدنی غیر مستحکم ہے۔ زراعت کے باہر دیہی روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اس پس منظر میں مغربی ایشیا کا تنازعہ کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ پہلے سے موجود نازک صورت حال کو مزید گہرا کرتا ہے۔
جب میں بھوم سے روانہ ہو رہا تھا، توکارام مسال اپنی موٹر سائیکل کے دونوں جانب ڈیزل کے ڈبوں کو متوازن کرتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کے 2 دوستوں نے بھی ایسا ہی کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
